Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 268

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ اِمْرَاَةٌ وَمَعَهَا اِبْنَتَانِ لَهَا تَسْاَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِيْ شَيْئاً غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَاَعْطَيْتُهَا اِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَاْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَاَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَاَحْسَنَ اِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ. ( )

وعن عائشة رضي الله عنها قالت : دخلت علي امراة ومعها ابنتان لها تسال فلم تجد عندي شيئا غير تمرة واحدة فاعطيتها اياها فقسمتها بين ابنتيها ولم تاكل منها ثم قامت فخرجت فدخل النبي صلى الله عليه وسلم علينا فاخبرته فقال : من ابتلي من هذه البنات بشيء فاحسن اليهن كن له سترا من النار. ( )

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میرے پاس ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں ، اس نے کچھ مانگا تو میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا ، میں نے اُسے و ہی دے دی تو اُس نےاُسےاپنی بیٹیوں میں بانٹ دیا اورخود اُس میں سے کچھ نہ کھایا ، پھرکھڑی ہوئی اور چلی گئی۔ بعد ازاں حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کو اِس واقعے کی خبر دی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جسے اِن بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کیا جائے ، پھروہ اُن سے اچھا سلوک کرے تو وہ اُس کے لیے جہنم کی آگ سے آڑ ہوجائیں گی ۔ ‘‘

شرح حدیث

محتاج کا سوال کرنا جائزہے:اس حدیث پاک سے معلوم ہو اکہ محتاج کا سوال کرنا جائز ہے۔ یاد رہے کہ بعض صورتیں ایسی بھی ہیں جن میں بندے کا اپنی ذات کے لئے سوال کرنا جائز ہے اور حدیث پاک میں جس خاتون کا واقعہ بیان کیا گیا یہ بھی کسی ایسی ہی مجبوری میں گرفتار ہوں گی جس کی وجہ سے انہیں شرعی طور پر سوال کرنے کی رخصت تھی لہٰذا ان کا سوال کرنا درست تھاجیسا کہ مُفَسِّرِ شَھِیر ، مُحَدِّثِ کبیر حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’بعض مجبوریوں میں مانگنا جائز ہے ، یہ بی بی صاحبہ انہیں مجبوریوں میں پھنسی ہوں گی اس لیے اسے سوال درست تھا۔ ‘‘( )
صدقہ کریں خواہ قلیل ہو یا کثیر:اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس ایک کھجور موجود تھی آپ نے وہ ہی صدقہ کر دی ۔فتح الباری میں ہے:’’اِس سے ثابت ہوا کہ تھوڑی چیز ہونے کی صورت میں صدقہ دینے سے رُک نہیں جانا چاہیے بلکہ صدقہ دینے والے کو چاہیے کہ جو چیزمیسر ہو اسے صدقہ کر دے خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ۔‘‘( )یاد رہے کہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں صدقے کی مقدار نہیں دیکھی جاتی بلکہ مؤمن کا اِخلاص دیکھا جاتا ہے اور جو مؤمن اِخلاص کے ساتھ کم یا زیادہ جتنا بھی صدقہ کرتا ہے رب تعالیٰ اُسے مزید بڑھاتا ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵)(پ۳ ، البقرہ : ۲۶۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (ریتلی زمین)پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اُسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ اگر کوئی مسلمان راہِ خدا میں زیادہ مال خرچ کرتا ہے تو اس پر ریاکاری کا الزام نہ لگایا جائے اورجو مسلمان تھوڑا سا مال صدقہ و خیرات کرے تو اِس پر اُسے بھی ملامت نہ کی جائے کہ یہ انتہائی مذموم اَفعال ہیں اور اِن پر بڑی سخت وعید ہے ، چنانچہاللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَترجمۂ کنزالایمان : وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے ہنستے ہیں اللہ ان کی ہنسی کی
مِنْهُمْؕ-سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ٘-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۹)
(پ۱۰ ، التوبہ : ۷۹)
سزا دے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
نیکی کا اظہار کرنا جائزہے:اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے یہ واقعہ حضور نبی رَحمت، شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے بیان کیا،اِس سے معلوم ہو اکہ نیکی کا اِظہار کرنا جائز ہے جبکہ فخر و تکبر ، ریاکاری اور اِحسان جتانے کے طور پر نہ ہو۔ صدقہ دے کر اِحسان نہ جتانا باعث اَجر ہے چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے :اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲)(پ۳ ، البقرۃ : ۲۶۲)
ترجمۂ کنزالایمان : وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر د یے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ(اجروثواب) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔
صدقہ دے کر اِحسان جتانا صدقے کا ثواب باطل کر دیتا ہے ، چنانچہ اِرشادِباری تعالیٰ ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًاؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْاؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ(۲۶۴)(پ۳ ، البقرہ : ۲۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر اس کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لئے خرچ کرے اور اللہ اور قیامت پر ایمان نہ لائے تو اس کی کہاوت ایسی ہے جیسے ایک چٹان کہ اس پر مٹی ہے اب اس پر زور کا پانی پڑا جس نے اسے نرا پتھر کر چھوڑا اپنی کمائی سے کسی چیز پر قابو نہ پائیں گے اور اللہ کافروں کو راہ نہیں دیتا۔
حب مدح سے اپنے آپ کو بچائیے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر دیکھا جائےتو ہمارے معاشرے میں صدقہ دے کر جتانے کی بیماری بہت عام ہے ، دوبارہ صدقہ دیتےہوئے پہلے صدقے کو یاد کروایا جاتا ہے کہ پچھلی دفعہ بھی میں نے اتنی رقم صدقہ کی تھی بلکہ بعض بے وقوف لوگ تو جسے صدقہ دیتے ہیں دوبارہ اس کا احتساب وغیرہ بھی جاری رکھتےہیں اور اس سےپوچھ گچھ کرتے رہتے ہیں کہ میرے دی ہوئی رقم کو کہاں خرچ کررہے ہو؟وغیرہ وغیرہ یقیناً بلاوجہ شرعی صدقہ دے کر جتانا حُبِّ مَدْح جیسی موذی بیماری کی طرف اشارہ کرتا ہے ، اپنےکسی کام پر لوگوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف کو پسند کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں کام پر لوگ میری تعریف کریں ، یہ حب مدح کہلاتا ہے۔ حب مدح صدقہ توکیا تمام نیکیوں کو تباہ وبرباد کردیتا ہے ، ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اس باطنی بیماری سے ہردم خبردار رہا کرتے تھے اور کسی بھی طرح اسے اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے تھے ، ہمیں بھی چاہیے کہ فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کےلیے صدقہ وخیرات کریں اور حب مدح سے بچتے ہوئے اخلاص کے ساتھ نیک اَعمال کریں۔ حب مدح جیسی موذی بیماری کے اسباب وعلاج اور دیگر تفصیل کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۵۲ صفحات پرمشتمل کتاب ’’باطنی بیماریوں کی معلومات‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطافرمائے۔ اٰمین۔بیٹیوں کے ذریعے بھی آزمائش ہوتی ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگرچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں مطلق اولاد کو بھی آزمائش فرمایا گیا ہے لیکن مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بندے کو بسا اوقات فقط بیٹیوں کے ذریعے بھی آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے ، لہٰذا جسے اولاد میں صرف بیٹیاں ہی عطا ہوں یا بیٹیوں کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچے تو اسے گھبرانا یا بے صبری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے رب تعالیٰ کی آزمائش سمجھتے ہوئے اس پر صبر وشکر سے کام لینا چاہیے کہ بے صبری اجر کے ضائع ہونے اور صبر وشکر اجرکے حاصل ہونے کا سبب ہے۔ بیٹیوں جیسی آزمائش پر صبر کرنے کے فضائل پر دو فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’جس کے پاس تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کے وجود پر صبر کرے ، انہیں کھلائے پلائےاور اپنی طاقت کے مطابق لباس پہنائے

