Main Icon

باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 613

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْاَ کْوَ عِ رَضِيَ الله عَنْهُ اَ نَّ رَجُلاً اَكَلَ عِنْدَ رَسُوْلِ الله ِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ فَقَالَ:كُلْ بِيَمِينِكَ، قَالَ:لَا اَسْتَطِيعُ ،قَالَ: لَا اسْتَطَعْتَ،مَا مَنَعَهُ اِلَّا الْكِبْرُ،قَالَ:فمَا رَفَعَهَا اِلٰی فِيهِ.

عن سلمة بن الا کو ع رضي الله عنه ا ن رجلا اكل عند رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بشماله فقال:كل بيمينك، قال:لا استطيع ،قال: لا استطعت،ما منعه الا الكبر،قال:فما رفعها الی فيه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناسَلَمہ بن اَکْوَعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہےکہ ایک شخص نے حضورنبی مکرّمصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی موجودگی میں اُلٹے ہاتھ سےکھانا کھایا توآپصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’سیدھے ہاتھ سے کھا۔‘‘اس نے کہا :’’میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘فرمایا:’’تو کبھی طاقت نہ رکھے۔‘‘ (راوی فرماتے ہیں کہ) تکبر نے اسے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکاحکم ماننے سے منع کیاتھا۔پھر وہ کبھی اپنا سیدھا ہاتھ منہ کی طرف نہ اُٹھا سکا۔

شرح حدیث

تکبر کاوبال:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:اس شخص کا نام بُسْر بن راعی العیر تھا ۔کئی علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے انہیں صحابی شمار کیا ہے۔قاضی عیاضعَلَیْہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَہّابفرماتےہیں کہ”حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی بات تکبر کی وجہ سے نہ ماننا اس کےمنافق ہونے پر دلیل ہے ۔“لیکن اُن کا یہ قول صحیح نہیں کیونکہ محض تکبر اورحکمِ نبی کی خلاف ورزی سے کفر یانفاق ثابت نہیں ہوتا، ہاں !یہ گناہ ضرور ہے۔حدیثِ مذکور میں بِلا عذرحکمِ شرعی کی مخالفت کرنے والے کے لئے بد دعا کا جواز ہے ۔حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر حال میں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چاہیے، کھانے کے دوران بھی بوقت ضرورت نیکی کی دعوت دینی چاہیے۔اگر کوئی کھانے کے آداب کا لحاظ نہ رکھ رہا ہو تو اسے آداب سکھانا مستحب ہے۔‘‘حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور میں دعائے نبوی کی قبولیت اورحکم ِ نبی کی مخالفت کی دُنیوی سزا کا بیان ہے۔ چونکہ اس شخص نےفرمانِ عالی سن کرتابعداری اورعاجزی کرنے کے بجائے تکبر سے کام لیا اس لئے آپصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےاس کے لئے دعائے ضَرَر فرمائی۔“اعضاء بھی زیرفرمان ہیں:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: زمانہ ٔ جاہلیت میں سردار لوگ الٹے ہاتھ سے کھاتے تھے،معمولی آدمی داہنے ہاتھ سے۔یہ شخص کوئی سردار تھا جو اس مُتکبرانہ عادت سے الٹے ہاتھ سے کھارہا تھا۔ اس نے شرمندگی مٹانے کے لئے کہا کہ میرا داہنا ہاتھ بیمار ہے منہ تک نہیں پہنچتا۔اسی پر یہ جواب ارشاد ہوا یعنی اب تک تو منہ تک آتا تھا اب نہ آسکے گا۔معلوم ہوا کہ لوگوں کے اعضاء بھی حضورصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے زیرِفرمان ہیں۔ وہ شخص علاج کرتے کرتے تھک گیا مگر اس کا ہاتھ منہ تک نہ اٹھ سکا۔تکبرموذی مرض ہے:حدیثِ مذکور میں ایک شخص کے تکبر( غرور ) کا بیا ن ہے ۔تکبُّروہ موذی مرض ہےجواپنے ساتھ دیگر کئی برائیاں لاتااور کئی اچھائیوں سے محروم کردیتاہے۔چنانچہحُجَّۃُالْاِسْلَامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامدمحمد بن محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیفرماتے ہیں:”تکبرکرنے والاان برائیوں میں مبتلا ہوتا ہے:جواپنے لئے پسند کرتا ہے وہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے پسند نہیں کرسکتا، عاجزی اختیار نہیں کرتاحالانکہ یہ تقویٰ وپرہیزگاری کی جڑ ہے، کینہ سے نہیں بچ سکتا،اپنی عزت بچانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے،جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑ سکتا،حسد سے نہیں بچ سکتا،کسی سے خیرخواہی نہیں کرسکتا،دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے،لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔الغرض غرور کرنے والااپنا بھرم رکھنے کے لئے ہربُرائی پر مجبور اور ہر اچھے کام سے محروم رہتاہے۔‘‘مدنی گلدستہ’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانا سنت مبارکہ ہے۔
(2) بزرگانِ دِین کا حکم ماننے ہی میں عافیت اور دِین ودُنیا کی بھلائی ہے۔
(3) جھوٹے حیلے بہانوں کی وجہ سے انسان خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
(4) لوگوں کی عبرت کے لئے عبرتناک واقعات بیان کرناجائز ہے لیکن بِلا وجہِ شرعی کسی مسلمان کی تعیین نہ کی جائےبلکہ یوں کہا جائے کہ”ایک شخص نے یہ برائی کی تو اس کا یہ انجام ہو ا۔“ یا کوئی اور مناسب حکمت بھرا انداز اختیار کیا جائے ۔
(5) تکبر ایسی بُری خصلت ہے جو کئی گناہوں کی جامع اور کتنی ہی نیکیوں سے مانع ہے لہٰذا اس سے کوسوں دور بھاگنا چاہیےاور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔
(6) حسبِ موقع اچھے انداز میں لوگوں کی اِصلاح ضرور کرنی چاہیے۔
(7) بزرگوں کی بے ادبی اور اُن کی بد دعا سے بچنا چاہیے ورنہ خسارہ ہی خسارہ ہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی اطاعت و فرمانبرداری اور بزرگانِ دِین کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اوراَحکامِ شرعیہ کی بجاآوری میں سُستی و کاہلی سےمحفوظ ومامون رکھے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 613