Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 131

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلَی مَا یَمْحُواللّٰہُ بِہ ِالْخَطَایَا وَیَرْفَعُ بِہِ الدَّرَجَاتِ؟ قَالُوْا:بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!قَالَ:اِسْبَاغُ الْوُضُوْ ءِعَلَی الْمَکَارِہِ، وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلَی الْمَسَاجِدِ، وَاِنْتِظَارُالصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، فَذَ الِکُمُ الرِّبَاطُ. ( )

عن ابی ہریرۃرضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: الا ادلکم علی ما یمحواللہ بہ الخطایا ویرفع بہ الدرجات؟ قالوا:بلی یارسول اللہ!قال:اسباغ الوضو ءعلی المکارہ، وکثرۃ الخطا الی المساجد، وانتظارالصلاۃ بعد الصلاۃ، فذ الکم الرباط. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: ’’ کیامیں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعےاللہ عَزَّ وَجَلَّخطاؤں کومٹاتا اور درجات بلند فرماتا ہے؟ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: ’’ جی ہاں ! کیوں نہیںیَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ مَشقّت کے وقت کامل وضو کرنا، مساجد کی طرف قدموں کی کثرت کرنا، ایک نماز کے بعد دوسری نمازکا انتظار کرنااور تمہارے لیے یہی رِباط ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

