Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 125

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ اَوْبِضْعٌ وَ سِتُّوْنَ شُعْبَۃً، فَاَفْضَلُہَا قَوْلُ لَا اِلَہَ اِلَّااللّٰہُ، وَاَدْنَاہَااِمَاطَۃُالْاَذَی عَنِ الطَّرِیْقِ، وَالْحَیَاءُشُعْبَۃٌمِنَ الْاِیْمَانِ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:الایمان بضع وسبعون اوبضع و ستون شعبۃ، فافضلہا قول لا الہ الااللہ، وادناہااماطۃالاذی عن الطریق، والحیاءشعبۃمن الایمان. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبّی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ ایمان کی ستّرسے کچھ زائد شاخیں ہیں یا ایمان کی ساٹھ سے کچھ زائد شاخیں ہیں ، اوراُن میں سب سے افضل ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ‘‘ کہنا ہے اور ان میں سب سے کم تر راستے سے تکلیف دہ چیز دُور کرنا ہے۔اور حیا (بھی) اِیمان کی ایک شاخ ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

ایمان کی ستّر (70) شاخیں :حدیثِ مذکور میں فرمایا گیا کہ ایمان کی70 یا اس سے کچھ زائد شاخیں ہیں ۔عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِینے77شاخوں کو بالتفصیل ذکر فرمایا ہے، آپ بھی ملاحظہ کیجئے: (1)اللہعَزَّ وَجَلَّپر، اس کی ذات وصفات اوراس کی وحدانیت پر ایمان لاناکہ اس کی مثل کوئی نہیں ہے۔ (2)اللہعَزَّ وَجَلَّکےعلاوہ سب کوحادِث ماننا (3) اس کےفرشتوں پرایمان لانا (4) اس کی کتابوں پر ایمان لانا (5) اس کے رسولوں پر ایمان لانا (6) اچھی اور بُری تقدیر پر ایمان لانا (7) قیامت، قبر کے سوال وعذاب ، میزان عدل قائم ہونے اور پلِ صراط سے گزرنےپرایمان لانا (8)اللہ عَزَّ وَجَلَّکےجنت کے وعدےاوراس میں ہمیشہ رہنے پریقین رکھنا (9) دوزخ کی وعیدوعذاب اوراس کی ہمیشگی پرایمان لانا (10)اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرنا (11) رضائے الٰہی کے‏لیےمحبت وعداوت رکھنااسی طرح تمام مہاجرین وانصارصحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور آلِ رسولصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسےمحبت رکھنارِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن(12) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسےمحبت کرنااورآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمپردرودِپاک پڑھنااورآپ کی سنت کی پیروی کرنا (13) اخلاص اختیار کرنا، ریاکاری ومنافقت ترک کر دینا (14) توبہ وندامت (15) خوفِ خدا (16) امید (17) مایوس نہ ہونا (18) شکراداکرنا (19) وعدہ پورا کرنا (20) صبر کرنا (21) تواضع و انکساری کرنا، بڑوں کی تعظیم کرنا (22) چھوٹوں پرشفقت کرنا (23) تقدیرپرراضی رہنا (24)اللہ عَزَّ وَجَلَّپرتوکل وبھرو سہ کرنا (25) فخروغرورترک کرنا، اپنی تعریف کرنے سےبچنا، اپنے آپ کوگناہوں سےپاک وصاف نہ سمجھنا (26) حسدنہ کرنا (27) بِلاوجہ کسی سےدشمنی نہ کرنا (28) غصہ ترک کرنا (29) خیانت اورکسی کے متعلق بدگمانی ومکروفریب سے بچنا (30) دنیا کی محبت ترک کرنا، مال ودولت جاہ ومرتبہ کی محبت دل سے نکال دینا (31)اللہ عَزَّ وَجَلَّکی وحدانیت کازبان سےاقرار کرنا (32) قرآن پاک کی تلاوت کرنا (33) علم سیکھنا (34) علم سکھانا (35) دعا کرنا (36) ذکرواستغفار کرنا (37) فضول گوئی سے بچنا (38) پاکیزگی یعنی بدن کو حَدَث وجَنَابَت اورحَیْض ونِفَاس سے وُضو اورغُسل کے ذریعے پاک رکھنا، کپڑے اور مکان پاک رکھنا (39) نمازقائم کرنا، اس میں فرائض ونوافل اورقضانمازیں بھی داخل ہیں۔ (40) زکوٰۃ وصدقہ فِطر ادا کرنا، سخاوت کرنا، کھانا کھلانااورمہمان نوازی کرنا (41) فرض و نفل روزے رکھنا (42) حج وعمرہ کرنا (43) اعتکاف کرنا اورلیلۃُالقدرکی جستجو کرنا (44) دین کی حفاظت کے ‏لیے بُرے اُمور سےدُور بھاگنااورمشرکوں کےعلاقے سےہجرت کرنا (45) مانی ہوئی نذرپوری کرنا (46) قسم پوری کرنا (47) کفارہ ادا کرنا (48) نمازاور بیرونِ نمازسِترچھپانا (49) قربانی کرنا (50) مسلما نوں کےجنازوں کے ساتھ جانا (51) قرض ادا کرنا (52) معاملات میں سچّائی برتنا اور ریا کاری سے بچنا (53) سچی گواہی دینا اور سچ نہ چھپانا (54) نکاح کے ذریعے پاک دامنی حاصل کرنا (55) اہل وعیال کے حقوق پورے کرنا اور خادموں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا (56) والدین کے ساتھ اچھا برتاؤکرنا اور ان کی نافرمانی سے بچنا (57) اولاد کی اچھی تربیت کرنا (58) صلہ رحمی کرنا (59) بڑوں کی اطاعت کرنا (60) عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کرنا (61) جماعت کی پیروی کرنا (62) حکمرانوں کی اطاعت کرنا (63) لوگوں کی اِصلاح کرنااورخوارج وباغیوں سےجنگ کرنا (64) نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا (65) نیکی کا حکم دینا اوربرائی سےمنع کرنا (66) حدودقائم کرنا (67) جہادکرنااوراس کے ‏لیے ہر وقت تیاررہنا (68) امانت اور مال غنیمت کا خُمس ادا کرنا (69) وعدے کے مطابق قرضہ ادا کرنا (70) پڑوسیوں کااحترام کرنا (71) معاملات میں اچھائی برتنا اورحلال روزی کمانا (72) اچھی جگہ مال خرچ کرنافضول خرچی اور اِسراف سے بچنا (73) سلام کا جواب دینا (74) چھینکنے والے کوجواب دینا (75) لوگوں سےنقصان کودورکرنا (76) لہو ولعب سے بچنا (77) راستے سے تکلیف دہ شے ہٹانا۔ ‘‘ ( )حیا ایمان کا حصہ ہے:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ حیاکوایمان کاحصہ اس ‏لیے کہاگیاہےکہ حیا اچھے اعمال کی طرف اُبھارتی اوربُرائیوں سے روکتی ہے۔ حیا اگرچہ فطرت میں شامل ہوتی ہے۔مگر بسا اوقات تکلفاً جد وجہد سے حیا اختیار کی جاتی ہے لیکن اسےشریعت کے مطابق استعمال کرنے کے ‏لیے جدوجہداورنیت کی حاجت ہوتی ہے ۔اسی ‏لیےیہ ایمان کا حصہ ہے ۔ایمان کی شاخوں کواجمالاًذکر کرنے کے بعدحضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خصوصی طور پر حیا کو ذکر کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ حیا ایمان کے تمام شعبوں کی طرف بلاتی ہے کہ حیا دار بندہ دنیا کی رسوائی اورآخرت کے خوف سے اپنےآپ کوگناہوں سے بچاتا اوراَحکامِ الٰہی بجا لاتا ہے۔ ‘‘ ( )حیاکی تعریف:حیا اُن اخلاق کا نام ہے جو بُرے کاموں سے بچنے پر اُبھاریں اورحقدارکے حق میں کمی کرنے سے روکیں ۔ سب سے بہترین حیااللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنا ہے۔ وہ یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتجھے وہاں نہ دیکھے جہاں سے اس نے تجھے منع کیا ہے۔ اور یہ معرفت و مراقبہ ہی کی بدولت ممکن ہے ۔اورحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے درج ذیل فرمان سے یہی مراد ہے۔آپ نے فرمایا: ’’ تُواللہ عَزَّ وَجَلَّکی اس طرح عبادت کر کہ گویا تُو اُسے دیکھ رہا ہے پس اگر تُو اسے نہ دیکھ سکے تو وہ تجھے ضرور دیکھ رہا ہے ۔ ‘‘ اسی طرح امام ترمذی نے روایت کیا کہ سرکار مدینہ راحت قلب وسینہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّسےاس طر ح حیا کروجس طرح حیا کرنے کا حق ہے۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں ، ہم نے عرض کی: ’’یا رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم حیا کرتے ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی حمد کرتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’ یہ حیا نہیں ہے بلکہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کا حق یہ ہے کہ سراورجو کچھ اس میں ہے اس کی حفاظت کرو، پیٹ اور جو کچھ پیٹ میں ہے اس کی حفاظت کرو، موت اور موت کے بعد گلنے سڑنے کو یاد کرو ۔ پس جس نے یہ کر لیااس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرنے کا حق ادا کردیا۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا جُنَیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ملنے والی نعمتوں اور اپنی کوتاہیوں کی طرف نظر کرنےسےدل میں جوکیفیت پیداہوتی ہےاسے حیاکہتے ہیں ۔ ‘‘ ( )
