Main Icon

باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1047

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰىرَضِیَ اﷲ عَنْہُاَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ صَلَّى الْبَرْدَ يْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ.

عن ابی موسىرضی اﷲ عنہان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال:من صلى البرد ين دخل الجنة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :” جس نے دو ٹھنڈی نمازیں پڑھیں وہ جنت میں جائے گا۔ “

شرح حدیث

ٹھنڈی نمازوں سے مراد:اِمَام ابوزکریا یحیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد فجر اورعصر کی نمازیں ہیں۔“( )علامہ خطابیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہ دونوں نمازیں دن کے دونوں کناروں میں پڑھی جاتی ہیں جبکہ ہوا خوشگوار اور گرمی کی شدت جاتی رہتی ہے اس لئے انہیں ٹھنڈی نمازیں کہا گیا۔
¥جنت میں داخلے سےکیامراد ہے؟
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:حدیث پاک میں جنت میں داخلے سے کیا مراد ہے ؟اس میں دو ا حتمال ہوسکتے ہیں:(1)فجر وعصر کی نماز پڑھنے والاابتدامیں نجات پانے والوں کے ساتھ جنت میں داخل ہوگا جبکہ وہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہاہویا کبائر کامرتکب تو ہوامگرتوبہ کرلی ہو یاتوبہ بھی نہیں کی مگراﷲ عَزَّ وَجَلَّنےاپنی رحمت سے معاف فرمادیا۔(2)فجروعصر کی نمازپڑھنے والا اپنے اعمال کا بدلا پاکر بالآخر جنت میں ضرور جائے گا۔اس میں فجر وعصر کی پابندی کرنے والوں کےلئے ایمان پر خاتمےکی بشارت ہے کیونکہ جنت میں صرف وہی داخل ہوسکے گا جس کا خاتمہ ایمان پر ہواہوگا۔فجر اورعصرکوبطورِ خاص ذِکر کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْغَنِیفرماتے ہیں:’’فجر وعصرکوبطورِخاص ذکر کرنے کا مقصدان کی عظمت وشان بیان کرنااورانہیں پابندی سے پڑھنے کی ترغیب دلاناہےکیونکہ ان نماز وں میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔‘‘فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”ان دونوں نمازوں کی خصوصیت کی وجہ یہ ہے کہ فجر کا وقت سونے کا ہے اور عصر کے بعد لوگ بازاروں میں خریدوفروخت میں مشغول ہوتے ہیں یا دوسرے کاموں میں، نیز ملائکہ ان دونوں اوقات میں بدلتے ہیں جو ان نمازوں کا پابند ہوگا اس کاآخری عمل جو خدا کی بارگاہ میں پیش ہوگا وہ نماز ہوگی۔علاوہ ازیں حضرت عبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُپر موقوف ایک حدیث میں ہے:”نماز صبح کے وقت ایک منادی ندا دیتا ہے،اے ابنِ آدم!اٹھو اور اپنے اوپر جو جلارہے ہو بجھاؤ۔اسی طرح نماز عصر کے بعد بھی یہ ندا دیتا ہے۔اس پر جو لوگ طہارت کرکے نمازپڑھ لیتے ہیں تو جب سوتے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں رہتا۔‘‘مدنی گلدستہ’’عصر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) فجر اور عصر کی نمازیں چونکہ ٹھنڈے اوقات میں پڑھی جاتی ہیں اس لئے انہیں حدیث پاک میں ٹھنڈی نمازوں سے تعبیر کیا گیا۔
(2) فجر اورعصر کی پابندی کرنے والوں کےلئے ایمان پر خاتمےکی بشارت ہے۔
(3) فجر اورعصر کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں تمام نمازوں بالخصوص نمازِفجر وعصر کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1047