Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 130

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسلَّمَ قَالَ:اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ، وَرَمَضَانُ اِلَی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِمَا بَیْنَہُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:الصلوات الخمس، والجمعۃ الی الجمعۃ، ورمضان الی رمضان مکفرات لما بینہن اذا اجتنبت الکبائر. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ پانچ نمازیں اورایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اورایک رمضان دوسرے رمضان تک یہ اپنے درمیان میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے والے ہیں جب تک کبائر سے اجتناب کیا جائے ۔ ‘‘

شرح حدیث

نیکیاں گناہوں کاکفارہ ہیں :شیخ عبدالحق محدِّ ثِ دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاشعۃ اللمعات میں فرماتے ہیں : ’’ یعنی مذکورہ نیک اَعمال درمیانی عرصے میں واقع ہونے والے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں ، انہیں چھپالیتے ہیں اور مٹادیتے ہیں ۔جبکہ کبیرہ گناہ نہ توان نیکیوں سے چھپتے ہیں ، نہ معاف ہوتے ہیں بلکہ ان کے لیے توبہ درکارہے۔ ہاں صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں جب کہ ان سے حقوق العباد متعلق نہ ہوں ۔علمائےکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے فرمایا:ان نیکیوں پر استقامت اور باربار دہرانے سے صغیرہ گناہوں کی بخشش کے بعد کبیرہ گناہوں میں بھی تخفیف ہوجاتی ہے اور اگر بندہ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے بالکل محفوظ ہوتو یہ نیک اعمال اس کے لیےبلنددرجات کا سبب بن جاتے ہیں ۔ ‘‘ ( )فضل ربّ سےگناہوں کی معافی:دلیل الفالحین میں ہے: ’’ جمہورعلمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : اَعمالِ صالحہ کبیرہ گناہوں کو نہیں مٹاتےکیونکہ کبیرہ گناہ توبہ یا فضل الٰہی سے معاف ہوتے ہیں جبکہ صغیرہ گناہ اِجتنابِِ کبائر سے معاف ہوجاتے ہیں تو نمازوں اوردیگر نیک اعمال کے سبب کیا چیز معاف ہوگی؟ اس کا جواب دیتے ہوئے امام بلقینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : لوگوں کی چنداقسام ہیں : (1) بعض وہ خوش نصیب ہیں جن کے گناہ ہی نہیں ہوتےتومذکورہ نیک اعمال ان کے ‏لیے بلندیٔ درجات کا سبب ہیں ۔ (2) بعض وہ ہیں جن کے صغیرہ گناہ ہیں لیکن وہ ان پراصرار نہیں کرتےتو ایسوں کے صغیرہ گناہ محض اجتنابِ کبائرہی سےمعاف ہوجاتے ہیں بشرطیکہ ایمان پر خاتمہ نصیب ہو۔ (3) بعض وہ ہیں جو صغیرہ گناہوں پر اصرار کرتے ہیں توایسوں کے گناہ اعمالِ صالحہ کے سبب معاف ہوجاتے ہیں ۔ (4) بعض وہ ہیں جن کےصغیرہ گناہ بھی ہیں اور کبیرہ بھی تو اَعمالِ صالحہ کی بدولت ایسوں کے صغیرہ گناہ ہی معاف ہوجاتے ہیں ۔ (5) بعض وہ ہیں جن کے پاس فقط کبیرہ گناہ ہوتے ہیں تواَعمالِ صالحہ کی بدولت صغیرہ گناہوں کی مقدار کے مطابق کبیرہ گناہ معاف ہو جاتےہیں ۔ ‘‘ ( )مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’ یعنی نماز پنجگانہ روزانہ کے صغیرہ گناہ کی معافی کاذر یعہ ہے۔اگر کوئی ان نمازوں کے ذریعہ گناہ نہ بخشوا سکا تونمازِ جمعہ ہفتہ بھر کے گناہِ صغیرہ کاکفارہ۔ اگر کوئی جمعہ کے ذریعہ بھی گناہ نہ بخشواسکاکہ اُسےاچھی طرح ادانہ کیا تورمضان سال بھر کے گناہوں کا کفارہ ہے۔لہٰذا اس حدیث پریہ اعتراض نہیں کہ جب روزانہ کے گناہ پنجگانہ نمازوں سے معاف ہو گئےتوجمعہ اوررمضان سے کون سے گناہ معاف ہوں گے۔خیال رہے کہ گناہِ کبیرہ جیسےکفروشرک، زنا، چوری وغیرہ یوں ہی حقوقُ العبادبغیرتوبہ و اَدائے حقوق معاف نہیں ہوتے۔خیال رہے کہ جواَعمال گنہگاروں کی معافی کاذریعہ ہیں وہ نیک کاروں کی بلندئ درجات کا ذریعہ ہیں ۔ چنانچہ، معصومین اورمحفوظین نمازکی برکت سے بلند درجے پاتے ہیں ، لہٰذاحدیث پریہ اعتراض نہیں کہ پھرچاہیے کہ نیک لوگ نمازیں نہ پڑھیں کیونکہ نمازیں گناہوں کی معافی کےلیے ہیں وہ پہلے ہی سے بے گناہ ہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ توبہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
کبیرہ گناہ توبہ سےیااللہ عَزَّ وَجَلَّکےفضل سےمعاف ہوتے ہیں ۔
(2) اَعمالِ صالحہ کی برکت سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔
(3) گناہوں سے اجتناب کرتے ہوئے نیک اَعمال بجالانا بلندئ درجات کا سبب ہے۔
(4) نیکیوں کی برکت سےگناہوں کے معاف ہونےکاتعلق اِیمان پرخاتمے کے ساتھ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہر طرح کے صغیرہ وکبیرہ گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 130