Main Icon

باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 885

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی الْخَطَّابِ قَتَادَةَ قَالَ: قُلْتُ لِاَنَسٍ:اَكَانَتِ الْمُصَافَحَةُ فِی اَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟قَالَ:نَعَمْ.

عن ابی الخطاب قتادة قال: قلت لانس:اكانت المصافحة فی اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم؟قال:نعم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوخطّاب قتادہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُنا انَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے پوچھا:”کیارسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صَحابہ ٔکرام آپس میں مُصافَحہ کیا کرتے تھے؟‘‘آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:’’ ہاں! وہ آپس میں مصافحہ کیا کرتے تھے۔‘‘

شرح حدیث

علامہ غُلام رَسول رَضَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:حضراتِ صَحابہ کِرامرَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمْاَفعالِ شَرعِیّہ میں اُمَّت کے قُدْوَہ اور پیشوا ہیں۔سیِّدِ عالَمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنےفرمایا:”میرے صَحابہ ستاروں کی مانند ہیں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے۔“ وہ جب ایک دو سرے سے ملتے تھے تو مُصافَحہ کرتے تھے۔
اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت امام احمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”مُصافَحہ سنّت ہے اور اس کا وقْت اِبتدائے ملاقات ہے خواہ اِبتدائے حقیقی ہو جیسے جو شخص ابھی آیا ،یا حکمی جیسے کوئی بد مذہب آیا اور بیٹھا اور گفتگو کرتا رہا اور ہِدایت پائی اور سُنّی ہوا تو جتنے حاضِرین اہلسنّت ہیں ان سب کو اس سے مُصافَحہ چاہیے جیسا کہ امیرالمؤمنین مَولاعلیکَرَّمَ اللّٰہ وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے اس کا حکم دیا۔ نَماز کے بعد بھی مُصافَحہ اسی اِبتدائے حکمی میں داخل ہے کہ نَمازی نَماز میں دوسرے عالَم میں ہوتا ہے اس لئے شریعتِمُطَہَّرَہمیں ختْمِ نَماز میں ایک دوسرے پر سلام رکھا۔ دن میں اگر کئی بار ملتا ہو تو ہر بار مُصافَحہ چاہیے۔“مُصافَحہ کے مَدَنی پھول:بہارِشریعت میں ہے:”مُصافَحہ یہ ہے کہ ایک شخص اپنی ہتھیلی دوسرے کی ہتھیلی سے ملائے، فقط اُنگلیوں کے چُھونے کا نام مُصافَحہ نہیں۔مُصافَحہ میں سنّت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مُصافَحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابَین کپڑا وغیرہ حائِل نہ ہو۔مُصافَحہ کا سنّت طریقہ یہ ہے کہ جب دو مسلمان باہَم ملیں تو پہلے سلام کیا جائے اس کے بعد مُصافَحہ کریں۔جتنی بار ملاقات ہو ہر بار مُصافَحہ کرنا مُسْتَحبّ ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 885