Main Icon

باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 617

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم: ثَلاَ ثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ يَوْمَ القِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلاَ يَنْظُرُ اِلَيْهِمْ،وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيمٌ:شَيْخٌ زَانٍ ،وَمَلِكٌ كَذَّابٌ،وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ .

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم: ثلا ثة لا يكلمهم الله يوم القيامة، ولا يزكيهم، ولا ينظر اليهم،ولهم عذاب اليم:شيخ زان ،وملك كذاب،وعائل مستكبر .

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بروزِ قیامتاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّتین قسم کے لوگوں سے نہ کلام فرمائے گا ، نہ انہیں پاک کرے گا، نہ ان کی طرف نظر فرمائے گااور اُن کے لئے درد ناک عذاب ہوگا:بوڑھازانی،جھوٹا بادشاہ، متکبر فقیر۔“

شرح حدیث

تین دھتکارے جانے والے لوگ:دلیل الفالحین میں ہے: اِن تین قسم کے بندوں پراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّغضب فرمائے گا، ان سے ایسا کلام نہ فرمائے گا جو انہیں خوش کرے ۔امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ان سے اہلِ خیر والاکلا م نہیں فرمائے گا جواس کی رضامندی پردلالت کرے بلکہ ناراضی والا کلام فرمائے گا۔انہیں پاک نہ کرے گا یعنی ان کے اعمال قبو ل نہ فرمائے گایا انہیں گناہوں کی گندگی سے پاک نہ کرے گا،ان کی طرف نگاہِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ اوران کےلئےایسا عذاب ہوگاجس کی تکلیف دل کی گہرائیوں تک پہنچ جائے گی۔ بوڑھا وہ ہے جس کی عمر پچاس سال یااس سے زیادہ ہو۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحديثِ مذکور کی شرح بيان كر تے ہوئے فرماتے ہیں :(اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّان سےکلام نہ فرمائے گا) یعنی ان تین قسم کے لوگوں سے کرم و محبت کا کلام نہ کرے گا غضب و قہر کا کلام کرے گا۔ لہٰذا حدیث واضح ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے اول وقت جب عدلِ الٰہی کا ظہور ہوگا تب ان سے کلام نہ کرے گا۔ یا مُطلقًا بِلا واسطہ کلام نہ کرے گا بواسطہ فرشتوں کے کرے گا۔ (انہیں پاک نہ کرے گا) یعنی ان کے گناہ معاف نہ کرے گا یا ان کی صفائی لوگوں پر ظاہر نہ کرے گا۔(انکی طرف نظر نہ فرمائے گا )یعنی نظرِرحمت نہ کرے گانظر ِقہر کرے گا۔(بوڑھے زانی کے لئے یہ وعید)اس لئے( ہے ) کہ زنا اگرچہ بہرحال بُرا ہے سخت گناہ ہے مگر بڈھا آدمی کرے تو بدترین گناہ ہے کہ اس کی شہوت قریبًا ختم ہوچکی ہے وہ مغلوب ومجبورنہیں جوان آدمی گویامعذورہے۔(جھوٹا بادشاہ بھی اس وعید کاحق دار ہے ) کیونکہ بعض لوگ مجبوراًجھوٹ بولتے ہیں، بعض لوگ حاکم کے ڈر یا بادشاہ کے خوف سے جھوٹ بول دیتے ہیں،بعض لوگ تنگدستی سے تنگ آکر جھوٹ کے ذریعے روزی کماتے ہیں بادشاہ کو ان میں سے کوئی مجبوری نہیں وہ جھوٹ بولتا ہےتو بِلاوجہ ہی بولتا ہے۔(متکبر فقیر بھی اس وعید کا حق دار ہے کیونکہ )حکومت والوں، مال والوں کے پاس غرورتکبر کے اسباب موجود ہیں۔اگر فقیر غرور کرے تو محض دلی خباثت کی وجہ سے ہی کرے گا اس لئے اسکا تکبر بدترین جرم ہے۔