حدیث مبارکہ
عَنْ سَلَمةَ بْنِ الاَ كْوَعِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهِ حَتّٰى يُكْتَبَ في الْجَبَّارِيْن، فَيُصِيْبُهُ مَا اَصَابَهُمْ.
عن سلمة بن الا كوع رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم:لا يزال الرجل يذهب بنفسه حتى يكتب في الجبارين، فيصيبه ما اصابهم.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا سلمہ بن اَکوعرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’بندہ مسلسل تکبر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے جَبّارین(متکبرین) میں لکھ دیا جاتا ہے پھر اسے وہ چیز پہنچتی ہے جو ان متکبرین کو پہنچی ۔‘‘
شرح حدیث
ہلاکت دو چیزوں میں ہے:حضرت سیدنا ابن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ہلاکت دو چیزوں میں ہے: (1)مایوسی(2) اور خودپسندی۔ یعنی مایوس شخص اعمال کے نفع سے ناامید ہوتا ہے جس کا لازمی اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اعمال ہی چھوڑ دیتاہے۔ اور خودپسندی کا شکار اپنے آپ کوخوش بخت وکامیاب سمجھتاہےاورعمل سےدورہوجاتاہے۔فرمانِ خداوندی ہے: (فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠(۳۲))(پ۲۷،النجم:۳۲) ترجمۂ کنزالایمان:’’تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پر ہیز گار ہیں۔‘‘عاجزی وانکساری مفید ہے:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!جو شاخ جتنے زیادہ پھلوں والی ہواس میں اتنا ہی زیادہ جُھکاؤ ہوتا ہے اسی طرح جو بارگاہ الہٰی میں جتنا زیادہ مقبول ہو اس میں اتنی ہی زیادہ عاجزی واِنکساری ہوتی ہے۔جس عمل کے بعد تکبر پیدا ہو جائے وہ چاہے پہاڑ جتنا بھی ہو قابلِ تعریف نہیں بلکہ باعثِ گرفت ہے جبکہ عاجزی واِنکساری کے ساتھ تھوڑا ساعمل بھی فائدہ مندہے۔ اس ضمن میں دو اَقوال ملاحظہ فرمائیے:(1)حضرت سیدنا مُطَرِّفرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”اگرمیں رات سو کر گزاروں اور صبح کو اس پر ندامت محسوس کروں تویہ میرے لئے رات بھر عبادت کرنے اور صبح اس پر خوش ہونے سے زیادہ پسند ہے۔“(2)حضرت سیدنا بشربن منصورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَفُوْرنے ایک مرتبہ طویل نماز پڑھی ایک شخص آپ کو دیکھ رہا تھا آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے سلام پھیرا اورفرمایا: ”تم میرے اس عمل پر تعجب نہ کرنا کیونکہ ابلیس نے ایک طویل مدت تک ملائکہ کے ساتھاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کی مگر پھر بھی مَردود ہو گیا۔“تکبر کے آٹھ اَسباب وعلاج:(1)تکبر کا پہلا سبب علم ہے کہ بعض اوقات اِنسان کثرتِ علم کی وجہ سے بھی تکبر کی آفت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہمُعَلِّمُ الْمَلَکُوْتکے منصب تک پہنچنے والے شیطان کے انجام کو یاد رکھے کہ اس نے تکبر کرتے ہوئے اپنے آپ کو حضرت سیِّدُنا آدمعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ السَّلَامسے افضل قرار دیا تھا مگر اسے اس تکبر کے نتیجے میں قیامت تک کی ذلت ورسوائی ملی اور وہ جہنم کا حقدار ٹھہراکہیں یہ تکبر ہمیں بھی تباہ و برباد نہ کردے۔