Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 260

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اُطْرُدْ هٰؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا وَكُنْتُ اَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ وَبِلالٌ وَرَجُلاَنِ لَسْتُ اُسَمِّيْهِ مَا فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ فَاَنْزَلَ اللهُ تَعَالٰى: (وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-).( )

وعن سعد بن ابی وقاص رضي الله عنه قال : كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ستة نفر فقال المشركون للنبي صلى الله عليه وسلم : اطرد هؤلاء لا يجترئون علينا وكنت انا وابن مسعود ورجل من هذيل وبلال ورجلان لست اسميه ما فوقع فی نفس رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله ان يقع فحدث نفسه فانزل الله تعالى: (و لا تطرد الذین یدعون ربهم بالغدوة و العشی یریدون وجهه-).( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناسعد بن اُبَی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ہم حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ چھ اَشخاص تھے تو مشرکین نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی : ’’انہیں(اپنی مجلس سے)نکال دیں تاکہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں۔ (حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ان چھ آدمیوں میں) مَیں ، حضرت ابن مسعود ، قبیلہ ہذیل کے ایک صاحب ، حضرت بلال اور دو شخص مزیدتھے جن کا نام نہیں لیتا۔ (جب مشرکین نے یہ کہا) تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دل میں وہ (خیال)آیا جو رب تعالیٰ نے چاہا ، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دل میں کچھ سوچا تب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-(پ۷ ، الانعام : ۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے۔

شرح حدیث

بارگاہِ اِلٰہی میں غریب صحابہ کا مقام:حضرت سَیِدُنا ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی نےاِس حدیث پاک کی شرح میں جو کلام ذکر کیا اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار ِقریش کےسرداروں نے مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہا : ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم اِیمان لے آئیں اور آپ کے پاس حاضر ہوا کریں تو آپ اپنی بارگاہ سے اِن غریبوں اور فقیروں کو دُور کر دیں تاکہ یہ ہم سے (برابری کرنے اور) مخاطب ہونے کی جرأت نہ کریں۔ اِن کی بات سن کرحضور نبی پاک ، صاحب لَولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دِل میں خیال گزرا کہ اِن کفار کو اُلفت دینے کے لئے ظاہری طور غریب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اِس طرح علیحدہ کر دیا جائے کہ وہ سردارانِ کفار کی موجودگی میں آپ کی بارگاہ میں حاضر نہ ہوں یا جب وہ سردارآپ کے پاس بیٹھیں تو یہ غریب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اُٹھ کر چلے جائیں(کیونکہ یہ ایمان پر ثابت قدم ہیں جبکہ)اِس طرح کرنے سے ممکن ہے کہ کافر اِیمان لے آئیں لیکن رب تعالیٰ نے اِس طرح کرنے سے منع فرما دیا اورفقراء صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بارے میں اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تربیت کرتےہوئے ارشاد فرمایا : ’’اے محبوب! اِن مسکین اور غریب صحابہ کو اپنی (کسی) مجلس سے علیحدہ نہ کریں کیونکہ یہ لوگ کسی دُنیوی لالچ سے نہیں بلکہ صِرف میری رضا کے لیے دن رات مجھے یاد کرتے ہیں اور

اُن کے شب روز میری عبادت و اِطاعت میں صَرف ہوتے ہیں۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا مقام ومرتبہ بارگاہِ ربُّ العزت میں بہت بلند ہے اگرچہ وہ غریب ہوں۔
(2) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اِیمان ، اِخلاص اور تقویٰ وطہارت کی گواہی خود رب تعالیٰ نے دی۔
(3) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اَوصاف کو بیان کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی سنت ہے۔
(4) کسی کی عزت اور مقام ومرتبے کا حقیقی معیار تقویٰ وپرہیزگاری ہے ، ظاہری حسن وجمال اور مال ودولت والا ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
(5) اِسلام میں حقوق کے اعتبار سے امیر وکبیر اور غریب وفقیر سب برابر ہیں۔
(6) امیر شخص کی وجہ سے کسی بھی غریب کی دل آزاری کرنے کی اِسلام میں قطعاًاجازت نہیں ہے۔
(7) غریب لوگوں کے حقوق کو خود اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بیان فرمایا اور اُس کاخیال رکھنے کاحکم ارشاد فرمایا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی غریبوں کا خیال رکھنے ، اُن کے حقوق کو اچھی طرح اَدا کرنے ، اُن کی دِل آزاری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 260