Main Icon

باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 916

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ:قَالَتْ عَائشَةُ رَضِيَ اللہُ عَنْهَا:وَارَاْسَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : بَلْ اَنَا وَارَاْسَاهُ.

عن القاسم بن محمد قال:قالت عائشة رضي اللہ عنها:واراساه فقال النبي صلى اللہ عليه وسلم : بل انا واراساه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا قاسم بن محمدرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانےکہا:”ہائے میرا سر۔“توحضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”بلکہ ہائے میرا سر۔“

شرح حدیث

حدیث کی باب سے مناسبت:اس حدیث میں حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَااورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے سرکے درد کا اظہار کیا اور یہ باب اسی بارے میں ہے کہ مریض یہ کہہ سکتا ہے کہ ہائے میرا سر یا مجھے بخار ہے وغیرہ وغیرہ ۔سرکار کا دَرد حضرت عائشہ کو محسوس ہوا:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کبیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناِس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حضرت اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ کے سر میں درد تھا،انہوں نے فرمایا :ہائے میرا سر پھٹا جارہا ہے۔(پھرحضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: بلکہ ہائے میرا سر۔) یعنی اے عائشہ! تمہارے دردِ سر کو تواِنْ شَآءَ اللّٰہآرام ہوجائے گا۔دردِ سرابھی ابھی مجھے شروع ہوا ہے،یہ درد مرضِ وفات کی ابتدا ہے۔یہاں(صاحبِ) مرقات نے فرمایا کہ دردِ سر اَصل میں حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو تھا اِس کا اثر حضرت عائشہ صدیقہ پر ہوا کہ اِس درد کی چمک اُن کے سر شریف میں محسوس ہوئی کمالِ محبت کی وجہ سے۔اب بھی دیکھا جاتا ہے کہ پردیس میں بیٹا بیمار ہو تو گھر پر ماں کا دل دھڑکتا ہے بلکہ ماں بیمار پڑجاتی ہے،دلی محبت کے انداز نرالے ہیں۔جس اُمَّتی کو حضور اب بھی یاد فرماتے ہیں وہ اُمَّتی کہیں ہو تڑپنے لگتا ہے۔ جب رب بندے کو عرش پر یاد کرتا ہے تو بندہ رب کی یاد میں دیوانہ ہوتا ہے ۔اس باب میں بخار اور دَرْدِ سر کے بارے میں ذکر ہوا لہٰذا سر درد کے بارے میں ایک ایمان افروز حکایت پڑھیئے اور جھومیے۔سَر دَرد کے شکرانے میں 400 رَکعَت نفل:شیخ طریقت امیر اہلسنت بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد اِلیاس عطّار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃاپنے رسالے ”بیمار عابد“ کے صفحہ نمبر 12 پر ایک حکایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: منقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا فتح موصلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَ لِیکو دَردِ سر ہوا تو خوش ہوکر ارشاد فرمایا:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے مجھے وہ مَرَض عنایت فرمایا جو انبیائے کِرامعَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَامکو درپیش ہوتا تھا لہٰذا اب اس کا شکرانہ یہ ہے کہ میں 400 رَکعت نَفْل پڑھوں۔“بخار اور دَردِ سر مبارک اَمراض ہیں:ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صفحہ118 پر ہے: دَردِ سر اور بخار وہ مبارک اَمراض ہیں جو انبیاعَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَامکو ہوتے تھے ، ایکوَلِیُّ اللّٰہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے دردِ سر ہوا ، آپ نے اس شکریہ میں تمام رات نوافل میں گزاردی کہ ربُّ العزتتَبَارَک وَتَعَالٰینے مجھے وہ مرض دیا جو انبیاعَلَیْہِمُ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَامکوہوتا تھا ۔اللّٰہ اَکْبَر!یہاں یہ حالت کہ اگر برائے نام درد معلوم ہوا تو یہ خیال ہوتا ہے کہ جلد نماز پڑھ لیں۔پھر فرمایا : ہر ایک مرض یا تکلیف جسم کے جس مَوضِع (یعنی جگہ )پر ہوتی ہے وہ زیادہ کفّارہ اسی موقع(یعنی مقام) کا ہے کہ جس کاتعلق خاص اس سے ہے لیکن بخاروہ مرض ہے کہ تمام جسم میں سرایت کرجاتا ہےجس سےبِاِذْنِہٖ تَعَالٰی(یعنیاللّٰہتعالیٰکے حکم سے ) تمام رگ رگ کے گناہ نکال لیتا ہے ۔
بخار کے چار4 روحانی علاج مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ”بیمار عابد“کے صفحہ نمبر25 پراورسر دَرد کے5 پانچ علاج اسی رسالے کے صفحہ نمبر 37 پر ملاحظہ فرمائیں۔
مدنی گلدستہ’’نبی‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مرضِ وفات کی ابتدا دردِ سر سے ہوئی۔
(2) دَردِ سر اور بخار ایسے مبارک اَمراض ہیں جو انبیائے کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَامکوہوتے تھے۔
(3) بخار وہ مرض ہے جو تمام جسم کے رگ رگ کےگناہ نکالتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں بیماری میں شکوہ اور شکایت کرنے سے بچائے اور صبر کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 916