Main Icon

باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 889

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ:اِذْهَبْ بِنَااِلٰی هٰذَا النَّبِیِّ، فَاَتَيَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاَلَاهُ عَنْ تِسْعِ آياتٍ بَيِّنَاتٍ فَذَكَرَ الْحَدِيْثَ اِلٰی قَوْلِهِ:فَقَبَّلَا يَدَهُ وَرِجْلَهُ، وَقَالَا:نَشْهَدُاَنَّكَ نَبِيٌّ.

عن صفوان بن عسال رضي الله عنه قال: قال يهودي لصاحبه:اذهب بناالی هذا النبی، فاتيا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالاه عن تسع آيات بينات فذكر الحديث الی قوله:فقبلا يده ورجله، وقالا:نشهدانك نبي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا صَفْوَان بن عَسَّالرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”ایک یہودی نے اپنے دوست سے کہا:آؤ اس نبیّ(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے پاس چلتے ہیں،وہ دونوںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہِ اَقْدَس میں حاضِر ہوئے اورنو روشن نِشانیوں کے مُتَعَلِّق سُوال کیا،(دُرُست جوابات ملنے پر) انہوں نے حُضُور نبیِّ اَکْرَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دسْتِ اَطْہَر اور پاؤں مُبارَک چُوم لیے اورعرْض گُزار ہوئے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبیِّ بَرحقّ ہیں۔“

شرح حدیث

بُزرگوں کی دست بوسی کی برکات:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”زاہِد و نیک شخص، عالِم یا متّقی اور دِینی شرافت رکھنے والے لوگوں کے ہاتھوں کا بوسہ لینا مکروہ نہیں بلکہ مُسْتَحَبّ ہے اور اگر کسی کی مالداری، دُنیاداری،رُعْب و دَبدبے اور دُنیوی عزّت ووَجاہَت کے سبب کسی کے ہاتھ کا بوسہ لیا تو یہ شدید مکروہ ہے بلکہ امام مُتَوَلِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَ لِیتو فرماتے ہیں:یہ ناجائزہے یعنی حرام ہے۔(مزید فرماتے ہیں:) شفقت، رَحمت، مہربانی اور قَرابَت کی مَحبَّت کے پَیشِ نظر اپنی چھوٹی اولادخواہ بیٹا ہویا بیٹی اوراپنے بھائی کے رُخْسارو دیگر اَعْضَاء (مثلاگردن اورپیشانی وغیرہ) کا بوسہ لینا سنّت ہےاوراس عُنوان پر کثیرصحیح اورمشہور اَحادیث موجود ہیں، دوست کے بچّوں اور دیگر بچّوں کا بوسہ لینے کا بھی یہی حُکْم ہے۔تاہم شَہْوَت سے بچّوں کا بوسہ لینا بِالاتفاق حرام ہے اس مُعامَلے میں بچّے اور بڑے برابر ہیں بلکہ رشتے دارہوں یا اَجنبی، (سوائے زوجہ اور شرعی کنیز کے) سب کی طرف شَہْوَت کے ساتھ نظر کرنا بھی بالاتفاق حرام ہے۔“سِلسِلَہ عالِیَہ چِشتِیہ کے عظیم پیشوا حضرت سَیِّدُنابا با فَرِیدُ الدِّین گَنْج شکَررَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”مَشائِخ وبُزرْگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہکی دسْت بوسی یقیناًدِین ودُنیا کی خَیروبَرَکت کاباعِث بنتی ہے ۔ایک دفعہ کسی نے ایک بُزرْگ کو اِنتقال کے بعد خواب میں دیکھا تو ان سے پُوچھا :’’مَا فَعَلَ اللّٰہ بِکَ؟ یعنیاللّٰہتَبارَکَ وتَعَالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سُلُوک کیا ؟ ‘‘ کہا: دُنیا کاہر اچھا ،بُرا معاملہ میرے آگے رکھ دیا گیا اورحکم ہوا کہ اسے دو زخ میں لے جاؤ ! اس حکم پرعمل ہونے ہی والا تھا کہ فرمان ہوا :ٹھہرو ! ایک دفعہ اس نے جامِع دِمَشْق میں خواجہ شریفرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے دسْتِ مُبارَک کو چُوماتھا ۔ اس دسْت بوسی کی بَرَکت سے ہم نے اسے مُعاف کیا۔رحمتِ حق’’بہا‘‘نہ می جُویَد رحمتِ حق ’’بہانہ‘‘ می جُویَداللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت بَہا یعنی قیمت طلب نہیں کرتی ،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت تو بَہانہ ڈھونڈتی ہے ۔بوسہ لینےکےاَحکام:بہار شریعت میں ہے:”بوسہ دینا اگر شَہْوَت کے ساتھ ہو تو ناجائز ہے اور اِکرام و تعظیم کے لیے ہو تو ہوسکتا ہے۔پیشانی پر بوسہ بھی ان ہی شرائط کے ساتھ جائز ہے۔حضرت ابوبَکْر صِدِّیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے حُضُور اَقْدَسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمکی دونوں آنکھوں کے درمیان کو بوسہ دیااور صَحابہ و تابِعینرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اَجْمَعِیْنسے بھی بوسہ دینا ثابِت ہے۔بعض لوگ مُصافحہ کرنے کے بعد خود اپنا ہاتھ چُوم لیا کرتے ہیں یہ مکروہ ہے، ایسا نہیں کرنا چاہیے۔عالِمِ دِین اور بادشاہِ عادِل کے ہاتھ کو بوسہ دینا جائز ہے، بلکہ اُس کے قدم چُومنا بھی جائز ہے۔ بلکہ اگر کسی نے عالِمِ دِین سے یہ خواہش کی کہ آپ اپنا ہاتھ یا قدم مجھے دیجیے کہ میں بوسہ دوں تو اس کے کہنے کے مُطابِق وہ عالم اپنا ہاتھ پاؤں بوسہ کے لیے اس کی طرف بڑھا سکتا ہے۔“عالِم یا کسی بڑے کے سامنے زمین کو بوسہ دینا حرام ہے۔ جس نے ایسا کیا اور جو اس پر راضی ہوا، دونوں گنہگار ہوئے۔“ عورت نےعورت کےمُنہ یا رُخْسارکوبَوقْتِ ملاقات یابَوقْتِ رُخْصَت بوسہ دیا، یہ مکروہ ہے۔“مُصْحَف یعنی قرآنِ مجید کو بوسہ دینا بھی صَحابہ کِرام(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)کے فعل سے ثابِت ہے،حضرت عُمَررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُروزانہ صُبْح کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے: یہ میرے رب کا عہد اور اس کی کتاب ہے اور حضرت عُثْمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبھی مُصْحَف کو بوسہ دیتے اور چہرے سے مَس کرتے۔“قَبر کوبوسہ دینابعض عُلَما نے جائز کہا ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ منع ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 889