Main Icon

باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 887

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ الْبَرَاءِرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَا مِنْ مُسْلِمَينِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ اِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ اَنْ يَفْتَرِقَا.

عن البراءرضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان الا غفر لهما قبل ان يفترقا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا بَرَاءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب دو مسلمان بَوقْتِ ملاقات مُصافَحہ کرتے ہیں تو جُدا ہونے سے پہلے ان کےگُناہ مُعاف کردئیےجاتے ہیں۔“

شرح حدیث

مصا فحہ سے کونسےگناہ معاف ہوتے ہیں؟فرمانِ مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے:”جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہوئے مُصافَحہ کرتے ہيں،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حَمْد کرتے ہيں اور اس سے مُعافی چاہتے ہیں تو ان دونوں کی مغفرت کردی جاتی ہے۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی مُصافَحہ کرتے وقْت دونوں صاحِب پہلے تواللّٰہکی حَمْد، اس کا شُکْر کریں کہ اس نے ان کو اِسلام کی بَرکت سے بھائی بھائی بنا دیا پھر ہرشخص دونوں کے لیے دُعائے مغفرت کرے کہ کہے:یَغْفِرُ اللّٰہ لَنَاوَلَکُمْ(اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہماری اور آپ کی بخشش فرمائے)،بعض لوگ اس وقْت دُرُود شریف پڑھتے ہیں یہ بھی اچھا ہے کہ حُضُور کی سنّت ادا کرتے وقْت حُضُور پر دُرُود شریف پڑھیں جن کے صدْقہ میں یہ سنّت ملی۔“ (خیال رہےکہ )”مُصافَحہ سے گُناہِ صغیرہ جو ہاتھ سے کیے گئے مُعاف ہوجاتے ہیں،گُناہِ کبیرہ اور حُقوقُ الْعِباد مُعاف نہیں ہوتے۔“امامِ اہلسنت،سرکارِاَعلیٰ حضرت امام احمدرضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:”(بوقتِ مصافحہ )دُرُوداور دُعادونوں ہوں اور صِرْف دُرُودکافی ہےکہاَلْحَمْدُ لِلّٰہکے بعد ہر دُعاسے اَفْضَل ہے۔“مدنی گلدستہ’’مُصَافَحَہ ‘‘کے6حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) جب مسلمان آپس میں ملیں اورمصافحہ کریں تو دونوں کے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔
(2) مُصافَحہ کا وقْت اِبتدائے ملاقات ہے،دن میں کئی بار ملاقات ہو تو ہر بار مُصافَحہ کرنا چاہیے۔
(3) اَہلِ یَمَن نے سب سے پہلے مُصافَحہ کو عام کیا ۔
(4) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی بھی پیروی کی جائے کامیابی ملے گی ۔
(5) مُصافَحہ کا سنّت طریقہ یہ ہے کہ جب دو مسلمان باہَم ملیں تو پہلے سلام کریں ،پھر مُصافَحہ کریں۔
(6) مصافحہ کرتے وقت ہاتھوں میں کپڑا یا کوئی اور چیز نہیں ہونی چاہیے تاکہ ہتھیلی سے ہتھیلی ملے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کا ادب واحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 887