Main Icon

باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1048

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی زُهَيْرٍعُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:لَنْ يَّلِجَ النَّارَاَحَدٌ صَلَّی قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا يَعْنِي:الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ.

عن ابی زهيرعمارة بن رويبة رضی اﷲ عنہ قال:سمعت رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم يقول:لن يلج الناراحد صلی قبل طلوع الشمس وقبل غروبها يعني:الفجر والعصر.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو زہیر عُمارہ بن رُوَیبہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےوہ کہتے ہیں کہ میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”جس نے طلوعِ آفتاب اورغروب آفتاب سےقبل نماز پڑھی یعنی فجر وعصر کی نماز پڑھی وہ ہرگزجہنم میں نہ جائے گا ۔“

شرح حدیث

جہنم میں نہ جانے سے کیا مراد ہے ؟مرآۃ المناجیح میں ہے :اس(حدیث)کے دومطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ فجروعصرکی پابندی کرنے والادوزخ میں ہمیشہ رہنے کے لئے نہ جائے گا،اگر گیا تو عارضی طورپر۔دوسرے یہ کہ فجروعصر کی پابندی کرنے والوں کواِنْ شَآءَ اﷲباقی نمازوں کی بھی توفیق ملے گی اورسارے گناہوں سے بچنے کی بھی کیونکہ یہی نمازیں زیادہ بھاری ہیں جب ان پر پابندی کرلی تواِنْ شَآءَ اﷲبقیہ نمازوں پربھی پابندی کرے گا۔لہٰذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ نجات کے لئے صرف یہ دونمازیں ہی کافی ہیں باقی کی ضرورت نہیں۔عبادت سے محبت کی علامت:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’فجرکا وقت میٹھی نیند کاوقت ہےاور عصرکا وقت دن کے کام کاج کے اختتام اوررات کےکھانے کی تیاری کا وقت ہوتا ہے۔ان مشاغل کے باوجود وقت پر یہ نما زیں اداکرنا سستی سے دوری اورعبادت سے محبت کی علامت ہےلہٰذا جو مسلمان ان دو نمازوں کاپابند ہوگا وہ بقیہ نمازوں کا اور بھی زیادہ پابند ہوگا۔‘‘
شیخ عبد الحق مُحَدِّث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’ظاہر یہ ہے کہ اس حدیث سے ان دو نمازوں کی فضیلت میں مبالغہ مراد ہے کہ یہ نمازیں اس قدر افضل و اعلیٰ ہیں کہ ان کو پابندی سے ادا کرنے والا ہرگز دوزخ میں نہ جائے گا۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّبندوں کو ان کے ہر عمل پر جزا دیتا ہے وہ چاہے تو ان دونمازوں کو پابندی سے پڑھنے والے کو عذاب نہ دے،اپنے فضل سے بخش دےاور اس سے راضی ہوجائے۔‘‘

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1048