Main Icon

باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 789

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اُمِّ سَلْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ اَحَبَّ الثِّيَابِ اِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ القَمِيْصُ.

عن ام سلمة رضي الله عنها قالت:كان احب الثياب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم القميص.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کپڑوں میں سب سے زیادہ قمیص پسند تھی۔

شرح حدیث

حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی مبارک قمیص:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضور نبی کریم رؤ ف رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکپڑوں میں سب سے زیادہ قمیض کو پسند فرماتے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:ثِیَابجمع ہےثَوْبٌکی، پہننے کے کپڑے کوثَوْبٌکہا جاتا ہے خواہ سِلا ہوا ہو یا بغیر سِلا لہذا بے سلا تہبند بھیثَوْبہے اور سِلا ہوا پاجامہ کرتا بھیثَوْب۔قمیص سے مراد سوتی قمیص ہے حریر ریشم تو مرد کو حرام ہے اور حضور انور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے کبھی اونی قمیص نہیں پہنی کہ یہ بدن میں چبھتی ہے اور پسینہ میں بو دیتی ہے۔قمیص کے پسند ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ یہ بدن سے چمٹی رہتی ہے بدن سے سِرکتی نہیں،نماز میں اسے باربار چڑھانا نہیں پڑتاجیساکہ چادر اوڑھنے کی حالت میں ہوتاہے۔حضور کی قمیص میں گریبان نہ ہوتا تھا بلکہ دو طرفہ کندھوں پر چاک کھلے ہوتے تھے جیسے کہ اَحادیث میں وارد ہے۔سنت یہ ہی ہے کہ قمیص کی آستینیں نہ تو کلائی سے اوپر ہوں نہ نیچے یعنی ہتھیلی یا انگلیوں تک،جن روایات میں ہے کہ حضورِ انور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی آستینیں انگلیوں تک ہوتی تھیں وہاں جبہ کی آستینیں مراد ہیں لہٰذا احادیث میں تعارض نہیں۔جبہ کی آستینیں دراز ہوتی تھیں قمیص کی آستینیں چھوٹی،آج کل قمیص کی آستینیں آدھی کلائی تک بعض لوگ رکھتے ہیں یہ سنت کے خلاف ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکامحبوب ترین لباس قمیص مبارک تھی اگرچہ تہبند اور چادر شریف بھی بکثرت زیب تن فرماتے تھےلیکن قمیص کا پہننا زیادہ پسندیدہ تھا۔حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا لباس سوتی،تنگ دامن اور آستین والا تھا اور آپ کی قمیص مبارک میں بٹن لگے ہوئے تھے۔“قمیص پہننے کا مسنون طریقہ:مرآۃ المناجیح میں ہے:(حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) جب قمیص پہنتے تو قمیص کا داہنہ حصہ پہلے پہنتے بایاں حصہ بعد میں اس طرح کہ اَوَّلاً داہنا ہاتھ شریف داہنی آستین میں ڈالتے پھر بایاں اور اُتارنے میں اس کے برعکس۔صدر الشریعہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:سنت یہ ہے کہ دامن کی لمبائی آدھی پنڈلی تک ہو اور آستین کی لمبائی زیادہ سے زیادہ انگلیوں کے پوروں تک اور چوڑائی ایک بالشت ہو۔حضرت سَیِّدُنا ابوسعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب نیا کپڑا پہنتے، اُس کا نام لیتے عمامہ یا قمیص یا چادر پھر یہ دعا پڑھتے:اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کَمَا کَسَوْتَنِیْہِ اَسْئَلُکَ خَیْرَہٗ وَخَیْرَ مَا صُنِعَ لَہٗ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَہٗ.(ترجمہ: اےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! تیرا شکر ہے جیسے تو نے مجھے یہ (کپڑا) پہنایا، ویسے ہی میں تجھ سے اس کی بھلائی اور جس مقصد کے لیے یہ بنایاگیاہےاس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر اور جس مقصد کے لیے یہ بنایا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔)مدنی گلدستہ’’صالِحِین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) سرکار
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو لباس میں سب سے زیادہ قمیص پسند تھی۔
(2) آپ نے کبھی اُونی قمیص نہیں پہنی کہ یہ بدن میں چبھتی ہے اور پسینہ میں بو دیتی ہے۔
(3) قمیص کا فائدہ یہ ہے کہ یہ بدن سے چمٹی رہتی ہے بدن سے سِرکتی نہیں،نماز میں اسے باربار چڑھانا نہیں پڑتاجیساکہ چادر اوڑھنے کی حالت میں ہوتاہے۔
(4) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قمیص میں گریبان نہ تھا بلکہ دو طرفہ کندھوں پر چاک کھلے ہوتے تھے۔
(5) جب آپ قمیص پہنتے تو داہنا ہاتھ داہنی آستین میں ڈالتے پھر بایاں اور اتارنے میں اس کے خلاف۔
(6) آدھی کلائی تک آستینیں رکھنا خلاف سنت ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں فیشن والے لباس سے بچائے اور محبوبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنت کے مطابق لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 789