(2) تکبر کا دوسرا سبب عبادت وریاضت ہے کہ بندہ کثیر عبادت وریاضت کے سبب اس مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سوچے میں اگر بہت زیادہ عبادت کرتا ہوں تو اس میں میرا کیا کمال ہے؟یہ تو ربّ تعالیٰ کا کرم ہے،نیز عبادت تو وہی مفید ہوگی جس میں نیت درست ہو، تمام شرائط پائی جاتی ہوں، کیا خبر یہ عبادت جس پر میں گھمنڈ کررہا ہوں وہ میرے اس تکبر کے سبب ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہونے کے بجائے مردوو ہوجائے اور جنت میں داخلے کے بجائے جہنم میں داخلے کا سبب بن جائے۔(3) تکبر کا تیسرا سبب مال ودولت ہے کہ جس کے پاس کار، بنگلہ، بینک بیلنس اور کام کاج کے لیے نوکر چاکر ہوں وہ بھی بسا اوقات تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اس بات پر یقین رکھے کہ ایک دن ایسا آئے گا کہ اسے یہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر خالی ہاتھ دنیا سے جانا پڑے گاپھر قبر کو نیکیوں کا نور روشن کرے گا نہ کہ سونے چاندی اور مال ودولت کی چمک دمک۔ لہٰذا اس فانی اور ساتھ چھوڑ جانے والی شے کی وجہ سے تکبر میں مبتلا ہو کر اپنے ربّ کو کیوں ناراض کیا جائے؟(4) تکبر کا چوتھا سبب حسب ونسب ہےکہ بندہ اپنے آباء واجداد کے بل بوتے پر اکڑتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنا یہ مدنی ذہن بنائے کہ دوسروں کے کارناموں پر گھمنڈ کرنا عقلمندی نہیں بلکہ جہالت ہے اور آباء اوجداد پر فخر کرنے والوں کے لیے جہنم کی وعید ہے۔ چنانچہ نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اپنے فوت شدہ آباؤ اَجداد پر فخر کرنے والی قوموں کو باز آجانا چاہیے کیونکہ وہی جہنم کا کوئلہ ہیں، یا وہ قومیںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک گندگی کے اُن کیڑوں سے بھی حقیر ہوجائیں گی جو اپنی ناک سے کندگی کو کریدتے ہیں،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے تم سے جاہلیت کا تکبر اور ان کا اپنے آباء پر فخر کرنا ختم فرمادیا ہے، اب آدمی متقی ومومن ہوگا یا بدبخت وبدکار، سب لوگ حضرت آدم (عَلَیْہِ السَّلَام) کی اولاد ہیں اورحضرت آدم (عَلَیْہِ السَّلَام) کو مٹی سے پیدا کیا گیاہے۔‘‘( )(5) تکبر کا پانچواں سبب عہد ہ ومنصب ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنا یہ ذہن بنائے کہ فانی پر فخر نادانی ہے کیونکہ عزت ومنصب کب تک ساتھ دیں گے؟ جس منصب کے بل بوتے پر آج اکڑتے ہیں، کل کو چھن گیا تو انہی لوگوں سے منہ چھپانا پڑے گا جن سے آج تحقیر آمیز سلوک کرتے ہیں۔ آج جن لوگوں پر چیخ چیخ کر حکم چلاتے ہیں ہوسکتا ہے کل ان سے ہی کوئی ایسا کام پڑجائے جو ہمارے تکبر کو خاک میں ملا دے۔اس لیے کیسا ہی منصب یا عہدہ مل جائے اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہیے۔