Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 124

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:یَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ!لاَ تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِہَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ. ( )
قَالَ الْجَوْھَرِیُّ:اَلْفِرْسِنُ مِنَ الْبَعِیْرِ:کَا الْحَافِرِ مِنَ الدَّابَّۃِ، قَالَ:وَرُبَّمَا اُسْتُعِیْرَ فِیْ الشَّاۃِ.

عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:یا نساء المسلمات!لا تحقرن جارۃ لجارتہا ولو فرسن شاۃ. ( )
قال الجوھری:الفرسن من البعیر:کا الحافر من الدابۃ، قال:وربما استعیر فی الشاۃ.

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبمُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوْبصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ اے مسلمان عورتو!کوئی عورت اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ جانے ، اگرچہ وہ بکری کا کُھر ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘
علّامہ جوہری
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا: ’’فِرْسِناُونٹ کے کُھرکوکہتے ہیں جیسےحَافِردوسرے جانوروں کے کھُر کو کہا جاتا ہے ۔البتہ بسا اوقات بطورِ استعارہ بکری کے کُھر کوبھیفِرسِنکہا جاتا ہے ۔

شرح حدیث

بکری کے کُھرسےکیامرادہے؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ بکری کے کُھر سے حقیقتاً بکری کا کُھر مراد نہیں کیونکہ عام طور پر بکری کا کُھرایک دوسرے کو تحفے میں نہیں دیا جاتا بلکہ اس سے معمولی سی شے مراد ہے۔ مقصودِحدیث یہ ہے کہ پڑوسی کو ہدیہ دینے کے ‏لیے اگر عورت کے پاس معمولی شے کے علاوہ کچھ نہ ہو تو ہدیہ سے نہ رُکے بلکہ حسبِ حال جو میسر ہو دے دیا کرے کیونکہ ہدیہ اپنے پاس موجود شے کے اعتبار سے دیا جاتا ہے اور کسی شے کاپاس ہونا یہ اس شے کے نہ ہونے سے بہتر ہے۔حدیث کی ایک توجیہہ یہ ہےکہ اگر تمہیں کم قیمت معمولی سی شے بھی تحفے میں دی جائے تو اسے حقیر سمجھ کر قبول کرنے سے انکار نہ کرو۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ چونکہ چیزوں میں عیب نکالنے کی عادت زیادہ عورتوں میں ہوتی ہے اس ‏لیے انہی سے خطاب کیاگیا۔ یہ حدیث ہم غریبوں کے ‏لیے بڑی ہمت افزاہے کیونکہ اس سے معلوم ہورہاہے کہ خود نبیصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممسکینوں کے معمولی ہدیہ ثواب وغیرہ کو بھی رَد نہیں فرماتے۔ ‘‘ ( )تحفہ دینے والے کے آداب:حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’ جسے تحفہ دے رہاہے اس کی فضیلت کومد ِنظررکھے، وہ تحفہ قبول کرلے توخوشی ومسرت کااظہار کرے۔ اس سے ملاقات ہو تو اس کا شکریہ اداکرے، اور اسے کلی اختیارات دے اگرچہ تحفہ بڑا ہو۔ ‘‘ ( )
¥
تحفہ لینے والے کے آداب:’’ تحفہ ملنے پرخوشی کا اِظہارکرے اگرچہ کم قیمت ہو، تحفہ بھیجنے والے کی غیرموجودگی میں اس کے ‏ لیے دعائے خیر کرے۔ملاقات ہو تو خَندہ پیشانی کا مظاہرہ کرے۔ جب موقع ملے تو اسے بھی تحفہ دے۔ حسب موقع اس کی جائز تعریف کرے۔دوبارہ تحفہ وغیرہ لینے کی حرص وطمع نہ کرے۔ ‘‘ ( )
¥
تحفہ دینےکی حکمتیں :(1) تحفہ دینے سے محبت بڑھتی اور بغض وکینہ دُور ہوتاہے۔ (2) تحفہ دینے میں ایک دوسرے کی مالی مُعاوَنت ہے۔ (3) جب تحفہ معمولی ہوتو یہ محبت پر زیادہ دلالت کرتا اور باہم تَکَلُّف و تنگی کو دور کرتا ہے۔ (4) قیمتی تحائف کاتبادلہ ہر وقت ممکن بھی نہیں جبکہ معمولی تحائف کا باہم تبادلہ قیمتی تحفہ دینے کی طرح ہی ہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدتحائف سے متعلق 4فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1) ’’ ایک دوسرے کو تحفہ دوکیونکہ یہ سینہ کے کینہ کودورکرتاہے۔ ‘‘ ( )(2) ’’ ایک دوسرے کو تحفہ دو اس سے محبت پیداہوگی۔ ‘‘ ( )(3) ’’ ایک دوسرے سے مصافحہ کرو اس سے کینہ ختم ہوتا ہے اور ایک دوسرے کو ہدیہ دو اس سے محبت بڑھتی ہے اوربخل ختم ہوتاہے۔ ‘‘ ( )(4) ’’ اگرمجھے بکری کےایک پائے کا ہدیہ دیا جائے تو میں اسے قبول کرلوں گااور اگر مجھے بکری کے پائے کی دعوت دی جائے تو میں اس دعوت میں جاؤں گا۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ بقیع ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
کم قیمت والی شے کا تحفہ دیناتحفہ نہ دینےسےبہترہے۔
(2) تحفہ دینے سے محبت بڑھتی، بغض وکینہ دور ہوتااور مالی معاونت بھی ہوتی ہے۔
(3) احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممسکینوں کے ہدیۂ ثواب کو بھی رد نہیں فرماتے ۔
(4) تحفہ لینے کے آداب میں سے ہے کہ تحفہ ملنے پرخوشی ومَسَرَّت کا اِظہارکرے اگرچہ تحفہ کم قیمت ہو نیزتحفہ دینےوالےکاشکریہ بھی اداکرے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنتوں خصوصاً تحفہ دینے کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 124