Main Icon

باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 914

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ:دَخَلتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َوهُو يُوْعَكُ فَمَسِسْتُهُ فَقُلْتُ:اِنَّكَ لَتُوْعَكُ وَعْكاً شَدِيْدًا فَقَالَ: اَجَلْ اِنِّي اُوْعَكُ كَمَا يُوْعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ.

عن ابن مسعود رضي اللہ عنه قال:دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو يوعك فمسسته فقلت:انك لتوعك وعكا شديدا فقال: اجل اني اوعك كما يوعك رجلان منكم.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تیز بخار تھا۔میں نے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو چھوا تو عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”ہاں مجھے تمہارے دو مَردوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔“

شرح حدیث

حدیث کی باب سے مناسبت:یہ باب اس بارے میں ہے کہ مریض یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھے درد ہے یا بخار ہے لیکن اس کا یہ کہنا شکایت یا جزع فزع کے طور پر نہ ہو۔اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :” ہاں مجھے تمہارے دو شخصوں کے برابر بخار ہوتا ہے۔“یعنی اپنے مرض کا ذکر فرمایالیکن مرض کا یہ اِظہار کرنا شکوہ و شکایت کے طور پر نہ تھا۔ اسی لیےاِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیِّنے یہ حدیث یہاں ذکر کی۔مریض کے جسم پر ہاتھ رکھنے کی وجہ:حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابنِ مسعودرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ مبارک کو چھوا تو انہیں بخار کی شدت کا اندازہ ہوا اس کے تحتعَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَالفرماتے ہیں:”مریض کے جسم پر ہاتھ رکھنا مریض کو مانوس کرنے کے لیے ہے اور اِس سے مرض کی شدت و نوعیت کا اندازہ بھی ہوجاتا ہے کہ وہ کتنا بیمار ہےتاکہ عیادت کرنے والا مریض کے لیے اُس کے مرض کے حساب سے دعا کرے۔“بخار مرضِ انبیا ہے:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:معلوم ہوا کہ غلام آقاکی مزاج پرسی بھی کرے اور اس کےجسم کو ہاتھ بھی لگائے۔خیال رہےکہ بخارمرضِ انبیاہے،ہمارے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی وفات بخار ہی سے ہوئی۔ ایک اور مقام پرمفتی صاحب فرماتے ہیں: ”حضور کی وفات شریف دردِ سر اور بخار سے ہوئی ہے،بخار مبارک بیماری ہے دوسری بیماریاں ایک ایک عضو کو ہوتی ہیں اسی کے گناہ اس سے معاف ہوتے ہیں مگر بخار سارے جسم پر چھا جاتا ہے اور رگ رگ کے گناہ نکال کر معاف کرادیتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’صالحین‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) اپنے مرض کا اظہار کرنا جائز ہے جبکہ شکوہ وشکایت کے طور پر نہ ہو۔
(2) مریض کو چاہیے کہ بیماری پر صبر کرے اور جزع و فزع نہ کرے۔
(3) عیادت کرنے والے کو چاہیے کہ مریض کے جسم پر ہاتھ رکھے تاکہ مرض کی شدت کا اندازہ ہو۔
(4) چھوٹا بڑے کے، غلام آقا کے اور ملازم اپنے افسر کے سر یا جسم پر ہاتھ رکھ کر عیادت کر سکتا ہے۔
(5) بخار ایسا مرض ہے جس میں انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکو مبتلا فرمایا گیا۔(6) ∞نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وِصال بخار ہی میں ہوا۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ ہمیں مہلک اَمراض سے محفوظ فرمائے اور بے حساب مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 914