Main Icon

لوگوں کے درمیان صلح کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 248

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوۡلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ

صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيۡهِ الشَّمْسُ تَعْدِلُ بَيْنَ الْاِثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَتُعِيۡنُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا اَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌوَبِكُلِّ خَطْوَةٍ تَمْشِيۡهَا اِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ وَتُمِيۡطُ الْاَذٰى عَنِ الطَّرِيۡقِ صَدَقَةٌ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كل سلامى من الناس عليه

صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس تعدل بين الاثنين صدقة وتعين الرجل في دابته فتحمله عليها او ترفع له عليها متاعه صدقة والكلمة الطيبة صدقةوبكل خطوة تمشيها الى الصلاة صدقة وتميط الاذى عن الطريق صدقة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہے ، ہر روز جس دِن سورج طلوع ہوتا ہے دو شخصوں کے درمیان اِنصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہے ، کسی شخص کو اُس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد کرنا یا اُس کا سامان اٹھا کرسواری پررکھ دینا بھی صدقہ ہے ، اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے ، نماز کے لئے جانے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے ، راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

تین سو ساٹھ(360)مرتبہ صدقہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیاِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ہاتھوں اور پیروں کی ہڈیوں کو سُلامٰی کہتے ہیں۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ہڈیاں اُس کے وجود کا اصل ہیں اور اُن سےبہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں کیونکہ انہیں کے ذریعے انسان چلتا پھرتا ہے ، یہ ہڈیاں انسان پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں میں سے بہت بڑی نعمتیں ہیں تو انسان پر واجب ہے کہ وہ ہر نعمت کے بدلے میں شکر ادا کرے۔ لہٰذا جس طرح اس کو نعمت دی گئی ہے اس طرح وہ صدقہ کرے (اور یہ انسان کے لیے بہت مشکل ہے کہ ہر ہر نعمت کے بدلے صدقہ کرے) ، اس لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں پر کرم کیا کہ لوگوں کے درمیان عدل کرنے کو صدقہ کے مشابہ کردیا۔ ‘‘ مسلم کی روایت میں ہے سُلامٰی کا مطلب ہے انسانی ہڈیاں ، اور یہ تقریباً تین سو ساٹھ (360)ہیں۔ علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث کے ظاہر کا تقاضا یہ ہے کہ انسان واجبی طور پر (تین سو ساٹھ مرتبہ)صدقہ کرے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بندوں پر تخفیف فرمائی اور مستحبات کو صدقے کے قائم مقام بنادیا۔ ‘‘( )
صدقہ کرنا مستحب ہے:علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی علماءکرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’حدیث میں جو فرمایا کہ انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ ہےتو اس سے مراد یہ نہیں کہ انسان پر صدقہ کرنا واجب یا لازم ہے بلکہ مرادیہ ہے کہ صدقہ کرنا مستحب ہے اور یہاں ترغیب کے طور پر ارشاد فرمایا۔ آگے فرمایا کہ دو لوگوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلہ کرنا صدقہ ہےیعنی فریقین میں انصاف کے ساتھ صلح کروانا صدقہ ہے۔ ‘‘( )صِرف جوڑوں پر ہی صدقہ کیوں؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُس کے بندوں پر بے شمار نعمتیں ہیں ، مگر جوڑوں کے عوض ہی صدقہ کرنے کا حکم کیوں ارشاد فرمایا؟اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اگر چہ ہمارا ہر رونگٹا اللہ کی نعمت ہے لیکن ہر جوڑ اس کی بے شمار نعمتوں کا مظہر ہے اس لئے خصوصیت سے اس کا شکریہ ضروری ہوا۔ صدقے سے مراد نیک عمل ہے جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ہر شخص پر اَخلاقاً دیانۃً لازم ہے کہ روزانہ ہر جوڑ کے عوض کم از کم ایک نفل نیکی کیا کرے ، اس حساب سے روزانہ تین سو ساٹھ (360)نیکیاں کرنی چاہیئں تاکہ ا س دن جوڑوں کا شکریہ ادا ہو۔ سورج چمکنے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ سورج تو ہر شخص پر چمکتا ہے تو شکریہ بھی ہر شخص پر ہے۔ تہذیبِ اَخلاق ، تدبیرِ منزل ، سیاستِ مدنی ، لوگوں سے اچھے برتاؤ صدقہ ہیں بشرطیکہ رِضائے الٰہی کے لئے ہوں ، ہر معمولی سے معمولی کام جب اَدائے سنت کی نیت سے کیا جائے گا تو وہ بڑا ہوجائے گا ، کیونکہ منسوب اگر چہ چھوٹا ہے مگر منسوب الیہ جن کی طرف نسبت ہے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وہ تو بڑے ہیں۔ (صاحبِ)مرقات نے فرمایا کہ نماز کا ذکر مثالاً ہے ورنہ طواف ، بیمار پرسی ، جنازہ میں شرکت ، عِلمِ دِین کی طلب غرضیکہ ہر نیکی کے لئے قدم ڈالنا صدقہ ہے۔ رستہ سے کانٹا ، ہڈی ، اینٹ ، پتھر ، گندگی غرض جس سے کسی مسلمان راہ گیر کو تکلیف پہنچنے کا

اندیشہ ہو اُس کو ہٹا دینا بھی نیکی ہے جس پر صدقہ کا ثواب اور جوڑ کا شکریہ ہے۔ ‘‘( )
تمام جوڑوں کا صدقہ ادا کرنے کا نسخہ:حدیث پاک میں ہے : رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’آدمی کے ہر جوڑ کے بدلے صدقہ ہے ، ہرتسبیح ، ہر تحمید ، ہر تہلیل اورہرتکبیر صدقہ ہے اور نیکی کی دعوت دینااور برائی سے روکنا بھی صدقہ ہےاور اِن سب کی طرف سے دو رکعتیں چاشت کی کفایت کرتی ہیں۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’غوث اعظم‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)انسان کے تین سو ساٹھ (360)جوڑ ہیں اور ہر جوڑ پر صدقہ ہے لہٰذا انسان کو تین سو ساٹھ مرتبہ صدقہ کرنا چاہیے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کرم کیا اور تخفیف فرمائی اور مستحبات کو صدقہ کے مشابہ بنادیا۔
(2)جہاں تک ممکن ہو اپنے دو مسلمان بھائیوں کے درمیان صلح کروانی چاہیے کہ دو مسلمانوں كے درمیان صلح کروادینا بھی صدقہ ہے۔
(3)اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کو اُس کی سواری پر سوار ہونے میں مدد دینا یا اُس کا سامان اُٹھا کر سواری پر رکھ دینا بھی صدقہ ہے۔
(4)قفل مدینہ لگاتے ہوئے فضول باتوں سے بچنا چاہیے اور فقط اچھی باتیں ہی منہ سے نکالنی چاہیے کہ اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے۔
(5)نیکیوں کا مدنی ذہن بناتے ہوئے نیکیاں کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ کسی بھی نیکی کے لیے قدم اُٹھانا بھی صدقہ ہے۔

(6)فرائض وواجبات کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی اہتمام کرنا چاہیے خصوصاً نمازِ اِشراق کہ اُس کے جہاں دیگر فضائل ہیں وہاں یہ بھی فضیلت ہے کہ دو رکعت اشراق پڑھ لینے سے تمام جوڑوں کا شکر ادا ہوجاتا ہے۔
(7)جب بھی راستے میں کوئی ایسی چیز دیکھیں جس سے گزرنے والے مسلمانوں کو تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اسے ہٹادیں کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خوب نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اُس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 248