تو قیامت کے دن وہ تینوں ا س کے لئے جہنم سے حجاب بن جائیں گی۔ ‘‘( )(2)’’کیا میں تمہیں سب سے بہتر صدقہ کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (سنو ! وہ یہ ہے کہ )تمہاری جو بیٹی(طلاق یا بیوہ ہونے کے بعد)تمہارے پاس واپس ا ٓ گئی تو اس کے ساتھ بھلائی کرو کیونکہ اب اس کے لئے تمہارے سوا کمانے والا کوئی نہیں۔ ‘‘( )
جہنم سے نجات کا ذریعہ ہونے کی صورت:حدیث پاک کے آخر میں فرمایا گیا کہ بیٹیاں جہنم کی آگ سے آڑ ہوں گی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ بیٹیاں اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوں گی اور اس کی صورت یہ ہو گی کہ وہ جہنم میں جائے گا ہی نہیں یا اگر گیا تو وہاں جہنم کی آگ اس تک نہ پہنچ سکے گی کہ یہ بیٹیاں پردہ بن کر اسے محفوظ رکھیں گی۔ البتہ یاد رہے کہ اس میں شرط یہ ہی ہے کہ اُن سے گھبرائے نہیں اوراُن کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔بیٹیوں سے متعلق دو اہم مدنی پھول:(1)میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یاد رکھیں کہ اولاد عطا فرمانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے قبضہ واختیار میں ہے وہ جسے چاہے فقط بیٹے یا بیٹی جیسی نعمت ورحمت سے نوازے اور جسے چاہے بیٹا اور بیٹی دونوں سے نواز دے کیونکہ وہ مالک حقیقی ہے وہ جسے چاہے جو چاہے عطا فرمادے ، اس بندے کے حق میں وہی بہتر ہے ، کسی کو اُس کی عطا پر اِعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ چنانچہ ہمارا خالق مالک ، پیارا رب عَزَّ وَجَلَّ پارہ ۲۵ ، سورۂ شوریٰ ، آیت ۴۹ اور ۵۰ میں ارشاد فرماتا ہے :لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹) اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(۵۰)ترجمۂ کنزالایمان : اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائےاورجسے چاہے بیٹے دےیا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بیشک وہ علم و قدرت والا ہے ۔

