- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 5
حضرت سیدنا عبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبر ہووہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی: کوئی شخص یہ پسند کرتاہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں ( تو کیا یہ بھی تکبر ہے )؟ فرمایا :’’بے شک!اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّجمیل ہے، جمال کو پسند فرماتا ہے،تکبر تو حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر جاننے کانام ہے۔‘‘
عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:لَا يَدْخُلُ الجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ. قَالَ رَجُلٌ:اِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ اَنْ يَكُونَ ثَوْ بُهُ حَسَناً، ونَعْلُهُ حَسَنَةً َ؟ قَالَ:اِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ،اَلْكِبْرُ بَطَرُ الحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 612 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناسَلَمہ بن اَکْوَعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمَروی ہےکہ ایک شخص نے حضورنبی مکرّمصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی موجودگی میں اُلٹے ہاتھ سےکھانا کھایا توآپصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’سیدھے ہاتھ سے کھا۔‘‘اس نے کہا :’’میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘فرمایا:’’تو کبھی طاقت نہ رکھے۔‘‘ (راوی فرماتے ہیں کہ) تکبر نے اسے حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکاحکم ماننے سے منع کیاتھا۔پھر وہ کبھی اپنا سیدھا ہاتھ منہ کی طرف نہ اُٹھا سکا۔
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْاَ کْوَ عِ رَضِيَ الله عَنْهُ اَ نَّ رَجُلاً اَكَلَ عِنْدَ رَسُوْلِ الله ِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ فَقَالَ:كُلْ بِيَمِينِكَ، قَالَ:لَا اَسْتَطِيعُ ،قَالَ: لَا اسْتَطَعْتَ،مَا مَنَعَهُ اِلَّا الْكِبْرُ،قَالَ:فمَا رَفَعَهَا اِلٰی فِيهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 613 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : میں نے رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا:’’ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟(سنو)ہر سخت مزاج،بخیل اورخود کو بڑا سمجھنے والا (جہنمی ہے )۔‘‘
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم،يقول: اَلَااُخْبِرُ كُمْ بِاَهْلِ النَّار؟كُلُّ عُتُلٍ جَوّاظٍ مُسْتَكْبرٍ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 614 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے، حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جنت اور جہنم نے مناظرہ کیاتو جہنم نے کہا:مجھ میں جابر اور متکبر لوگ ہیں۔ جنت نے کہا:مجھ میں کمزور اور مسکین لوگ ہیں۔پھراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا کہ اے جنت!بے شک! تومیری رحمت ہے،تیرے ذریعے میں(اپنے بندوں میں سے ) جس پر چاہوں رحم فرماؤں گا اور اے جہنم!بے شک تومیرا عذاب ہے ،تیرے ذریعے میں(اپنی مخلوق میں سے) جس کو چاہوں گا عذاب دوں گا اور تم دونوں کو بھرنا میراکام ہے۔‘‘
عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيْ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ: اِحْتَجَّتِ الجَنَّةُ وَالنَّارُ، فَقَالَتِ النَّارُ: فيَّ الْجَبَّارُوْنَ والمُتَكَبِّرُونَ وَقَالَتِ الْجَنَّةُ: فِیَّ ضُعَفَآءُ النَّاسِ وَ مَسَاکِیْنُہُمْ. فَقَضَى اللهُ بَيْنَهُمَا: اِنَّكِ الْجَنّةُ رَحْمَتِي، اَرْحَمُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ، وَ اِنَّكِ النَّارُعَذَابِي، اُعَذِّبُ بِكِ مَنْ اَشَاءُ، وَلِكِلَيْكُمَا عَلَيَّ مِلْؤُهَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 615 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
حضرت سیدناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّبروزِقیامت ایسے شخص کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند گھسیٹے ۔ “
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ:اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ:لَا يَنْظُرُ اللهُ يَوْمَ القِيَامَةِ اِلٰى مَنْ جَرَّ اِزَارَهُ بَطَراً.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 616 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بروزِ قیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتین قسم کے لوگوں سے نہ کلام فرمائے گا ، نہ انہیں پاک کرے گا، نہ ان کی طرف نظر فرمائے گااور اُن کے لئے درد ناک عذاب ہوگا:بوڑھازانی،جھوٹا بادشاہ، متکبر فقیر۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم: ثَلاَ ثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلاَ يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ،وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيمٌ:شَيْخٌ زَانٍ ،وَمَلِكٌ كَذَّابٌ،وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 617 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:عَظَمت میرا اِزار ( تہبند)اور کبریائی میری چادرہےجو اُن میں سے کسی ایک کے بارے میں بھی مجھ سے جھگڑے گا میں اسے عذاب دوں گا۔‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:قَالَ اللهُ عَزَّوَجَلَّ:اَلْعِزُّ اِزَارِي،وَالْكِبْر يَاءُ رِدَائي،فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 618 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُہی سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ایک شخص عمدہ لباس پہنے ،بالوں میں کنگھی کئے اِتراتا ہواچل رہا تھا اور خود کواچھا سمجھ رہا تھا ،اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے اسے زمین میں دھنسا دیاپس وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّم قَالَ:بَيْنَمَارَجُلٌ يَمشِي في حُلَّةٍ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ،مُرَجِّلٌ رَاْسَهُ،يَخْتَالُ فِي مِشْيَتهِ،اِذْ خَسَفَ اللهُ بِهِ،فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ في الْاَرْضِ اِلٰی يَوْمِ القِيَامَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 619 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
حضرت سیدنا سلمہ بن اَکوعرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’بندہ مسلسل تکبر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے جَبّارین(متکبرین) میں لکھ دیا جاتا ہے پھر اسے وہ چیز پہنچتی ہے جو ان متکبرین کو پہنچی ۔‘‘
عَنْ سَلَمةَ بْنِ الاَ كْوَعِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُول الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم:لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَذْهَبُ بِنَفْسِهِ حَتّٰى يُكْتَبَ في الْجَبَّارِيْن، فَيُصِيْبُهُ مَا اَصَابَهُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 620 ، باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان