- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- حدیث نمبر 261
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَبِیْ هُبَيْرَةَ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو الْمُزَنِیِّ وَهُوَ مِنْ اَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ اَبَا سُفْيَانَ اَتٰی عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبلاَلٍ في نَفَرٍ فَقَالُوْا : مَا اَخَذَتْ سُيُوفُ اللهِ مِنْ عَدُوِّ اللهِ مَاْخَذَهَا فَقَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
اَتَقُوْلُوْنَ هٰذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ فَاَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرهُ فَقَالَ : يَا اَبَا بَكْرٍ! لَعَلَّكَ اَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ اَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ اَغْضَبْتَ رَبَّكَ فَاَتَاهُمْ فَقَالَ : يَا اِخْوَتَاهُ اَغْضَبْتُكُمْ قَالُوْا : لَا يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا اُخَيَّ. ( )
وعن ابی هبيرة عائذ بن عمرو المزنی وهو من اهل بيعة الرضوان رضي الله عنه ان ابا سفيان اتی على سلمان وصهيب وبلال في نفر فقالوا : ما اخذت سيوف الله من عدو الله ماخذها فقال ابو بكر رضي الله عنه
اتقولون هذا لشيخ قريش وسيدهم فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فقال : يا ابا بكر! لعلك اغضبتهم لئن كنت اغضبتهم لقد اغضبت ربك فاتاهم فقال : يا اخوتاه اغضبتكم قالوا : لا يغفر الله لك يا اخي. ( )
حدیث ترجمہ
حضر ت سَیِّدُنا ابو ہبیرہ عائذ بن عَمرو مُزنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے جو اَصحاب بیعت رضوان میں سے ہیں ، فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان ، حضرت صُہَیب اورحضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم چند لوگوں میں موجود تھے ، اُس وقت اُن کے پاس ابو سُفیان آئے تو اُن سب نے کہا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تلواریں اللہ عَزَّوَجَلَّکے دُشمن کی گردن میں اپنی جگہ سے نہیں گزریں۔ ‘‘یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ کیا تم قریش کے شیخ اور اُن کے سردار کےبارے میں اِس طرح کہتے ہو؟‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضرہوئے اور آپ کو خبر دی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابوبکر! تم نے (یہ بات کہہ کر) شاید اُن حضرات کو ناراض کردیا ہے ، اگر تم نے انہیں ناراض کردیا تو تم نے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو ناراض کردیا۔ ‘‘یہ سن کر حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن کے پاس تشریف لائے اورفرمایا : ’’اے میرے بھائیو !لگتا ہے میں نے تمہیں ناراض کردیا؟‘‘ انہوں نے کہا : ’’نہیں ، اے میرے پیارے بھائی!اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی بخشش فرمائے۔ ‘‘
شرح حدیث
حدیث پاک میں مذکور واقعے کا خلاصہ:اِس حدیث پاک میں بیان کیے گئے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد (اور فتح مکہ سے پہلے ) کفارِمکہ کے ایک بڑے سردار ابوسفیان (جو فتح مکہ کے موقع پر اسلام لےآئے تھے)مدینہ منورہ آئے ، وہاں ایک مقام پر حضرت سیدنا سلمان ، حضرت سیدنا صُہَیْب اورحضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم چند لوگوں کے درمیان موجود تھے ، اُن کے پاس ابو سفیان آئے تو اُن حضرات نے کہا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تلواریں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دشمن کی گردن میں اپنی جگہ سے نہیں گزریں۔ ‘‘اِس سے مراد یہ تھی کہ ہماری تلواروں نے ابھی تک ابو سفیان کی گردن نہیں کاٹی۔ یہ سن کر حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُن سے فرمایا : ’’ کیا تم قریش کے ایک بڑے شخص اور اُن کے سردار کےبارے میں اِس طرح کے( سخت) الفاظ کہتے ہو؟‘‘پھر
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولِ اَکرم ، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضرہوئےاور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اِن حضرات نے ابوسفیان سے یہ کہا تھا اور میں نے انہیں یہ کہا ہے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے ابوبکر !تمہاری نیت بالکل درست ہے مگر اس میں ایک کافر کی حمایت اور مؤمنوں کی تادیب (یعنی سرزنش) کی مہک آرہی ہے ممکن ہے کہ اِس وجہ سے اِن کے دلوں کو صدمہ پہنچا ہو ، اگر تم نے انہیں ناراض کردیا تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو ناراض کردیا۔ ‘‘یہ سن کر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن کے پاس آئے اورفرمایا : ’’اے میرے بھائیو !لگتا ہے میں نے تمہیں ناراض کردیا؟‘‘ توانہوں نے دعا دیتے ہوئے کہا : ’’نہیں ، اے میرے بھائی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی بخشش فرمائے۔ ‘‘( )نیک لوگوں کا احترام کیا جائے:اِس حدیث پاک سے معلوم ہو اکہ رب تعالیٰ کے نیک بندوں کا اِحترام کرنا چاہیے اور ایسی باتوں سے بچا جائے جو اُن کی ناراضی اور اذیت و تکلیف کا سبب بنیں کیونکہ جو شخص رب تعالیٰ کے اولیاء میں سے کسی کو تکلیف پہنچاتا ہے اُس سے رب تعالیٰ بھی ناراض ہوجاتا ہے اور رب تعالیٰ کو ناراض کرنا اس کے عذاب کو دعوت دینا ہے۔ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کئی مقامات پر نیک لوگوں کے اِحترام کی تعلیم وترغیب دی ہے ، چنانچہ ایک مقام پراللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ-(پ۷ ، الانعام : ۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمّہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے۔
حضرت سَیِّدُناابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ بوڑھے مسلمان اوراُس حامل قرآن کا احترام کرنا جو نہ تو اُس میں زیادتی کرے اور نہ اُس سے دور رہے اور عادِل بادشاہ کا احترام کرنا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم میں سے ہے۔ ‘‘( )
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں نیک بندوں کا اِحترام اور اُن کی تعظیم و توقیر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعاشرے کا ناسوروفسادات کا بڑا سبب:صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے حضرت ابو سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےمتعلق حضرت سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کلام سن کر اُن کی نیک نیتی پر شک نہیں کیا اور نہ ہی اُن پر کسی طرح کے الزامات کی بوچھاڑ کی بلکہ جب حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اُن کے پاس آ کر دریافت فرمایا تو انہوں نے صاف طور پر کہہ دیا کہ وہ اُن سے ناراض نہیں ہیں۔ اِس سےمعلوم ہو اکہ مسلمان بھائی جو کلام کرے اُس کے اچھے معنی مراد لئے جائیں اور خوامخواہ اُ س کے کلام کو بُرے معنی پر محمول کر کے رَنجش و ناراضی ، لڑائی جھگڑا اور فساد برپا نہیں کرنا چاہیے۔ افسوس!آج کل اپنے مسلمان بھائیوں کے کلام سے اچھا معنیٰ مراد لینے کے بجائے بُرے معنی مراد لینا ہمارے معاشرے کا ایک ناسور اور کئی طرح کے فسادات کا بڑا سبب بن چکا ہے اور اِس کے نتائج بھی ہمارے سامنے ہی ہیں کہ کوئی گھر ، کوئی گلی ، کوئی محلہ ، کوئی علاقہ ، کوئی شہرایسا نہیں جہاں امن وامان کی ٹھنڈی ہوا چلتی ہو بلکہ ایک مسلمان اپنےدوسرے مسلمان بھائی کےساتھ دست وگریباں ہے ، باپ بیٹے سے تو بیٹا باپ سے بدتمیزی کرتا ہے ، ماں بیٹی کی آپس میں تکرار جاری ہے ، گلی محلے اور شہروں کی سڑکوں پر عدم برداشت کےمظاہرے تو آئے دن ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں ، رشتہ داروں کی آپس میں ٹھنی ہوئی ہے ، پڑوسی ایک دوسرے سے نالاں ہیں ، دوست اَحباب کی باہمی دوستی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ، ساتھ کام کرنے والے ایک دوسرے پر تنقید برائے تنقید کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں اور بسا اَوقات یہ لڑائیاں ، جھگڑے اور فساد اِس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگ زندگی بھر ایک دوسرے کا منہ دیکھنا ، ایک دوسرے سے کلام کرنااورایک دوسرے کی غمی خوشی میں شریک ہونا گوارا نہیں کرتے ، کسی پر مصیبت آجائے تو خوشیاں مناتےاورموقع ملنے پر ایک دوسرے کو ذلیل و رُسوا کرتے نظر آتے ہیں اور اِن سب بُرائیوں کی بنیادی جڑ یہی ہے کہ ہم نے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے کلام کو اچھے معنی پر محمول کرنے کے بجائے بُرے معنی لینا شروع کردیے ہیں ، حسن ظن کے بجائے بدگمانی کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ
عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کے متعلق بُرے گمان سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ سورہِ حجرات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ(پ۲۶ ، الحجرات : ۱۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔
مفسرِقرآن صدرُ الافاضل حضرتِ علامہ مولانا مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اِسی آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’مومنِ صالح کے ساتھ بُرا گمان ممنوع ہے ، اسی طرح اُس کا کوئی کلام سن کر فاسِد معنیٰ مراد لینا باوجود یہ کہ اُس کے دوسرے صحیح معنیٰ موجود ہوں اور مسلمان کا حال اُن کے موافق ہو ، یہ بھی گمانِ بد میں داخل ہے۔ ‘‘( )
دوسری آیت میں کافروں کا طرزِ عمل بیان کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :وَ مَا یَتَّبِـعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّاؕ-اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ(۳۶)(پ۱۱ ، یونس : ۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ان میں اکثر تو نہیں چلتے مگر گمان پر بیشک گمان حق کا کچھ کام نہیں دیتا بیشک اللہ ان کے کاموں کو جانتا ہے۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ جب بھی وہ اپنے مسلمان بھائی کا کلام سنے تو جہاں تک ممکن ہو اس کو اچھے معنیٰ پر ہی محمول کرے جبکہ اُس میں اچھے معنیٰ پائےبھی جاتےہوں ، فقط اپنے سوچ کے مطابق بُرے معنی نکالنے سےبچے کہ بلا وجہِ شرعی بُرے معنی مراد لینے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔دنیا کی رنجشیں جلد ختم کر لینی چاہئیں:مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دُنیوی رنجشیں بہت جلد دور کرلینی چاہئیں اورجس سے شکایت ہو اُس سے براہِ راست مل کر بات کرکے معاملے کو درست کرلینا چاہیے تاکہ آپس میں فساد اور باہمی تعلقات میں بگاڑ پیدا نہ ہو ، احادیث میں باقاعدہ ا س کی ترغیب بھی دی گئی ہے ، چنانچہ حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :
’’باہمی عداوت سے بچو کیونکہ یہ مونڈ دینے(یعنی دین کو خراب و برباد کرنے دینے )والی چیز ہے۔ ‘‘( )
حضرت سَیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس کا درجہ روزے ، نماز اور زکوٰۃ سے زیادہ ہے؟‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’کیوں نہیں ۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’آپس میں تعلقات کو خوشگوار رکھناکیونکہ باہمی تعلقات کا بگاڑ مونڈ دینے والی چیز ہے ۔ ‘‘دوسری روایت میں ہے : ’’یہ مونڈ دینے والی چیز ہے اور میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بالوں کو مونڈ دیتی ہے بلکہ وہ دِین کو مونڈ(یعنی خراب کر)دیتی ہے۔ ‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اِس حدیث پاک کو پڑھنےکے بعد اگر ہم اپنےآپ پر غور کریں تو یہ بات بالکل ظاہر ہوجائےگی کہ واقعی ہم میں سے کئی لوگ ایسے ہیں جو خوامخواہ اپنے دیگر مسلمان بھائیوں سے تعلقات خراب کیے ہوئےہیں اور تعلقات کی خرابی کا باعث کوئی شرعی قباحت نہیں بلکہ عموماً کوئی نہ کوئی دُنیوی معاملہ ہوتا ہے ، کاش ہم بھی مذکورہ اَحادیث پر عمل کرنے والے بن جائیں ، اپنے مسلمان بھائیوں سے تعلقات توڑنے والے نہیں بلکہ جوڑنے والے بن جائیں ، اُن کی چھوٹی چھوٹی باتوں کو محسوس کرنے کے بجائے عفو ودرگزر سے کام لینے والے بن جائیں ، اپنے مسلمان بھائی کے کلام کو جہاں تک ممکن ہو اچھے معنی پر محمول کرنے والے بن جائیں ، بدگمانی کے بجائے حسن ظن کو اپنالیں ، اگر ہم اِن مدنی پھولوں پر عمل کرنے والے بن گئے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ اِس کی برکت سے ایک بہترین اور پرامن معاشرہ قائم ہوگا۔مدنی گلدستہ
خواجہ ’’غریب نواز ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول(1)اسلام وہ پیارا مذہب ہے جس میں غریبوں اور مسکینوں کو بہت اہمیت وفضیلت دی گئی ہے۔
(2)اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا و خوشنودی مسکینوں،غریبوں
اور خاص طور پر مسکین صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی رضا وخوشنودی میں ہے اور اُن کی ناراضی اِن حضرات کی ناراضی میں ہے۔
(3)نیک لوگوں کو اذیت دینے اور ناراض کرنے والی باتوں سے بچنا چاہیے اور اُن کا احترام کرنا چاہیے۔
(4)اپنے مسلمان بھائی کے کلام کو جہاں تک ممکن ہو اچھے معنی پر محمول کرنا چاہیے، بلا وجہ شرعی اس کے کلام کو برے معنیٰ پر محمول کرنا اور اس پر فساد برپا کرنا یا لڑائی جھگڑا کرنا مسلمان کی شان نہیں۔
(5)بدگمانی میں کوئی خیر نہیں، اپنے مسلمان بھائی اوراس کے کلام کے متعلق حسن ظن ہی رکھنا چاہیے۔
(6)دنیاکی رنجشیں دور کرنے میں جلدی کرنی چاہیے اور جس سے کوئی شکایت ہو اس سے براہِ راست مل کر اپنے معاملات کو شرعی طریقے کے مطابق حل کرلینا چاہیے۔
(7)باہمی تعلقات کا بگاڑ وباہمی دشمنی یہ دونوں دِین کو تباہ وبرباد کردیتے ہیں۔
(8)کسی دُنیوی معاملے کی وجہ سے آپس کے تعلقات کو خراب کرنا بے وقوفی ہے جبکہ چھوٹی چھوٹی باتوں کو درگزر کرتے ہوئے آپس کے تعلقات کو بنائے رکھنا نہایت ہی سمجھداری کا کام ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں غریبوں مسکینوں کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے ، اُن کی دل آزاری سے بچائے ، ہمیں بدگمانی سے بچنے اور حسن ظن رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 261