Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 127

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَن النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَقَدْرَاَیْتُ رَجُلًا یَتَقَلَّبُ فِیْ الْجَنَّۃِ فِیْ شَجَرَۃٍ قَطَعَہَا مِنْ ظَہْرِ الطَّرِیْقِ کَانَتْ تُؤْذِی الْمُسْلِمِیْنَ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ:مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَۃٍ عَلٰی ظَہْرِطَرِیْقٍ فَقَالَ: وَاللّٰہِ لَاُنَحِّیَنَّ ہَذَا عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ لَا یُؤْذِیْہِمْ فَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ. ( ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُمَا:بَیْنَمَارَجُلٌ یَمْشِیْ بِطَرِیْقٍ وَجَدَ غُصْنَ شَوْکٍ عَلَی الطَّرِیْقِ، فَاَخَّرَہُ فَشَکَرَ اللّٰہُ لَہُ فَغَفَرَ لَہُ. ( )

عن ابی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:لقدرایت رجلا یتقلب فی الجنۃ فی شجرۃ قطعہا من ظہر الطریق کانت تؤذی المسلمین.وفی روایۃ:مر رجل بغصن شجرۃ علی ظہرطریق فقال: واللہ لانحین ہذا عن المسلمین لا یؤذیہم فادخل الجنۃ. ( ) وفی روایۃ لہما:بینمارجل یمشی بطریق وجد غصن شوک علی الطریق، فاخرہ فشکر اللہ لہ فغفر لہ. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سرکارِ مکہ مکرمہ، سردارِ مدینہ منورہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ بے شک!میں نےایک ایسے آدمی کوجنت میں سیرکرتے دیکھا جس نے اس درخت کو کاٹا تھا جو کہ راستے میں تھا اور مسلمانوں کی تکلیف کاباعث تھا ۔ ‘‘ اورایک روایت میں یوں ہے: ’’ ایک آدمی ایسے راستے سے گزراجس پر ایک خار دار شاخ تھی۔ وہ کہنے لگا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم میں اسے مسلمانوں کے راستے سے ہٹا دوں گا تاکہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دے۔پس (اسی وجہ سے) اسے جنت میں داخل کر دیا گیا۔ ‘‘ بخاری ومسلم کی ایک روایت میں یوں ہے: ’’ ایک آدمی کہیں جا رہا تھا ، راستے میں اسے ایک کانٹےدار شاخ ملی تو اس نے اس شاخ کو راستے سے ہٹا دیا، پساللہ عَزَّ وَجَلَّنےاسے اس کا اجر عطا فرمایا اوراس کی مغفرت فرما دی۔ ‘‘

شرح حدیث

لوگوں سےتکلیف کو دُورکرنا:عَلَّامَہ مُلَّاعَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اس شخص کو جنت میں بڑے ناز سےچلتے ہوئےاورجنت کی نعمتوں سے لطف اندوزہوتے ہوئے دیکھاکیونکہ اس نے اس درخت کو کاٹ دیا تھا جولوگوں کے‏لیےتکلیف کاباعث تھا۔اس حدیث میں مُوذِی جانوروں کےقتل کرنے اورتکلیف دہ اشیا کو دور کرنے کی بھر پور ترغیب ہےخواہ وہ تکلیف کسی بھی وجہ سے ہو۔ ‘‘ ( )اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ وہ درخت بیچ راستے میں تھاکنارے پر نہیں تھا۔ ممکن ہے کہ اس شخص کو اچھی نیت کی وجہ سے ہی جنت میں داخل کر دیا گیا ہواور اس نے درخت کاٹا نہ ہواور یہ بھی ممکن ہے کہ کاٹ دیا ہو ۔ اس درخت کو تکلیف دہ ہونے کی وجہ سے کاٹا گیا جیسا کہلَا یُؤْذِیْھِمْسے معلوم ہو رہاہے۔ ‘‘ ( )مُوذِی چیز کو ختم کردینا جائز ہے:علّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتےہیں : ’’ اس حدیث میں راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی فضیلت ہےاوریہ ایمان کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔اوراس حدیث میں ہر اس کام کی فضیلت ہے جو مسلمانوں کو نفع پہنچائے اوران سے تکلیف دور کرے۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی وہ درخت خاردارتھا یا بے خار۔ اس کی جڑ راستہ کے کنارہ پر تھی مگر شاخیں راستہ پر پھیلی ہوئی تھیں ، اس نے تکلیف دور کرنے کے لیے اسے جڑ سے ہی اکھیڑ دیا تاکہ آئندہ بھی شاخیں نہ پھیل سکیں اگر یہ درخت اس کی اپنی ملکیت تھا یا خود روتھا تب تو اس کے کاٹ دینے اور اس کی لکڑی گھر لے جانے پر کچھ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگر کسی غیر کی ملکیت تھا تو اس نے فقط دفع ایذا ء کے لیے کاٹ دیا ہوگا اس کی لکڑی پر قبضہ نہ کیا ہو گا۔ اس صورت میں اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط ہوگا کہ مُوذی (ایذاء دینے والی) چیز کو ختم کردینا جائز ہے اگرچہ دوسرے کی ملکیت ہو۔دیوانہ کتا جو کسی کا پالتو تھا، سرکس والوں کا بھاگا ہوا شیر، سپیروں کا چھوٹا ہوا سانپ ماردیئے جائیں ۔راستے میں کھودا ہواکنواں پاٹ دیا جائے، اس میں مالک کی اجازت کی ضرورت نہیں ۔ حضورِانور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اسے جنت میں یا شب معراج میں دیکھا یا نماز ِکسوف میں جب آپ پر جنت پیش کی گئی یا عام حالت میں ۔ ‘‘ ( )جنت میں لے جانے والے اعمال:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناًسمجھدار وہی ہے جو اپنی مختصر سی زندگی میں جنت میں لے جانے والے اعمال کو بجالائے اور جہنم میں لے جانے والے اعمال سے بچے۔جنت میں لے جانے والے اعمال اور جہنم میں لے جانے والے اعمال کی تفصیلی معلومات کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ان دو کتب ’’ جنت میں لےجانے والے اعمال ‘‘ اور ’’ جہنم میں لے جانے والے اعمال ‘‘ کا مطالعہ فرمائیے۔اللہکی رحمت سے تو جنت ہی ملے گی
اے کاش محلے میں جگہ اُن کے ملی ہو
مدنی گلدستہ
’’ علم غیب ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
اچھی نیت جنت میں داخلے کاسبب ہے۔
(2) کامل مسلمان تکلیف دہ اشیا کو دور کرنے کی بھر کوشش کرتا ہے۔
(3) راستے سے تکلیف دہ چیزہٹانابھی ایمان کاحصہ ہے۔
(4) راستے کی موذی چیز کو ہٹادینا جائز ہے اگرچہ کسی اور کی ملکیت ہو۔
(5) حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی عطا سے جنتی احوال بھی ملاحظہ فرماتے ہیں ۔
(6) آپ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنہ صرف جنتیوں کے احوال کو ملاحظہ فرماتے ہیں بلکہ بعطائے الٰہی جنتیوں کے جنت میں جانے کے اَسباب کو بھی جانتے ہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں جنت میں لے جانے والے اَعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جہنمیوں والے اَعمال سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 127