- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرت سَیِّدُناسعد بن اُبَی وقاصرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ہم حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ چھ اَشخاص تھے تو مشرکین نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی : ’’انہیں(اپنی مجلس سے)نکال دیں تاکہ یہ لوگ ہم پر جرأت نہ کریں۔ (حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ان چھ آدمیوں میں) مَیں ، حضرت ابن مسعود ، قبیلہ ہذیل کے ایک صاحب ، حضرت بلال اور دو شخص مزیدتھے جن کا نام نہیں لیتا۔ (جب مشرکین نے یہ کہا) تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دل میں وہ (خیال)آیا جو رب تعالیٰ نے چاہا ، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دل میں کچھ سوچا تب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-(پ۷ ، الانعام : ۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اُطْرُدْ هٰؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا وَكُنْتُ اَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ وَبِلالٌ وَرَجُلاَنِ لَسْتُ اُسَمِّيْهِ مَا فَوَقَعَ فِیْ نَفْسِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ فَاَنْزَلَ اللهُ تَعَالٰى: (وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-).( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 260 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضر ت سَیِّدُنا ابو ہبیرہ عائذ بن عَمرو مُزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے جو اَصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں ، فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان ، حضرت صُہَیب اورحضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم چند لوگوں میں موجود تھے ، اُس وقت اُن کے پاس ابو سُفیان آئے تو اُن سب نے کہا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تلواریں اللہ عَزَّوَجَلَّکے دُشمن کی گردن میں اپنی جگہ سے نہیں گزریں۔ ‘‘یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ کیا تم قریش کے شیخ اور اُن کے سردار کےبارے میں اِس طرح کہتے ہو؟‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضرہوئے اور آپ کو خبر دی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابوبکر! تم نے (یہ بات کہہ کر) شاید اُن حضرات کو ناراض کردیا ہے ، اگر تم نے انہیں ناراض کردیا تو تم نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو ناراض کردیا۔ ‘‘یہ سن کر حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن کے پاس تشریف لائے اورفرمایا : ’’اے میرے بھائیو !لگتا ہے میں نے تمہیں ناراض کردیا؟‘‘ انہوں نے کہا : ’’نہیں ، اے میرے پیارے بھائی!اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی بخشش فرمائے۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِیْ هُبَيْرَةَ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِیِّ وَهُوَ مِنْ اَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ اَبَا سُفْيَانَ اَتٰی عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبلاَلٍ في نَفَرٍ فَقَالُوْا : مَا اَخَذَتْ سُيُوفُ اللهِ مِنْ عَدُوِّ اللهِ مَاْخَذَهَا فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
اَتَقُوْلُوْنَ هٰذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَاَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرهُ فَقَالَ : يَا اَبَا بَكْرٍ! لَعَلَّكَ اَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ اَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ اَغْضَبْتَ رَبَّكَ فَاَتَاهُمْ فَقَالَ : يَا اِخْوَتَاهُ اَغْضَبْتُكُمْ قَالُوْا : لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا اُخَيَّ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 261 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، حُسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں
گے۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیااور اُن کے درمیان کچھ کشادگی فرمائی۔
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اَنَا وَكَافلُ اليَتِيْمِ في الجَنَّةِ هٰكَذا وَاَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطٰى وَفَرَّجَ بَيْنَهُمَا.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 262 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’اپنے خاندان یا غیر کے یتیم بچے کو پالنے والا اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے۔ ‘‘یہ کہہ کر راوی حدیث حضرت امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
وَعَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَافِلُ الْيَتيِمِ لَهُ اَوْ لِغَيْرِهٖ اَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِی الْجَنَّةِ وَاَشَارَ الرَّ اوِي وَهُوَ مَالِكُ بْنُ اَنَسٍ بِالسَّبَّابَةِ وَالوُسْطٰى.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 263 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لوٹا دیں بلکہ مسکین تو وہ غریب شخص ہےجو سوال کرنے سے بچتا ہے۔ ‘‘
بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے : ’’مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس چکر لگاتا رہے اور وہ اسے ایک دو لقمے یا ایک دو چھوہارے دے کر لوٹا دیں بلکہ مسکین تو وہ ہے جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جوا ُسے بے نیاز کر دے اور اُسے پہچانا بھی نہ جائے تاکہ اُس پر صدقہ کیا جائے اور نہ ہی وہ اِس لئے کھڑا ہوتا ہو کہ لوگوں سے سوال کرے۔ ‘‘
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ الْمِسْكينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ اِنَّمَا الْمِسْكِيْنُ الَّذِيْ يَتَعَفَّفُ. ( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ : لَيْسَ الْمِسكِينُ الَّذِيْ يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ واللُّقْمَتانِ وَالتَّمْرَةُ والتَّمْرَتَانِ وَلٰكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَجِدُ غنىً يُغْنِيْهِ وَلاَ يُفْطَنُ بِهٖ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَايَقُوْمُ فَيَسْاَلُ النَّاسَ .( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 264 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’بنا شوہر والی عورت اورمسکینوں ( کی امداد)کے لئے کوشش کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرا خیال ہے کہ مزید یہ بھی ارشاد فرمایا کہ’’وہ اُس شب بیدار کی طرح ہے جو تھکتا نہیں اور اُس روزہ دار کی طرح ہے جو روزہ نہ چھوڑے۔ ‘‘
وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : السَّاعِيْ عَلَى الْاَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِيْنِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَاَحْسَبُهُ قَالَ: وَكَالْقَائِـمِ الَّذِيْ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ الَّذِيْ لَا يُفْطِرُ . ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 265 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، سیِّد عالَم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : ’’بد ترین کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے جس میں(شرکت کرنےسے) اُسے روک دیا جائے جو آنا چاہتا ہے اور اُسے بلا لیا جائے جو نہیں آنا چاہتا اور جس نے(کسی سبب اور عذر کے بغیر) دعوت کو قبول نہیں کیاتو اُس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی کی ۔ ‘‘
بخاری اورمسلم کی ایک روایت میں حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بُرا کھانا اُس ولیمے کا کھانا ہے جس کے لیے مالدار لوگوں کو بلایا جائےاور فقیروں کو چھوڑ دیا جائے۔ ‘‘
وَعَنْهُ عَنِ النَّبيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَاْتِيهَا وَيُدْعَى اِلَيْهَا مَنْ يَاْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ. ( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ فِي الصَّحِيْحَيْنِ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ مِنْ قَوْلِهٖ : بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الوَلِيمَةِ يُدْعٰى اِلَيْهَا الْاَغْنِيَاءُوَ يُتْرَكُ الْفُقَراءُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 266 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دو بیٹیوں کی پرورش کرےیہاں تک کہ وہ جوان ہو جائیں تو میں اور وہ شخص قیامت کے دن اِس طرح آئیں گے ۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی انگلیوں کو ملایا ۔
وَعَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْن حَتّٰی تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ وضَمَّ اَصَابِعَهُ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 267 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : ’’میرے پاس ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں ، اس نے کچھ مانگا تو میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا ، میں نے اُسے و ہی دے دی تو اُس نےاُسےاپنی بیٹیوں میں بانٹ دیا اورخود اُس میں سے کچھ نہ کھایا ، پھرکھڑی ہوئی اور چلی گئی۔ بعد ازاں حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ کو اِس واقعے کی خبر دی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’جسے اِن بیٹیوں کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کیا جائے ، پھروہ اُن سے اچھا سلوک کرے تو وہ اُس کے لیے جہنم کی آگ سے آڑ ہوجائیں گی ۔ ‘‘
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : دَخَلَتْ عَلَيَّ اِمْرَاَةٌ وَمَعَهَا اِبْنَتَانِ لَهَا تَسْاَلُ فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِيْ شَيْئاً غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَاَعْطَيْتُهَا اِيَّاهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَاْكُلْ مِنْهَا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرجَتْ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَاَخْبَرْتُهُ فَقَالَ : مَنِ ابْتُلِيَ مِنْ هذِهِ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَاَحْسَنَ اِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 268 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
: اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیوں کو اٹھائے ہوئے آئی تو میں نے اسے کھانے کے لئے تین کھجوریں دیں ، اس نے دونوں بیٹیوں کو ایک ایک کھجور دی اور ایک کھجور خود کھانے کے لئے ابھی اپنے منہ تک لائی تھی کہ اسے بھی دونوں بیٹیوں نے مانگ لیا ، اس عورت نے وہ کھجور بھی دونوں بیٹیوں میں تقسیم کر دی جسے خود کھانے کا ارادہ کیا تھا۔ مجھے اس کے معاملے پر بڑا تعجب ہوا ، پھر میں نے اس کا یہ عمل رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں عرض کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کے لئے اس عمل کی برکت سے جنت کو واجب کر دیا۔ ‘‘یا (یہ ارشاد فرمایا : )’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُسے اِس عمل کی بنا پر جہنم سے آزاد کر دیا۔ ‘‘
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : جَاءَتْنِيْ مِسْكِيْنَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَاَطْعَمْتُهَا ثَلاثَ تَمرَاتٍ فَاَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعتْ اِلٰى فِيهَا تَمْرَةً لِتَاْكُلَهَا فَاسْتَطعَمَتْهَا اِبْنَتَاهَا فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ الَّتِيْ كَانَتْ تُريدُ اَنْ تَاْكُلَهَا بَيْنَهُمَا فَاَعْجَبَنِي شَاْنُهَا فَذَكَرْتُ الَّذِيْ صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنَّ
اللهَ قَدْ اَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ اَوْ اَعْتَقَهَا بِهَا مِنَ النَّارِ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 269 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے ، رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (بارگاہِ الہی)میں عرض کی : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں دو کمزور انسانوں یتیم اور عورت کا حق (ضائع کرنا خاص طور پر) حرام قرار دیتاہوں۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِيْ شُرَيحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرو الْخَزَاعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَللّٰهُمَّ اِنِّي اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيْفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْاَةِ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 270 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُنا مُصْعَب بن سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دِل میں خیال آیا کہ شاید اُنہیں کمزور لوگوں پر فضیلت حاصل ہے۔ تو سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی اور تمہیں رِزق دیا جاتا ہے۔ ‘‘
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ اَبِيْ وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : رَاَى سَعْدٌ اَنَّ لَهُ فَضْلاً عَلٰى مَنْ دُونَهُ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ اِلَّابِضُعَفَائِكُمْ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 271 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
حضرت سَیِّدُنا ابو درداء عویمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’تم مجھے کمزور اور بے کس لوگوں میں تلاش کرو کیونکہ تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے تمہیں روزی دی جاتی اور تمہاری مدد کی جاتی ہے۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ عُوَيْمِررَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُوْلُ : اِبْغُوْنِي الضُّعَفَاءَ فَاِنَّمَا تُنْصَرُوْنَ وَتُرْزَقُوْنَ بِضُعَفَائِكُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 272 ، یتیموں کے ساتھ حسن سلوک