Main Icon

باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 892

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَيْئًا، وَلَوْ اَنْ تَلْقٰى اَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ.

عن ابي ذر رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:لا تحقرن من المعروف شيئا، ولو ان تلقى اخاك بوجه طلق.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا اَبُو ذَرّرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیان کرتے ہیں کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّمنے مجھ سے فرمایا:”کسی بھی نیکی کو حَقِیر نہ جانو خواہ اپنے بھائی سے خَنْدہ پَیشانی سے ملنا ہی کیوں نہ ہو۔“

شرح حدیث

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی حَنَفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْبَارِیفرماتے ہیں:”مسلمانوں سے خُوشی ومَسَرَّت کے ساتھ ملنا بھی نیکی ہے کیونکہ یہ سامنے والے کے دل میں خُوشی پیدا کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی مسلمان کے دل میں خُوشی داخل کرنا نیکی ہے۔‘‘مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کبیر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ’’صُوفِیائے کِرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامفرماتے ہیں کہ کوئی نیکی حَقِیر جان کر چھوڑ نہ دو کہ کبھی ایک گُھونٹ پانی جان بچا لیتا ہے اور کوئی گُناہ حَقِیر سمجھ کر کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چِنگاری گھر پُھونک دیتی ہے۔اِن کا ماخَذ یہ حدیث ہے،مسلمان بھائی سے خُوش ہو کر ملنا، اس کے دِل کی خُوشی کا باعِث ہے اور مومِن کو خُوش کرنا بھی عبادت ہے۔‘‘فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:’’اپنےبھائی سے مُسکرا کرمِلنا تمہارےلیے صَدَقہ ہے اور نیکی کی دعوت دینا اور بُرائی سے منع کرنا صَدَقہ ہے۔‘‘بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنّت ہے:شیخِ طریقت،اَمیرِاہلسنّت،بانی دعوتِ اِسلامی،حضرت علّامہ مَولانا محمد اِلیاس عطّارقادِریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں:’’بیان کردہ حدیثِ مُبارَکہ میں مُسکر ا کر ملنے،نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے منع کرنے کو صَدَقہ کہا گیا۔سُبْحَانَ اللّٰہ! مُسکرا کر ملنے کی تو کیا بات ہے! مُسکر اکرملنا،مُسکرا کر کسی کو سمجھانا عموماً نیکی کی دعوت کے مَدَنی کام کو نِہایت سَہْل و آسان بنا دیتا اور حیرت اَنگیز نتائج کا سبب بنتا ہے۔جی ہاں !آپ کی معمولی سی مُسکراہٹ کسی کا دِل جیت کر اُس کی گناہوں بھری زندَگی میں مَدَنی اِنقلاب بَرْپا کر سکتی ہے اور ملتے وَقْت بے رُخی اور لاپرواہی سے اِدھر اُدھردیکھتے ہوئے ہاتھ ملانا کسی کا دِل توڑ کر اُس کومَعاذَاللّٰہگمراہی کے گہرے گڑھے میں گِر اسکتا ہے۔لہٰذا جب بھی کسی سے ملیں،گفتگو کریں اُس وَقْت حتَّی الْاِمْکان مُسکراتے رہیے۔اگر خُشک مِزاجی یا بے توجُّہی سے ملنے کی خصلت ہے تو مِلنساری اورمُسکرا کر ملنے کی عادت بنانے کےلیے خُوب کوشش کیجئے، بلکہ مُسکرانے کی عادت پکّی کرنے کے‏لیے ضَرورَتًا کسی کی ذِمّے داری بھی لگایئے کہ وہ دوسروں سے بات کرتے ہوئے آپ کا مُنہ پُھولا ہوا یا سَپاٹ مَحسوس کرے تو گاہے بہ گا ہے یاد دِہانی کرواتے ہوئے کہتا رہے یا آپ کو اِس طرح کی تحریر دِکھا دیاکرے:’’بات کرتے ہوئے مُسکرانا سنَّت ہے۔‘‘جی ہاں واقعی یہ سنَّت ہے۔ چنانچِہ منقول ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ دَرْدَاءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا، حضرتِ سیِّدُناابو دَرْدَاءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے مُتَعَلِّق فرماتی ہیں کہ وہ ہر بات مُسکرا کر کیا کرتے،جب میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو اُنہوں نے جواب دیا:’’میں نے حُسنِ اَخلاق کےپیکر، مِلنساروں کے رہبر،غمزدوں کے یاوَر، محبوبِ ربِّ اَکبرصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدَورانِ گفتگو مُسکراتے رہتے تھے۔‘‘
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اُس تبسُّم کی عادت پہ لاکھوں سلام
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 892