نامۂ اَعمال سے خطاؤں کا مٹنا:حضرتِ سَیِّدُناقاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ’’ گناہوں کا مٹنامغفرت سے کِنَایہ ہے اوریہ بھی احتمال ہےکہ اس سے مراد نامۂ اَعمال سے خطاؤں کا مٹانا ہو۔ ‘‘ ( )
مرآۃ المناجیح میں ہے: ’’ خطاؤں سےمرادگناہ صغیرہ ہیں ، نہ (کہ) کبیرہ، نہ (ہی) حقوق العباد، مَحْوسے مراد ہےبخش دینایانامۂ اعمال سے ایسا مِٹادینا کہ اس کا نشان باقی نہ رہے۔درجوں سے مراد جنت کے درجے ہیں یادنیا میں ایمان کے درجے۔ (مَشَقَّت کے وقت کامل وضو کرنا ) اس سے مراد سردی یا بیماری یا پانی کی گِرانی کا زمانہ ہے یعنی جب وضو مکمل کرنا بھاری ہو تب مکمل کرنا۔ (مساجد کی طرف قدموں کی کثرت) اس ‏لیےکہ گھرمسجدسےدورہویاقدم قریب قریب ڈالے۔مطلب یہ ہے کہ ہروقت نماز مسجدمیں پڑھنا، نمازکہ علاوہ وعظ وغیرہ کے لیے بھی مسجد میں حاضری دینا مُوجِب ثواب ہے۔اس کایہ مطلب نہیں کہ خواہ مخواہ قریب کی مسجد چھوڑ کردُورجاکرنماز پڑھے۔ ‘‘ ( )
مسجد میں حاضری:مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ’’ کثرت سے چلناعام ہے۔ چاہے مسجد سے گھر کی دوری کے سبب ہو یاپھر چھوٹے چھوٹےقدم چلنےکی وجہ سے ہواورمسجدکی طر ف جانا، چاہے نماز کے‏لیے ہو یا پھر دیگر عبادات کے‏لیے۔ ‘‘ ( ) (دونوں صورتوں میں ثواب پائے گا۔)دلیل الفالحین میں ہے: ’’ (نماز کا انتظار کرنا) باجماعت یامنفردنماز ادا کرنے کے بعد اگلی نماز کے وقت کایاجماعت کاانتظارکرتارہے۔چاہےمسجد میں بیٹھ کریاگھرمیں یا بازار میں یا کسی اور کام کاج میں مشغول رہے اور اس کا دل مسجد میں لگا ہواوراسے نماز کی فکر ہویہی دائمی حضورِ قلبی ہے۔ ‘‘ ( )رِباط سے کیا مراد ہے؟اشعۃ اللمعات میں ہے: ’’ اصل میں دشمنانِ دین کو اسلامی سرحدوں میں داخل ہونے سے روکنے کے ‏لیےاسلامی سرحدوں کی حفاظت ونگہداشت کرنا رِباط کہلاتا ہے ۔یونہی مسلمانوں کا اسلامی سرحدات پر پہرہ دینے کی غرض سے بیٹھنا، اپنے گھوڑوں اوراپنےدلوں کو چوکس رکھنابھی رِباطکہلاتاہے۔تونمازکے انتظارمیں مسجد میں بیٹھنا سر حدِشیطان پر اور اس کے لشکر کے مقابل بیٹھنےکے مشابہ ہے تاکہ وہ دخل نہ دے سکیں اور (رِباط) کا ایک معنیٰ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ فرمان مذکورہ تینوں اَعمال کی طرف اشارہ ہو۔کیونکہ یہ تینوں اَعمال، شیطان کی راہ میں رُکاوٹ بنتے اورخواہشاتِ نفسانی کو مغلوب کردیتے ہیں ۔ ‘‘ ( )(اسی ‏لیے انہیں رِباط کہا گیا ہو۔)4فرامین مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عشاء کی نماز کو آدھی رات تک مؤخر فرمایا، پھر نمازِ عشاء اَدا کرنے کے بعد صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی طرف رُخِ اَنور پھیر کر فرمایا: ’’ لوگ نماز پڑھ کر سو گئے لیکن تم جب سے نماز کا انتظار کررہے تھے نماز ہی میں تھے۔ ‘‘ ( ) (2) حضرتِ سَیِّدُنَاعبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ہم نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ نمازِمغرب پڑھی، نماز کے بعد جانے والے چلے گئے اور جسے وہیں بیٹھنا تھا وہ دوسری نماز کا انتظار کرنے لگا۔ پھررسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجلدی سے تشریف لائے اور فرمایا: ’’ تمہیں خوشخبری ہو! تمہارے ربّعَزَّ وَجَلَّنے آسمانوں کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ہے اورفرشتوں کے سامنے تم پر فخر کرتے ہوئے فرماتا ہے:میرے ان بندوں کودیکھوجنہوں نے ایک فرض ادا کرلیا اور دوسرے کے انتظار میں ہیں ۔ ‘‘ ( )(3) ’’ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا اس شہسوار کی طرح ہےجس نے اپنا گھوڑااللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں باندھا اور یہ شخص اس گھوڑے کے پہلو سے ٹیک لگائے بیٹھا ہے،اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرشتے اس پر سلامتی بھیجتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ کلام نہ کرے یا اپنی جگہ سے نہ اُٹھے۔ ‘‘ ( ) (4) ’’ تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک نماز میں ہی ہوتاہے جب تک نماز اُسے روکے رکھتی ہے (یعنی وہ نماز کے انتظار میں ہوتا ہے) اور اس کے اپنی جگہ سے اٹھنے یا گفتگوکرنے تک ملائکہ عرض کرتے رہتے ہیں : ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما اور اس کی توبہ قبول فرما۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ عثمان ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
جس نیک کام میں مشقت زیادہ ہوتی ہےاس کااجر بھی اتنا ہی زیادہ ہوتاہے۔
(2) نیک اَعمال سے ایمان میں ترقی ہوتی ہےاور جنت میں درجات بلند ہوتے ہیں ۔
(3) نماز کے انتظارمیں مسجد میں بیٹھنا گناہوں سے بچنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(4) اپنے بندوں کے نیک اعمال پر ربّ
عَزَّ وَجَلَّفرشتوں کے سامنے فخرفرماتا ہے۔
(5) نماز کے انتظار میں بیٹھنے والوں کے ‏لیے فرشتے دعائے مغفرت کرتے ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نماز کے انتظار جیسی عظیم سعادت کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 131