Main Icon

باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 615

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيْ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: اِحْتَجَّتِ الجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: فيَّ الْجَبَّارُوْنَ والمُتَكَبِّرُونَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فِیَّ ضُعَفَآءُ النَّاسِ وَ مَسَاکِیْنُہُمْ. فَقَضَى اللهُ بَيْنَهُمَا: اِنَّكِ الْجَنّةُ رَحْمَتِي، اَرْحَمُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ، وَ اِنَّكِ النَّارُعَذَابِي، اُعَذِّبُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ، وَلِكِلَيْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا.

عن ابي سعيد الخدري رضی اللہ عنہ عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: احتجت الجنة والنار، فقالت النار: في الجبارون والمتكبرون وقالت الجنة: فی ضعفاء الناس و مساکینہم. فقضى الله بينهما: انك الجنة رحمتي، ارحم بك من اشاء، و انك النارعذابي، اعذب بك من اشاء، ولكليكما علي ملؤها.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے، حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جنت اور جہنم نے مناظرہ کیاتو جہنم نے کہا:مجھ میں جابر اور متکبر لوگ ہیں۔ جنت نے کہا:مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ ہیں۔پھراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا کہ اے جنت!بے شک! تومیری رحمت ہے،تیرے ذریعے میں(اپنے بندوں میں سے ) جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا اور اے جہنم!بے شک تومیرا عذاب ہے ،تیرے ذریعے میں(اپنی مخلوق میں سے) جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میراکام ہے۔‘‘

