Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 135

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍرَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْ مُسْلِمٍ یَغْرِسُ غَرْسًااِلَّا کَانَ مَا اُکِلَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃً، وَمَاسُرِقَ مِنْہُ لَہُ صَدَقَۃٌ، وَلَا یَرْزَءُہُ اَحَدٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃٌ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ:فَلَا یَغْرِسُ الْمُسْلِمُ غَرْسًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَاطَیْرٌ اِلَّا کَانَ لَہُ صَدَقَۃً اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَہُ: لَا یَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا یَزْرَعُ زَرْ عًا، فَیَاْکُلُ مِنْہُ اِنْسَانٌ وَلَا دَابَّۃٌ وَلَا شَیْء ٌ اِلّا کَانَتْ لَہُ صَدَقَۃً. وَرَوَیَاہُ جَمِیْعًا مِنْ رِوَایَۃِ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ. ( )

عن جابررضی اللہ عنہ قال، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:مامن مسلم یغرس غرساالا کان ما اکل منہ لہ صدقۃ، وماسرق منہ لہ صدقۃ، ولا یرزءہ احد الا کان لہ صدقۃ.وفی روایۃ لہ:فلا یغرس المسلم غرسا، فیاکل منہ انسان ولا دابۃ ولاطیر الا کان لہ صدقۃ الی یوم القیامۃ.وفی روایۃ لہ: لا یغرس مسلم غرسا، ولا یزرع زر عا، فیاکل منہ انسان ولا دابۃ ولا شیء الا کانت لہ صدقۃ. ورویاہ جمیعا من روایۃ انس رضی اللہ عنہ. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جوبھی مسلمان کوئی درخت لگائےتواس سے جو کھایا جائے وہ اس کے‏لیےصدقہ ہے اور جوچوری ہوجائے وہ بھی اس کے‏لیےصدقہ ہے بلکہ اگر کوئی اس میں نقصان کرے توبھی اس کے ‏لیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ’’ مسلمان جودرخت لگائے پھر اس سے انسان، چوپائے اور پرندے کھائیں تووہ قیامت تک اس کے‏لیےصدقہ ہے۔ ‘‘ مسلم ہی کی ایک اور روایت میں ہے: ’’ کوئی مسلمان درخت لگاتاہےاورکاشت کاری کرتاہےتو اس سے انسان، چوپائےیا کوئی اورچیز کھائے تو یہ اس کے ‏لیے صدقہ ہے۔ ‘‘ امام بخاری ومسلمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَادونوں ہی نے اسےحضرتِ سَیِّدُناانسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے۔

شرح حدیث

اپنے ہاتھ سے کمانا اَفضل ہے:عَلَّامہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک میں درخت لگانے اور کاشت کاری کی فضیلت کابیان ہے۔بعض نے اِس سے استدلال کیاہے کہ کاشت کاری روزی کمانے کاافضل ذریعہ ہے۔علمائے کرام کااِس میں اختلاف ہے کہ کمائی کا کونساذریعہ افضل ہے۔امام نوویرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں کہ کاشت کاری افضل ہے۔بعض نے کہاکہ ہاتھ کے ہنرسے روزی کمانا افضل ہے۔اورایک قول یہ ہے کہ تجار ت افضل ہے۔اوراکثر احادیث ہاتھ سے کمانے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ۔جیساکہ حضرت سَیِّدُنَا ابوبَردہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سوال کیا گیا کہ کونسی کمائی زیادہ پاکیزہ ہے؟ فرمایا:آدمی کا اپنے ہاتھ سے کا م کرنااور ہرجائزبیع۔اور اس افضلیت کی وجہ یہ ہےکہ حلال ہونے کے اعتبار سےیہ زیادہ پاکیزہ ہے اورفائدہ عام ہونے کے اعتبار سے زیادہ افضل کیونکہ اس کا فائدہ دوسروں کوبھی پہنچتا ہے۔لیکن درست یہ ہےکہ لوگوں کی حاجات مختلف ہونے کے اعتبار سے سب کے اَحکام مختلف ہیں ۔ مثلاًجب لوگوں کو غذا کی زیادہ محتاجی ہوتواس وقت زراعت افضل ہے تاکہ لوگوں پروُسعت ہوجائے۔اورجب تجارتی راستے منقطع ہونے کی وجہ سے لوگوں کواَشیاء کی زیادہ محتاجی ہوتو تجارت افضل، جب صنعت کی زیادہ محتاجی ہو تو صنعت افضل ہے۔نیزنیکی کرنے پر آخرت میں ثواب مسلمانوں ہی کو ملے گا کفارکو نہیں کیونکہ قربِ الٰہی صرف مسلمانوں ہی کوحاصل ہوگا۔ کافراگر صدقہ کرے یاراہ گیروں کے‏لیے مسافرخانہ بنوائےیا کوئی نیکی کا کام کرے تو آخرت میں اس کے لیے کچھ ثواب نہیں ۔جیساکہ منقول ہے: ’’ (کافر کوئی اچھا کام کرتا ہے) تو اس کے بدلے اسے دنیاہی میں رزق دے دیا جاتاہے اور اس کی دُنیوی تکالیف دُور کر دی جاتی ہیں ، آخرت میں اُس کے ‏لیے کچھ اَجر نہیں ۔نیز حدیث مذکور سب مسلمانوں کو شامل ہے چاہےوہ آزاد ہوں یاغلام، فرمانبردارہوں یاگناہ گار، الغرض جو بھی مسلمان اِس حدیث پرعمل کرے گا فضیلت پائے گا ۔ ‘‘ ( )شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رَضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ افضلیت لوگوں کے حال کے اِعتبار سے ہے، جہاں لوگ خوراک کے زیادہ محتاج ہوں وہاں زَراعت اَفضل ہے تاکہ لوگ قحط زدہ نہ ہوں اور جہاں کاروبار کی زیادہ ضرورت ہو وہاں تجارت افضل ہے اور جہاں دستکاری کی احتیاجی زیادہ ہو وہاں صنعت کاری افضل ہے، اس زمانہ میں حالات کا مقتضیٰ یہ ہے کہ سب افضل ہیں ۔ ‘‘ ( )آخرت کااَجر:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنَا ابودَرْداءرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُایک مرتبہ اَخروٹ کا درخت لگا رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا : ’’ آپ تو بزرگی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں ، آپ کا وصال بہت قریب ہے ، اس درخت کے پھل آپ نہیں بلکہ دوسرے کھائیں گے۔ ‘‘ آپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’ پھل اور لوگ کھائیں گے اَجر مجھے ملے گا۔ ‘‘ ( )بہت جلد پھل مل گیا :منقول ہے کہ ایک بوڑھا شخص زیتون کا درخت لگا رہا تھا۔ بادشاہ کا وہاں سے گزر ہوا تو کہا : ’’ زیتون کا پھل تو دیرسےآتا ہے اورتم بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکے ہو؟ ‘‘ بوڑھے نے کہا: ’’ ہم سے پہلےلوگوں نے درخت لگائے اورہم نےان کے پھل کھائےاوراب ہم لگا رہے ہیں تاکہ ہمارے بعد والے کھائیں ۔ ‘‘ بادشاہ نےکہا: ’’ تم نے کتنی اچھی بات کہی ہے تمہیں چارہزاردرہم انعام دیے جاتے ہیں ۔ ‘‘ بوڑھے شخص نے کہا: ’’ اے بادشاہ! میرے درخت لگانے اور اس کے دیر سے پھل آنے کی وجہ سےآپ کوتعجب ہوا حالانکہ مجھے اس درخت کا بدلہ ( چار ہزاردرہم کی صورت میں ) بہت جلد مل گیا۔ ‘‘ بادشاہ نے پھراسے چارہزار درہم دے دئیے۔ بوڑھےنے کہا: ’’ اے بادشاہ!