Main Icon

باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 888

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَجُلٌ: يَارَسولَ اللهِ اَلرَّجُلُ مِنَّا يَلْقٰى اَخَاهُ اَوْصَدِيْقَهُ اَ يَنْحَنِيْ لَهُ؟ قَالَ:لَا.قَالَ:اَفَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ؟قَالَ:لَا، قَالَ:فَيَاْخُذُ بِيَدِهٖ وَيُصَافِحُهُ؟ قَالَ:نَعَمْ.

عن انس رضي الله عنه قال:قال رجل: يارسول الله الرجل منا يلقى اخاه اوصديقه ا ينحني له؟ قال:لا.قال:افيلتزمه ويقبله؟قال:لا، قال:فياخذ بيده ويصافحه؟ قال:نعم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرْض کی:”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملاقات کرتے ہوئے اس کے سامنے جُھک سکتا ہے؟‘‘فرمایا:’’نہیں۔‘‘عرض کی:’’کیا گلے مل کر اسے چُوم سکتا ہے؟‘‘فرمایا: ’’نہیں۔‘‘ پھرعرض کی:’’ کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر اس سے مُصافَحہ کرسکتا ہے؟‘‘فرمایا:’’ہاں۔“

شرح حدیث

مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”جھکنا رُکوع ہے اور غَیرِ خُدا کو جیسے سجدہ کرنا حرام ہے ایسے ہی رُکوع کرنا بھی حرام ہے۔خیال رہے کہ جھکنا جب ممنوع ہے جب کہ تعظیم کے لیے ہو،اگر جھکنا کسی اور کام کے لیے ہو اور وہ کام تعظیم کے لیے ہو تو جائز جیسے کسی کے جُوتے سیدھے کرنے یا اس کا ہاتھ یا پاؤں چُومنے کے لیے جُھکنا ممنوع نہیں کہ یہ جھکنا اور کاموں کے لیے ہے۔لپٹنے اورچُومنے کی مُمانَعت کی چند وجہیں ہوسکتی ہیں: ہر ایک سے مُعانَقہ کرنا،ہر ایک کے ہاتھ پاؤں چُومنا منع ہے،خاص بُزرگوں کی دسْت و پا بوسی اور خاص پیاروں کو گلے لگانا جائز ہے یا دُنیاداروں، مالداروں سے خُوشامَد کے لیے لپٹنا،ان کے ہاتھ پاؤں چُومنا دُرُست نہیں،لہٰذا یہ حدیث ان اَحادیث کے خِلاف نہیں جن میں مُعانقہ اور دسْت و پا بوسی کا ثبوت ہے،حُضُور نے بعض صَحابہ سے مُعانقہ کیا ہے اور صَحابہ نے حُضُور کے ہاتھ پاؤں چُومے ہیں۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 888