شرح حدیث

جنت وجہنم کی پیدائش وکیفیتِ مناظرہ:مرقاۃُ المفاتیح میں ہے:اہلسنت وجماعت کاا س بات پر اتفاق ہے کہ جنت اور دوزخ پیدا ہوچکی ہیں۔ حکیم الاُمّت مفتی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانحدیثِ مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (جنت اور دوزخ کا مناظرہ ہوا )یہاں قولی زبانی مناظرہ مراد ہے نہ کہ صرف حال کا،اللّٰہ(عَزَّ وَجَلَّ) نے ہر چیز میں حواس و شعورِکلام پیدافرمایاہے: (وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ)(پ۱۵،بنی اسرائیل:۴۴)(ترجمۂ کنزالایمان: اور کوئی چیز نہیں جو اسے سراہتی(تعریف کرتی) ہوئی اس کی پاکی نہ بولے۔)(دوزخ نے کہا:مجھ میں جابراور متکبر ہیں)یعنی اے جنت میں تجھ سے اعلیٰ ہوں کہ مجھ میں اعلیٰ شاندار لوگ آکر رہیں گے بادشاہ، وزراء، متکبرین مالدار کفاراور تو مجھ سے کمتر ہے کہ کمترین لوگ ضُعَفَاء تجھ میں رہیں گے۔دوزخ کے کہنے پر جنت نے بارگاہِ الٰہی میں یہ عرض کیا کہ مجھے کمزوروں کی جگہ کیوں بنایا گیا؟خیال رہے کہ ضُعَفَاء (کمزوروں ) سے مراد بدن اور مال کے لحاظ سے کمزور لوگ ہیں۔( ربّ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا:اے جنت!بے شک تومیری رحمت ہے)چونکہ جنتاللّٰہتعالیٰ کی رحمت کا مَظْہَر ہے اوراللّٰہتعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس لیے پہلے اس سے خطاب فرمایا گیا یعنی جنہیں تو ضعیف سمجھتی ہے وہ درحقیقت کمزورنہیں وہ تو میرے رحم و کرم کا مرکز ہیں بڑے درجے والے ہیں۔(دوزخ سے فرمایا: بے شک ! تومیرا عذاب ہے۔)یعنی اے دوزخ! تو میرے غضب وقہر کا مظہر ہے تجھ میں وہ لوگ رکھے جائیں گے جو اپنے شامتِ اعمال کی وجہ سے میرے غضب و قہر کےمستحق ہوگئے،تم دونوں ہی اچھی ہو کہ میری صفات کا مَظہر ہو۔عَذَابِی(تومیرا عذاب ہے)سے مراد ہے عذاب کی جگہ،محلِّ عذاب، عدل بھی میری صفت ہے فضل بھی۔ خیال رہے کہ دوزخ صِرف بدعقیدگی اور بدعملی سے ملے گی مگر جنت کسبی،وَہبی،عطائی تین طرح ملے گی۔اپنی نیکیوں سے جنت ملنا کسبی ہے،کسی نیک کے طفیل ملنا وہبی ہے جیسے مسلمان ماں باپ کے چھوٹے بچے مرے ہوئے یا دیوانہ مسلمان یا ہم جیسے گنہگار حضور کے طفیل،یہ قوم جو جنت بھرنے کے لیے پیدا کی جائے گی انہیں جنت عطائی ملے گی محض فضلِ الٰہی سے۔متکبرین کیلئے جہنم کی وعید:میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!حدیثِ مذکور میں مُتکبرین کے لئے جہنم کی وعید ہے۔ یاد رہے کہ انسان میں تکبر اسی وقت آتا ہے جب وہ اپنی حقیقت کو بھول جائے،تکبر کا وبال اس کے پیشِ نظر نہ ہو،اس پرغفلت کی چادر تنی ہو اور نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو ۔سرکارعَلَیْہِ السَّلَامکا فرمان ہے: ’’بدتر ہے وہ شخص جوتکبر کرے اور حدسےبڑھے اورسب سےبڑے جَبَّارعَزَّ وَجَلَّکو بھول جائے، بدتر ہے وہ شخص جو سركشی کرے اورسب سےبلند اور بڑائی والی ذات کو بھول جائے، بدتر ہے وہ شخص جو غافل ہو اور کھیل کو د میں پڑا رہے اورقبر اور اس میں بوسیدہ ہونے کو بھول جائے۔‘‘تکبر سے بچنے کا انوکھا طریقہ :اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے نیک بندے غرور وتکبر سے کوسوں دور رہتےہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے نفس کو سزا دینے کے لئے اس پر سختی کرتے اوراسے رُسوا کرتے ہیں تاکہ نفس تکبر کی طرف مائل ہی نہ ہو۔چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن سلامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک مرتبہ لکڑیوں کا ایک گٹھا اٹھا یا تو آپ سے عرض کی گئی:”اے ابو یُوسُف!آپ کے ہاں کام کرنے کے لئے نوکر چاکر اور بیٹے موجود ہیں تو آ پ کو کام کرنے کی کیاضروت ہے؟“ آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’میں اپنے نفس کا اِمتحان لے رہاہوں کہ یہ اس کام سے انکار تو نہیں کرے گا۔‘‘غور کیجئے! حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن سلامرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہنے صرف اپنے نفس کے عزم پر اِکتفا نہ کیا بلکہ امتحان بھی لیا کہ وہ جھوٹا ہے یا سچا۔حدیثِ پاک میں ہے:”مَنْ حَمَلَ الْـفَاكِهَةَ اَوِ الشَّیْءَ فَقَدْ بَرِیََٔ مِنَ الْکِبْرِیعنی جوشخص پھل یا کوئی چیز اٹھائے وہ تکبر سے پاک ہے۔“جو دوسروں کو حقیر جانےاو راپنے آپ کو اچھا سمجھے یا کسی بھی طریقے سے ناحق تکبر کرے تو اسے بروزِقیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چنانچہ حُسْنِ اَخلاق کے پیکر،تمام نبیوں کے تاجْوَرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:”جو اپنے آپ کو بڑا جانے یا متکبرانہ چال چلے وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اس حال میں ملے گا کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس پر غضب فرمائے گا۔“مدنی گلدستہ’’رحمتِ رب‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جنت اورجہنم کی تخلیق ہو چکی ہے۔
(2) جنت
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا ورحمت اور اس کی نعمتوں کی مَظہر ہے۔
(3) دوزخ
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے عذاب اور قہر کا مظہر ہے۔
(4) بد تر ہے وہ بندہ جو کھیل کود اور غفلت میں پڑ کر قبر وآخرت کو بھول جائے ۔
(5) بزرگانِ دِین
رَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْننفس کو ذلیل ورُسوا کر کے اسے تکبر سے دور رکھتے ہیں ۔
(6) بروزِ قیامت مُتکبر کو غضبِ الٰہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنی رحمتِ کاملہ سے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 615