- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- حدیث نمبر 117
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ جُنْدُبِ بْنِ جُنَادَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!اَیُّ الاَعْمَالِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: اَلاِْیْمَانُ بِاللّٰہِ وَالْجِہَادُ فِیْ سَبِیْلِہِ.قَالَ: قُلْتُ: اَیُّ الرِّقَابِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: اَنْفَسُہَا عِنْدَ اَہْلِہَا وَاَکْثَرُہَا ثَمَنًا. قَالَ: قُلْتُ: فَاِنْ لَمْ اَفْعَلْ؟ قَالَ:تُعِیْنُ صَانِعًا اَوْتَصْنَعُ لِاَخْرَقَ. قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَ یْتَ اِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: تَکُفُّ شَرَّکَ عَنِ النَّاسِ فَاِنَّہَا صَدَقَۃٌ مِنْکَ عَلَی نَفْسِکَ. ( )
عن ابی ذر جندب بن جنادۃ رضی اللہ عنہ قال: قلت: یارسول اللہ!ای الاعمال افضل؟ قال: الایمان باللہ والجہاد فی سبیلہ.قال: قلت: ای الرقاب افضل؟ قال: انفسہا عند اہلہا واکثرہا ثمنا. قال: قلت: فان لم افعل؟ قال:تعین صانعا اوتصنع لاخرق. قلت: یا رسول اللہ! ارا یت ان ضعفت عن بعض العمل؟ قال: تکف شرک عن الناس فانہا صدقۃ منک علی نفسک. ( )
حدیث ترجمہ
:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ذرجُندب بن جُناد ہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرماتے ہیں ، میں نے عرض کیا: ’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!اَعما ل میں سے کو نسا عمل افضل ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّپر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ کونسا غلام (آزاد کرنا ) بہتر ہے ؟ ‘‘ فرمایا:
’’ جو اپنے مالک کے نزدیک سب سےعُمدہ اور سب سے زیادہ قیمتی ہو۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’ اگر میں اس طرح نہ کر سکوں تو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ کسی شخص کے کام میں اس کی مددکرویا کسی بے ہنر وصحیح طرح کام نہ کر سکنے والے شخص کے لیے کام کرو ۔ ‘‘ میں نے عرض کی: ’’یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کا کیاخیال ہے اگر میں اُن میں سے بعض کام نہ کرسکوں تو؟ ‘‘ فرمایا: ’’ لوگوں کواپنے شر سے محفوظ رکھویہ بھی تمہاری طرف سے تمہاری اپنی ذات پرصد قہ ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
دو2 اَفضل ترین اَعمال:دلیل الفالحین میں ہے :جب حضرت سَیِّدُنَاابوذَررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہِ رسالت میں عرض کی کہ سب سے افضل عمل کونساہے؟ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک کس عمل کاسب سےزیادہ ثواب ہے؟ توارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّپرایمان لانااور اس کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘‘ کیونکہایمان بِاللّٰہکی جزاءجنت میں داخلہ اور رضائےالٰہی کاحصول ہےاوراس سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ۔اورراہِ خدامیں جہادکامقصداللہ عَزَّوَجَلََّکے دین کی سربلندی ہے۔ارشادِباریتعالٰیہے:اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ-(پ۱۱، التوبۃ:۱۱۱)ترجمۂ کنزالایمان: بیشکاللہنے مسلمانوں سے ان کے مال اور جان خریدلیے ہیں اس بدلے پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔ ( )
شیخ عبدالحق مُحَدِّ ث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اعمال میں سے افضل ترین دو چیزیں ہیں : (1) اِیمان جو تمام اَعمال کی جڑ ہے اور اُس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں ہے، یہ دل کا عمل ہے اور دل انسان کے وجود کا خلاصہ ہے، اگر کامل ایمان مراد ہو تو وہ خود تمام اَعمال کو شامل ہے اور سب سے بڑا کمال ہے۔ (2)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں دشمنانِ دین سے جنگ کرنا۔ کیونکہ یہ دینِ اسلام کی قوت اور مسلمانوں کے غلبے کا سبب ہے ، اس اعتبار سے جہاد افضل ترین عمل ہے اگر چہ دیگر وجوہ کے اِعتبار سے نماز اور روزہ افضل ہیں ۔ ‘‘ ( )مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ کون سا عمل افضل ہے؟ یعنی دل و دماغ جسم وغیرہ ظاہری باطنی اَعضاء کے اَعمال ِصالحہ میں سے کون سا عمل افضل ہے؟ اسی لیے سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے جواب میں دلی عمل یعنی ایمان کا ذکربھی فرمایا۔ایمان وہ افضل جس پر خاتمہ نصیب ہوجائے ورنہ محض بے کار ہے۔ جیسے ابلیس کا بَرباد شدہ ایمان۔اورجہاد میں کفار سے جہاد بھی شامل ہے اور مجاہدات، رِیاضات بھی داخل ہیں ۔ ربّتعالٰیفرماتا ہے:(اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا)(پ۲۴، حم السجدۃ:۳۰) (ترجمۂ کنزالایمان: بیشک وہ جنہوں نے کہا :ہمارا ربّاللہہےپھراس پرقائم رہے۔) اورفرماتا ہے: (وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَاؕ-) (پ۲۱، العنکبوت، الایۃ۶۹) (ترجمۂ کنزالایمان:اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔) کسی کام والے کی مددکرویا جو اچھی طرح کام نہ کر سکتا ہو اس کے لیے کام کرو۔یعنی جومحنتی کاروباری آدمی کہ اس کی کمائی اسے کافی نہ ہو، غریب رہتاہواس کی بھی مدد کرواور جو کام کاج کے لائق نہ ہو اس کی بھی دستگیری کرو۔ لوگوں کواپنے شر سے محفوظ رکھویہ تمہاری طرف سے تمہاری اپنی ذات پرصد قہ ہے۔یعنی کوشش کرو کہ تم سے کسی کونقصان نہ پہنچے۔ اس صورت میں تم اپنے کو گناہ سے بچاتے ہویہ بھی خود اپنے پر احسان ومہربانی ہے کسی پر ظلم کرنا اس پر وقتی طور پر ہوتاہےخود اپنے پر دائمی ظلم ہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ حقیقت ہے کہ جو قوم اپنے ساتھیوں کا خیال رکھتی ہے، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتی ہے وہاں خوشحالی اور امن وسکون رہتا ہے۔ محبت کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ معاشرہ سُدھر جاتا ہے۔ اس ضمن میں ایک ایمان افروزحکایت ملاحظہ فرمائیے!بے مثال قوم:منقول ہے کہ حضرت سیِّدُناموسیٰعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے انتقال کے بعد بنی اسرائیل نے دین میں باطل چیزوں کی آمیزش کی تو ایک گروہ اُن سے جدا ہو گیا۔ انہو ں نےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے دُعا کی کہ ’’ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!ہمیں دین میں ملاوٹ کرنے والوں سے دُور کر دے۔ ‘‘ چنانچہ زمین کے نیچے ایک سوراخ ظاہر ہوا، اس میں چلتے ہوئے ایک کشادہ وسیع میدان میں پڑاؤ ڈال دیا۔ اُن کی اولاد سب نسلیں مستقل طور پر وہیں مقیم ہو گئیں ۔ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ذوالقرنینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسیرکرتےہوئےجب وہاں پہنچےتو دیکھا کہ یہاں لوگوں کی عمریں دراز ہیں ، کوئی فقیر نہیں ، قبریں گھر وں کے دروازوں کے قریب اور عبادت گاہیں دُور ہیں ۔ گھروں پر دروازےنہیں ، نہ اُن پر کوئی حاکم و امیر۔ آپ نے پوچھا کہ ان سب باتوں کا راز کیا ہے؟ لوگوں نےعرض کی : ’’ اے بادشاہ!ہماری عمر یں لمبی ہونے کی وجہ یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان میں ہمارے لیے برکت رکھی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم انصاف کرنے والے ہیں تو ہماری لمبی عمریں ہمارے انصاف کرنے کی وجہ سے ہیں ۔ ہم میں سے جب کوئی محتاج ہو جاتاہے تو ہم مل کر اس کی محتاجی دُور کرتے ہیں ، اس طرح ہم سب مالدار ہیں ۔ ہمارا قبرستان گھروں سے قریب ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنے علماء کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے سنا ہے کہ قبر زندوں کو موت کی یاد دلاتی ہے۔اور عبادت گاہوں کے دُور ہونے کا سبب یہ ہے کہ ہمیں انبیاء کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاماور علماء کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے بتایا کہ عبادت گاہ کی طرف جتنے زیادہ قدم چلیں گے اتنی ہی زیادہ نیکیاں ملیں گی۔ ہمارے گھروں کے دروازے اس لیے نہیں ہیں کہ ہم میں سے نہ تو کوئی چور بنتا ہے اور نہ ہی کوئی چوری کرتا ہے، اس لیے ہمیں دروازوں کی حاجت ہی نہیں ہے۔اور ہم پر کوئی حاکم یا امیر نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے پر ظلم نہیں کرتے ، بلکہ ہم باہم عدل وانصاف سے کام لیتے ہیں لہٰذاہمیں امیروحاکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ‘‘ حضر ت سیِّدُنا ذوالقرنینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ’’ میں نے تمہاری مثل کوئی قوم نہیں دیکھی اور اگر میں نے کسی شہر کو وطن بنانے کا اِرادہ کیا تو تمہارے حُسنِ معاشرت اور اَخلاقِ جمیلہ کی وجہ سے اِس شہر کو وطن بناؤں گا۔ ‘‘ ( )
¥مدنی گلدستہ
’’ اِیمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ایمان تمام اعمالِ صالحہ کی بنیادہےاس کے بغیرکوئی بھی نیک عمل قابل قبول نہیں ۔
(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں وہ چیز صدقہ کرنی چاہیےکہ جوعُمدہ اور قیمتی ہو۔
(3) اَعمال کی افضیلت حالاتِ زمانہ اور لوگوں کی حالت کے اِعتبار سےمختلف ہوتی ہے ۔
(4) انسان کو جو نیکی میسر آئے اُسے فوراً کر لے ، سستی کی وجہ سےہر گز ترک نہ کرے ۔
(5) کسی بے ہنر محتاج کی بہترین اور مستقل مدد یہ ہے کہ اسے کوئی اچھاہنر سکھا دیا جائے تاکہ کام کاج کرکے خود بھی محتا جی سے بچے اور عیال دار ہو تواپنے عیال کو بھی محتاجی سے بچائے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اَعمال صالحہ کرنے اور صالحین کی صحبت اختیارکرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہم سب کاخاتمہ اِیمان پر فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 117