Main Icon

باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 891

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاقَالَتْ:قَدِمَ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ المَدِينَةَ وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ بَيْتِيْ فَاَتَاهُ فَقَرَعَ البَابَ فَقَامَ اِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ فَاعْتَـنَقَهُ وَقَبَّلَهُ.

عن عائشة رضي الله عنهاقالت:قدم زيد بن حارثة المدينة ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي فاتاه فقرع الباب فقام اليه النبي صلى الله عليه وسلم يجر ثوبه فاعتـنقه وقبله.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ طیبہ طاہرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: زَید بن حارِثَہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمدینہ مُنَوَّرہ آئے،اس وقْترسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے حُجْرے میں جَلْوَہ فرماتھے،انہوں نے آکر دروازہ کھٹکھٹایا تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنا مُبارَک کپڑا گھسیٹتے ہوئے جلدی سے ان کی طرف تشریف لے گئے،انہیں گلے لگایا اور بوسہ لیا۔

شرح حدیث

مرآۃ المناجیح میں ہے:(زَید بن حارِثہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ)کسی سفر سے آئے یا کسی جہاد سے،عرصہ تک غائب رہنے کے بعد حضُور اَقدَسصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے شَرَفِ ملاقات سے مُشَرّف ہوئے،(ام ا لمومنینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ) اس دن حُضُور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی باری میرے گھر تھی،یہ واقعہ میرے گھر میں دَرْپَیش ہوا جسے میں نے اپنی آنکھوں دیکھا۔اس میں حضرت زَید اِبْنِ حارِثَہ(رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ) کی اِنْتِہائی مَحْبُوبِیَّت کا اِظہار ہے، آپ کو حُضُور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اپنا بیٹا بنایا تھا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خُوشی میں کسی سے گلے ملنا سنّت ہے۔“مُعانَقہ کے مَدَنی پھول:بہارِشریعت میں ہے:”معانَقہ کرنا(یعنی گلے ملنا)بھی جائزہے جبکہ خَوفِ فِتنہ اور اَنْدیشہ ٔشَہْوَت نہ ہو۔جس سے مُعانَقہ کیا جائے وہ صِرْف تہبند یا فقط پاجامہ پہنے ہوئے نہ ہو، بلکہ کُرتا پہنے ہو یا چادَر اوڑھے ہو یعنی کپڑا حائِل ہو۔“بعد نَمازِ عِیْدَیْن مسلمانوں میں مُعانَقہ کا رَواج ہے اور یہ بھی اِظہارِ خُوشی کا ایک طریقہ ہے۔یہ مُعانَقہ بھی جائز ہے، جبکہ مَحلِّ فِتنہ نہ ہو مثلاً اَمْرَد خُوبصورت سے مُعانَقہ کرنا کہ یہ مَحلِّ فِتنہ ہے۔“ اَشِعَّۃُ اللَّمْعَات میں ہے:”گلے ملنے میں اگر فتنے کا خوف نہ ہوتو جائز ومَشْرُوع ہے،خُصُوصاً جب سفر سےآرہا ہو۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 891