ہردرخت سال میں ایک مرتبہ پھل دیتاہے، میرے درخت نے تھوڑی ہی دیر میں دو مرتبہ پھل دے دیا۔ ‘‘ بادشاہ نے اسے مزید چار ہزار درہم دئیے اوریہ کہتے ہوئے چل دیاکہ اگر ہم یہاں کچھ دیر اور ٹھہر گئے تو ہماراخزانہ خالی ہوجائےگا ۔ ( )ہمیشہ ثواب ملتارہےگا:دلیل الفالحین میں ہے: ’’ حضرت سَیِّدُنَاعلامہ ابن عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینےفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّجس پر اپنے کرم کی وُسْعَت فرماتاہے اسے موت کے بعدبھی اُسی طرح ثواب عطافرماتا ہے جس طرح اس کی زندگی میں عطافرماتاہے۔اورچھ چیزوں کاثواب قیامت تک ملتا رہے گا: (1) صدقۂ جاریہ (2) ایساعلم جس سے نفع اُٹھایا جائے۔ (3) نیک اولادجواس کےلیےدعاکرتی رہے۔ (4) درخت لگانا (5) کاشتکاری (6) سرحد کی حفاظت کرنا۔ ‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حدیث مذکور کی فضیلت صرف درخت لگانے یا کاشت کاری کرنے والے کے ساتھ ہی خاص نہیں بلکہ اس شخص کوبھی شامل ہے جو اُجرت دے کر درخت لگوائے یاکاشت کاری کروائے، یہاں تک کہ گندم کی جن بالیوں کووہ جمع کرنے سے عاجز آگیاجو گندم کاٹتے وقت گرگئیں اور انہیں انسانوں یاجانوروں نے کھالیاتو وہ بھی اس کے ‏لیے صدقہ ہیں ۔ ‘‘ ( )کانٹالگنے پر بھی ثواب :مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمدیارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں : ’’ (انسان، جانوریا کوئی اورچیز کھائے تو یہ اس کے ‏لیے صدقہ ہے) عرب میں دستور تھا کہ باغ والے مسافروں کو دو ایک پھل توڑ لینے سے منع نہ کرتے جیسے ہمارے ہاں بھی چنے کا سا گ کا ٹنے سے لوگ منع نہیں کرتے۔مسافر بھی اس دستور سے واقف تھے، وہ بھی چوری کی نیت سے نہیں بلکہ عُرفی اِجازت کی بنا پر دو چار دانے منہ میں ڈال لیتے تھے۔نیز کبھی جانور کھیت پر سے گزرتے ہوئے سبزے میں ایک آدھ منہ ماردیتے ہیں ۔سرکار (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے اِن سب کو مالک کے لیے صدقہ قرار دیا۔کبھی بغیر نیت بھی ثواب مل جاتا ہے۔ (اور جو پھل چوری ہوجائیں تو وہ مالک کے ‏لیے صدقہ ہیں ) صبرکرنے اوراس نقصان کو برداشت کرنے پر ضرورثواب ملے گا، جیسےکانٹالگ جانے پرثواب ملتاہے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ یااللہ ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
دستکارکی روزی حلال ہونے کے اعتبارسےزیادہ پاکیزہ ہے۔
(2) فی زمانہ کسبِ حلال کی تمام جائزاَنواع کی بڑی فضیلت ہےکیونکہ اس دورمیں لوگوں کوہر شےکی حاجت پڑتی ہے۔
(3) آخرت کے اجروثواب کادارومدارایمان پرہے اورکافرایمان سے خالی ہے۔لہٰذاآخرت میں کافر کے‏لیے کوئی اجرنہیں ۔
(4) ایساعمل کرنابھی کارِ ثواب ہے جس کافائدہ بعدمیں آنےوالےلوگوں کوہو ۔
(5) اگرکسی شخص کا مال چوری ہوجائےاوروہ اس پر صبر کرےتواس کو صدقہ کا ثواب ملےگا۔
(6) شرعی اَحکام میں عرف کابھی اعتبارکیاجاتاہےلہٰذاعرف کے احکام سے بھی واقفیت ہونی چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں رزقِ حلال کمانے کی توفیق عطافرمائے اور دوسروں کی محتاجی سے ہم سب کومحفوظ فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 135