Main Icon

یتیموں کے ساتھ حسن سلوک - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 265

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : السَّاعِيْ عَلَى الْاَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِيْنِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَاَحْسَبُهُ قَالَ: وَكَالْقَائِـمِ الَّذِيْ لَا يَفْتُرُ وَكَالصَّائِمِ الَّذِيْ لَا يُفْطِرُ . ( )

وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : الساعي على الارملة والمسكين كالمجاهد في سبيل الله واحسبه قال: وكالقائـم الذي لا يفتر وكالصائم الذي لا يفطر . ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےروایت ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’بنا شوہر والی عورت اورمسکینوں ( کی امداد)کے لئے کوشش کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔ ‘‘حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرا خیال ہے کہ مزید یہ بھی ارشاد فرمایا کہ’’وہ اُس شب بیدار کی طرح ہے جو تھکتا نہیں اور اُس روزہ دار کی طرح ہے جو روزہ نہ چھوڑے۔ ‘‘

شرح حدیث

’’الساعی‘‘اور ’’الارملۃ‘‘کےمعنٰی:علامہ یحییٰ بن شرف نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مسلم شریف کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ساعی سے مراد وہ شخص ہے جو اَرمَلہ اور مسکین کے لئے کوشش اور ان کی امداد کرنے کے لئے کام کرے اور اَرمَلہ سےمراد وہ عورت ہے جس کا شوہر نہ ہو خواہ وہ کنواری ہو ، طلاق یافتہ ہو یابیوہ ہو گئی ہو۔ ‘‘( )جہاد کرنے والے غازی کی طرح ثواب:مرقاۃ المفاتیح میں ہے : ’’اَرمَلہ عورت اور مسکین و فقیر کی ضروریات کا انتظام کرنے ، اُن کا حال سنوارنے اور اُن پر مال خرچ کرنے کی کوشش کرنے والے کا ثواب راہِ خدا میں جہاد کرنے والے غازی کے ثواب کی طرح ہےیا جس قسم کا اور جتنا ثواب اُس محنتی عبادت گزار کو ملتا ہے جو(ممنوع ایام کے علاوہ)ہمیشہ روزہ رکھتا اور ساری ساری رات نوافل پڑھتا ہواس قسم کا اور اتنا ثواب اس خدمت کرنے والے کو ملتا ہے۔ ‘‘( )
بغیر خسارے والی تجارت:حضرت سَیِّدُنا علی بن خلف قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتےہیں : ’’جو شخص راہِ خدا میں جہاد کرنے ، ساری رات نوافل پڑھنے اور ہمیشہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو تو اُسے اِس حدیث پاک پر عمل کرتے ہوئے بنا شوہر والی عورت اور مسکین کے (اخراجات اور ضروریات پوری کرنے کے) لئے کوشش کرنی چاہیے تاکہ قیامت کے دِن اُس کا حشر روزہ داروں اور عبادت گزاروں کے گروہ میں ہو اور دن میں کھاتے ، رات میں سوتے رہنے کے باوجوداُن کا درجہ پا لے اور(عمومی طور پر)ہر مومن کو چاہیے کہ خسارے سے خالی اِس تجارت پر حریص ہو جائے اور رضائے الٰہی کی خاطر بنا شوہر والی عورت اور مسکین کے لئے کوشش کرکے کسی قسم کی تھکاوٹ اور مشقت اٹھائے بغیر روزے داروں اور عبادت گزاروں کا درجہ پا کر اپنی تجارت کا نفع حاصل کر لے اور یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل ہے ، وہ جسے چاہے عطا کر دے۔ ‘‘( )ایک اہم مدنی پھول:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ بنا شوہر والی عورت اگر غیر محرم ہوتو اُس کے اَخراجات اور ضروریات کا انتظام کرنے والے کو پردہ کرنا ضروری ہے ، اسی طرح بلااجازتِ شرعی تنہائی سے بھی بچنا ہوگا۔ اِس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ایسا شخص اپنے گھر کی کسی محرم عورت کے ذریعے اس عورت کی مدد کرے ، نیز اس بات کابھی خیال رکھنا ہوگا کہ اس طرح کرنے سے کسی بھی قسم کے فتنے کا اندیشہ نہ ہو ، بصورت دیگر اُس پر لازم ہے کہ وہ اُس مستحب کام کو چھوڑدے ، ایسا نہ ہو کہ مستحب کام کرنے کی وجہ سے حرام کام میں جاپڑے اور ثواب کے بجائے عذابِ جہنم کا حق دار ہوجائے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینمدنی گلدستہ
’’رحمٰن‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اِسلام اپنے ماننے والوں کو غرباء ومساکین اور نادار لوگوں کی مدد کرنے کا درس دیتا ہے۔
(2)بنا شوہر والی عورت اور مسکین کی ضروریات کا انتظام کرنے والے کا ثواب مجاہد اور عبادت گزار آدمی کے ثواب جیسا ہے۔
(3)کمزور وناتواں لوگوں کی مدد کرنا آخرت کی ایسی تجارت ہے جس میں کوئی نقصان نہیں ہے۔
(4)مستحب پر عمل کرتے ہوئے حرام میں پڑ جانے کا خطرہ ہو تواُس مستحب پر عمل کرنا منع ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں غُرَباء ومَسَاکین اورنادار لوگوں کی مدد کرنے اور اُس پر ملنے والے عظیم اجروثواب کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں فرائض ووجبات کی ادائیگی کرنے اور حرام کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 265