(2)بیٹی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت ہی پیاری نعمت اوررحمت ہے ، ربّ تعالیٰ کی نعمت ورحمت پر غمگین ہونا یا اُسے اپنے لیے باعث عارسمجھنا یقیناً کسی مسلمان کا شیوہ نہیں ہے ، بلکہ یہ تو کفار کا طریقہ ہے ، چنانچہ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد ہوتا ہے :
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸) یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖؕ-اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِؕ-اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ(۵۹)(پ۱۴ ، النحل : ۵۸ ، ۵۹)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے۔ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب کیا اسے ذلّت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا ارے بہت ہی بُرا حکم لگاتے ہیں۔
بہت بدنصیب ہیں وہ لوگ جو بیٹی پیدا ہونے پر اپنی بیویوں پر طعن وتشنیع کرتے ، بات بات پر مارپیٹ اورطرح طرح کے ظلم وستم کرتے ہیں ، اُن کو اذیتیں دیتےہیں ، اُن سے بیزاری کا اِظہار کرتے ہیں ، بیٹی پیدا ہونے پر رنج و غم کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، کوئی مبارکباد دے تو خوشی سےمبارک قبول کرنے کے بجائے جھینپ جاتے ہیں ، شرم و عار سے چھپتے پھرتے ہیں ، یقیناً ایسے لوگ حقوق العباد کی تلفی کے سبب ناجائز وحرام اور گناہوں بھرے اُمور میں مبتلا ہیں ، عموماً ایسے لوگ قرآن وحدیث کے علم سے جاہل ہوتے ہیں۔ افسوس!دِین اِسلام نے عورت کو ظلم کی جس چکی سے نکالا ، ہمارے معاشرے میں آج اسی چکی میں اسے دوبارہ پیسنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، دِین اِسلام نے لوگوں کو جہالت کی جس وادی سے نکالا آج پھر اُنہیں اُسی وادی میں دھکیلاجا رہا ہے۔ بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو بیٹیاں پیدا ہونے پر بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہیں ، بیٹوں کی طرح خوشی کا اظہارکرتے ہیں ، بیٹیوں کو زحمت نہیں بلکہ رب تعالیٰ کی رحمت سمجھتے ہیں ، اُن کی اچھے طریقے سے دینی تربیت کرتے ہیں ، یقیناً دنیا وآخرت کی بھلائیاں ایسے لوگوں کا مقدر ہوتی ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام لوگوں کو عقل سلیم عطا فرمائے ، بیٹیوں کی عزت وعظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ، اَحکامِ شرعیہ کو سمجھ کر اُن پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’راہ نجات‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)بلا حاجت شرعی اپنی ذات کے لیے سوال کرنا منع ہے البتہ حاجت ہوتو جائز ہے۔
(2)اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا صدقہ دینے پر بہت حریص تھیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ایک ہی کھجور تھی ، آپ نے اُسے بھی صدقہ کر دیا۔
(3)صدقہ دینے کے لیے مال کا زیادہ ہونا ضروری نہیں بلکہ تھوڑے مال سے بھی صدقہ کیا جاسکتا ہے ، کیونکہ بارگاہ ِالٰہی میں صدقہ کی مقدار نہیں بلکہ بندے کا اِخلاص دیکھا جاتا ہے۔
(4)تکبر ، ریاکاری اور اِحسان جتانے کا اندیشہ نہ ہو تو نیکی کا اِظہار کرنا جائز ہے ۔
(5)بیٹیوں پر خرچ کرنا ، اُن کی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑی نیکی اور افضل عمل ہے اور یہ عمل جہنم سے نجات کا بھی سبب ہے ۔
(6)اولاد عطا کرنا رب تعالیٰ کے قبضہ واختیار میں ہے وہ جسے چاہے بیٹا عطا کرے اور جسے چاہے بیٹی۔
(7)بیٹی کی پیدا ئش پر شرم و عار محسوس کرنا کفار و مشرکین کا طریقہ ہے مسلمانوں کا نہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بیٹیوں کی عزت وعظمت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، اُن کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، بیٹیوں کی پیدائش پرغم نہیں بلکہ خوشی کا اِظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔∞ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 268