(6) تکبر کا چھٹا سبب کامیابی وکامرانی ہےکہ جب کسی کو پے درپے کامیابیاں ملتی ہیں تو وہ ناکام ہونے والے لوگوں کو حقیرسمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ یہ نہ بھولے کہ وقت ایک سا نہیں رہتا، بلندیوں پر پہنچنے والوں کو اکثر واپس پستی میں بھی آنا پڑتا ہے، ہرکمال کو زوال ہے، کامیابی پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنا چاہیے نہ کہ اسے اپنا کمال تصور کرتے ہوئے دوسروں کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ (7) تکبر کا ساتواں سبب حسن وجمال ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنی ابتداء وانتہاء پر غور کرے کہ میرا آغاز ناپاک نطفہ اور انجام سڑا ہوا مردہ ہونا ہے، نیز عمر کے ہر دور میں حسن یکساں نہیں رہتا بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی ماند پڑجاتاہے، یہ بھی پیش نظر رکھے کہ میرے اسی حسن وجمال والے بدن سے روزانہ پیشاب، پاخانہ، بدبودار پسینہ، میل کچیل اور دیگر گند نکلتا ہے، میں اپنے ہاتھوں سے پاخانہ وپیشاب صاف کرتا ہوں تو کیا اِن چیزوں کے ہوتے ہوئے فقط ظاہری حسن وجمال پر تکبر کرنا زیب دیتا ہے؟ یقیناً نہیں۔(8)تکبر کا آٹھواں سبب طاقت وقوت ہے کہ جس کا قد کاٹھ اچھا ہو اور سینہ چوڑا ہو تو وہ بسا اوقات کمزور جسم والے کو حقیر سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ اپنے نفس کا یوں محاسبہ کرے کہ طاقت وقوت اور پھرتی تو جانوروں میں بھی ہوتی ہے بلکہ انسان سے زیادہ ہوتی ہے تو پھر اپنے اندر اور جانوروں میں مشترکہ صفت پر تکبر کرناکیسا؟ حالانکہ ہمارے جسم کی طاقت وقوت کا تو یہ حال ہے کہ تھوڑا سا بیمار ہوجائیں تو طاقت کا سارا نشہ اتر جاتا ہے، معمولی سی گرمی برداشت نہیں ہوتی، اگر خدانخواستہ اس تکبر کی وجہ سے کل بروزِ قیامت ربّ تعالیٰ ناراض ہوگیا اور جہنم میں شدید آگ کا عذاب دیا گیا تو اُسے کیسے برداشت کریں گے؟مدنی گلدستہ’’تکبرسےبچو ‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول
(1) تکبرسے باز نہ آنے والے کو جبارین میں لکھ دیا جاتاہے اور انہیں کی طرح عذاب دیا جائے گا۔
(2) عبادت وہی مفید ہے جس میں نیت درست ہو۔
(3) جسے اِیما ن کی سلامتی ، آخرت کی تیاری اور رضائے الٰہی کی جستجو ہو وہ تکبر جیسی ہلاکت خیز بیماری سے محفوظ رہتا ہے ۔
(4) مایوسی اور خود پسندی باعث ہلاکت ہیں کہ ان کے بعد انسان اعما ل صالحہ سے رُک جاتاہے ۔
(5) رات بھر سوئے رہنے پر ندامت محسوس کرنااس شب بیداری سے بہتر ہے جس پرتکبر کیا جائے ۔
(6) اپنے علم و مرتبے پر غرور کرنے والے کو ابلیس لعین کے انجام پر غور کرنا چاہیے۔
(7) مسلسل دنیوی کامیابیوں پرغرور نہیں کرنا چاہیے کہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ،کیاخبر کل کسی ایسی ناکامی سے واسطہ پڑے کہ جس کے سامنے سابقہ سب کامیا بیاں بے کار محسو س ہوں ۔
(8) حسن وجمال پر غرور کرنے والا اگر اپنی پیدائش کے مراحل اور مرنے کے بعد قبر میں گلنے سڑنے کو یاد کرے توتکبر سے نجات پا سکتاہے ۔
(9) جسے اپنی صحت وطاقت پر غرور ہو اسے چاہیے کہ جانوروں کی صحت و طاقت کے بارے میں سوچے کیونکہ جانوروں میں انسانوں سے زیادہ طاقت ہوتی ہے تو پھر ایسی صفت پر کیسا تکبر جو جانوروں میں بھی پائی جاتی ہو۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں غرور وتکبر جیسے تمام کبیرہ گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 620