بعض لوگ غریب ہوتے ہوئے معمولی نوکری معمولی کام نہیں کرتے زکوٰۃ و خیرات قبول نہیں کرتے،خود بھی بھوکے رہتے ہیں اور اپنے بال بچوں کو بھی بھوکا مارتے ہیں وہ بھی اس وعید میں داخل ہیں۔بعض لوگ بہت غریب ہوتے ہیں مگر اپنی لڑکیوں لڑکوں کے لیے بڑے مالدار رشتے تلاش کرتے ہیں اس تلاش میں اولاد بوڑھی ہو جاتی ہے مگر شادی نہیں کرتے جس کے نتیجے بہت برے ظاہر ہوتے ہیں، یہ سب اس فرمانِ عالی میں داخل ہیں۔درود ہو اس حکیمِ مُطلق محبوبِ کِبریاصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر،جو ہم پر ہمارے ماں باپ بلکہ خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں۔اللّٰہتعالیٰ ان کی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے!اس ایک کلمہ میں کیسی ہدایتیں ہیں۔تین پسندیدہ اور ناپسند یدہ لوگ:منقول ہے کہ تین شخصاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو ناپسند ہیں اورتین ان سے بھی زیادہ نا پسند ہیں: (1)بدکار شخص نا پسند ہے جبکہ بوڑھابدکار اس سے بھی زیادہ نا پسند ہے۔(2) بخیل ناپسند ہے جبکہ مالداربخیل اس سے بھی زیادہ نا پسند ہے۔ (3)مغرورنا پسند ہے جبکہ مفلس مغرور اس سے بھی زیادہ نا پسند ہے ۔ اسی طرح تین شخص پسند ہیں اور تین ان سے بھی زیادہ پسند ہیں :(1)متقی پسند ہے مگر جوان متقی اوربھی زیادہ پسند ہے (2)سخی پسند ہے جبکہ ضرورت مند سخی اس سے بھی زیادہ پسند ہے (3)عاجزی کرنے والاپسند ہے جبکہ مالدار عاجز اس سے بھی زیادہ پسند ہے ۔سب سے پہلے جنت و جہنم میں جانے والے:حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” مجھے سب سےپہلے جنت میں جانے والے اور سب سے پہلے جہنم میں جانے والے تین قسم کے لوگ دکھائے گئے۔جنتی یہ ہیں:(1) راہِ خدا میں شہید ہونے والا(2)وہ غلام جس نے غلامی میں بھی عبادت ترک نہ کی ہو۔(3)وہ عیال دارجو کمزوری مفلسی کے باوجودسوال سے بچتا ہو۔اور جہنم میں سب سےپہلے جانے والے تین شخص یہ ہیں: (1)لوگوں کی چیزیں ظلماًچھین لینے والا حاکم(2)زکوٰۃ نہ دینے والا مالدار(3)غریب مُتکبر۔مدنی گلدستہ’’نظرِ کرم ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) بوڑھا بدکار،مُتکبرفقیراورجھوٹا بادشاہ یہ لوگ
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکو بہت ناپسندہیں،بروز ِقیامت انہیں غضبِ الٰہی کا سامنا کرنا پڑےگا۔
(2) مُفلس ونادارشخص کو عاجزی وانکساری اپنانی چاہیےتاکہ اس کی برکت سے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّرِزق میں وُسعت اور کام میں آسانی فرمادے ۔
(3) رِزقِ حلا ل کے حُصُول کے لئے معمولی نوکری بھی کرنی پڑے تو کر لینی چاہیے کہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہترہے۔
(4) جیسے ہی کوئی مناسب رشتہ ملے اپنی اولاد کی شادی کر دینی چاہیے کہ دولتمند رشتوں کی لالچ اولاد کو اور خود اسے بھی گناہوں بھری زندگی کی طرف لے جاسکتی ہے ۔
(5) جو کوئی حضورنبی کریم ، رَءُوْفٌ رحیم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین کے مطابق زندگی گزارتا ہے وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
(6) جوپچاس سال یا اس سے زیادہ کا ہوجائے اُس کا شمار بوڑھوں میں ہوتاہے ۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمیں تکبر سے بچاکر جنت میں داخلہ عطافرمائےاورجہنم سے بچائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 617