حیاکےمعنی ہیں : ’’ عیب لگائےجانے کے خوف سےبُرے اعمال ترک کردینا۔ ‘‘ حضرتِ سیِّدُنا شَہابُ الدّین سُہروردی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عظمت و جلال کی تعظیم کے ‏لیے روح کو جُھکانا حیا ہےاور اِسی قَبِیل سے حضرتِ سیِّدُنا اِسرافیلعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی حیاہے جیسا کہ بیان ہوا کہ وہاللہ عَزَّوَجَلَّسے حیا کی وجہ سے اپنے پَروں سے خود کو چُھپائے ہوئے ہیں ۔ ‘‘ عُلَما ءِکرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ حیاایک ایسا خُلق ہے جو بُرے کام چھوڑنےپر اُبھارتا اور حق دار کے حق میں کمی کرنے سے روکتا ہے۔ ‘‘ ( )حیااِیمان کا رکن اَعلیٰ ہے:شرم وحیااِیمان کا رُکن اعلیٰ ہے۔دنیا والوں سے حیادُنیاوی بُرائیوں سے روک دیتی ہے، دین والوں
سے حیادینی بُرائیوں سے روک دیتی ہے۔
اللہرسول سے شرم و حیاتمام بدعقیدگیوں ، بدعملیوں سے بچالیتی ہے۔ایمان کی عمارت اسی شرم و حیا پر قائم ہے۔درختِ ایمان کی جڑ مؤمن کے دل میں رہتی ہے اس کی شاخیں جنت میں ہیں ۔جوشخص زبان کابےباک ہوکہ ہر بُری بھلی بات بےدھڑک منہ سے نکال دےتو سمجھ لو کہ اس کا دل سخت ہے اور اس میں حیانہیں ۔سختی وہ درخت ہے جس کی جڑ انسان کے دل میں ہے اور اس کی شاخ دوزخ میں ۔جو حیا گناہوں سے روک دے وہ تقویٰ کی اصل ہے اور جو غیرت و حیااللہکے مقبول بندوں کی ہیبت دل میں پیدا کردے وہ ایمان کا رُکن اعلیٰ ہےاورجوحیانیک اَعمال سے روک دے وہ بُری ہے۔ ‘‘ ( )حیا کی اقسام:سَیِّدُنَا فقیہ اَبُواللَّیْث سَمَرقَنْدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :حیا کی دو قسمیں ہیں : (1) لوگوں کے مُعامَلے میں حیا (2)اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مُعامَلے میں حیا۔ لوگوں کے مُعامَلےمیں حیا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تُو اپنی نَظَر کو حرام اشیاء سے بچا ئے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے مُعامَلے میں حیا کرنے سے مُراد یہ ہے کہ تو اُس کی نعمت کوپہچانے اور اُس کی نافرمانی کرنے سے حیا کرے۔ ‘‘ ( )حیاکے متعلق شرعی اَحکام:حیاکبھی فرض وواجِب ہوتی ہےجیسے کسی حرام و ناجائز کام سے حَیا کرنا۔کبھی مُستَحب جیسے مکروہِ تنزیہی سے بچنے میں حیاکرنا اورکبھی مُباح جیسےکسی مُباحِ شَرْعی کےکرنےسےحیا۔ ( )حیاسےمتعلق3 فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:
(1) ’’ حیااور کم گوئی ایمان کی دو شاخیں ہیں اوربدکلامی اور فضول گوئی نفا ق کی دوشاخیں ہیں ۔ ‘‘ ( )
(2) ’’ بے شک !ہر دین کا ایک خُلق ہوتا ہے اوراسلام کا خُلق حیا ہے ۔ ‘‘ ( )یعنی ہر اُمَّت کی کوئی نہ کوئی خاص خَصْلت ہوتی ہے جودیگرخصلتوں پر غالِب ہوتی ہے اور اسلام کی وہ خصلت حیاہے۔ اس ‏لیے کہ حیاایسا خُلْق ہے جو اَخلاقی اچھّائیوں کی تکمیل، ایمان کی مضبوطی کاباعِث اور اس کی عَلامات میں سے ہے۔
(3) ’’ بے شک! حیااورایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں ، جب ایک اُٹھ جائے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ ‘‘ ( )
مدنی گلدستہ
’’ سَیِّدِ عَالَم ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)
ایمان کی ستر 70سے زائد شاخیں ہیں اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔
(2) حیااَعمالِ خیرکی طرف لےجاتی اور گناہوں سے بچاتی ہے۔
(3) حیاایک ایساخلق ہےکہ جس پراسلام کامدارہے۔
(4) ایمان وہ درخت ہے کہ جس کی جڑمؤمن کے دل میں ہےاور اس کی شاخیں جنت میں ۔
(5) سختی وہ درخت ہے کہ جس کی جڑانسان کے دل میں اور شاخیں دوزخ میں ہیں ۔
(6) بدکلامی اورفضول گوئی نفاق کی دو شاخیں ہیں ۔
(7) حیا اسلام کا خلق، اِس اُمَّت کی خصلت، اَخلاقی اچھائیوں کی تکمیل اوراِیمان کی مضبوطی کا باعث ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں ہمیشہ شرم وحیا جیسی دولت سے مالامال رکھے، ہمارے تمام صغیرہ وکبیرہ گناہوں کومعاف فرمائے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے اور بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 125