Main Icon

باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 140

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ اللَّهَ لَيَرْضٰى عَنِ الْعَبْدِ اَنْ يَاْكُلَ الْاَ كْلَةَ فَيَحْمَدُهُ عَلَيْهَا اَ وْيَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدُهُ عَلَيْهَا. ( )

عن انس رضی اللہ عنہ قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ان الله ليرضى عن العبد ان ياكل الا كلة فيحمده عليها ا ويشرب الشربة فيحمده عليها. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے سے خوش ہوتا ہےجو کھانا کھا کراس کی حمد کرے یا پانی پی کر اس کی حمد کرے۔ ‘‘

شرح حدیث

کھانا کھاکر شکر بجالانا:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّاسےپسند فرماتاہےجو کھانا کھا کریاپانی پی کراس کی حمد کرے ۔”اَکْلَۃٌ“اگرہمزہ پرزبرپڑھیں تومعنی ہوگا: کھانا مکمل کر کےاللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکرادا کرنا۔اوراگرہمزہ پرپیش ہو”اُکْلَۃٌ“توپھر معنی ہوگا: ہرلقمےپراللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکرادا کرنااوریہ ادائے شکر کابہت اعلیٰ درجہ ہے۔ لیکن پہلامعنی زیادہ موافق ہے۔ ‘‘ ( )اپنے ساتھیوں کی رعایت:حضرت سَیِّدُنَا ابنِ مالکعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْخَالِقفرماتےہیں : ’’ سنت یہ ہےکہ کھانےکےبعدجب تک اس کے ساتھ کھانے والے فارغ نہ ہوجائیں ، بلندآواز سے حمد نہ کرے، کیونکہ ہوسکتاہےاس کی حمد سن کروہ کھانے سے ہا تھ روک لیں ۔ ‘‘ ( )پچھلے گناہ مُعاف:حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ جو شخص کھانے کے بعد یہ کلمات کہےتو اس کےتمام پچھلےگناہ مُعاف کر دیے جاتے ہیں ۔ (وہ کلِمات یہ ہیں :)اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَلَاقُوَّ ۃٍیعنی تمام تعریفیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے ہیں جس نے مجھے یہ کھاناکِھلایا اور میری کسی مَہارت وقُوّت کے بِغیر مجھے یہ رِزق عطا فرمایا ۔ ‘‘ ( )ہر لقمے پرحمدِالٰہی:مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : (اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے سے خوش ہوتا ہےجو کھانا کھا کراس کی حمد کرے یا پانی پی کر اس کی حمد کرے) اس فرمانِ عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں :ایکیہ کہ اگر کسی وقت تھوڑا سا کھانا بھی کھائے ، ایک آدھ لقمہ، تب بھی خدا کی حمد کرے۔ دوسرےیہ کہ کھاتے وقت ہر لقمہ پراللہکی حمد کرے۔ ہم نے بعض بزرگوں کو کھانے کے ہر لقمے اور پانی کے ہر گھونٹ پر حمد کرتے دیکھا ہے۔ ‘‘ ( )کھاناکھانے کی سنتیں اور آداب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کھانااللہ عَزَّ وَجَلَّکی بہت لذیذ نعمت ہے ۔ اگر سنتِ احمد ِ مجتبیٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مطابق کھانا کھایا جائے تو ہمیں پیٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ ثواب بھی حاصل ہوگا۔ اس ‏لیے ہمیں چاہيے کہ سنت کے مطابق کھانا کھانے کی عادت ڈالیں ۔ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۱۲۲صفحات پرمشتمل کتاب ’’ سنتیں اور آداب ‘‘ صفحہ ۸۹سے کھانا کھانے کی کچھ سنتیں اور آداب ملاحظہ ہوں : (1) ہرکھانے سے پہلے اپنے ہاتھ پہنچوں تک دھو لیں ۔ (2) جب بھی کھانا کھائیں تو الٹا پاؤں بچھا دیں اور سیدھا کھڑا رکھیں یا سرین پر بیٹھ جائیں اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھیں ۔ (3) کھانے سے پہلے جوتے اتار لیں ۔ (4) کھانے سے پہلےبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمپڑھ لیں ۔ (5) اگر کھانے کے شروع میںبِسْمِ اللہپڑھنا بھول جائیں تو یاد آنے پربِسْمِ اللہِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہپڑھ لیں ۔ (6) کھانے سے پہلے یہ دعا پڑھ لی جائے تو اگر کھانے میں زہر بھی ہوگا تواِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّاثر نہیں کرے گا: ’’بِسْمِ اللہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآءِ یَاحَیُّ يَاقَیُّوْمُیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے شروع کرتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین وآسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ اے ہمیشہ سے زندہ وقائم رہنے والے۔ (7) سیدھے ہاتھ سے کھائیں ۔ (8) اپنے سامنے سے کھائیں ۔ (9) کھانے میں کسی قسم کا عیب نہ لگائیں مثلاً یہ نہ کہیں کہ مزیدار نہیں ، کچا رہ گیا ہے ، پھیکا رہ گیا کیونکہ کھانے میں عیب نکالنامکروہ و خلافِ سنت ہے بلکہ جی چاہےتو کھائیں ورنہ ہاتھ روک لیں ۔
¥
کھانے کی ’’ 40 ‘‘ نیتیں :فَرما نِ مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: ’’ مسلمان کی نیّت اس کے عَمَل سے بہتر ہے۔ ‘‘ ( ) شیخ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی بیان کردہ کھانے کی چالیس40 نیتیں پیش خدمت ہیں : (۱، ۲) کھانے سے قبل اور بعد کا وُضو کروں گا (یعنی ہاتھ، مُنہ کا اَگلا حصّہ دھوؤں گا اور کُلِّیاں کروں گا) (۳) عبادت (۴) تِلاو ت (۵) والدین کی خدمت (۶) تحصیلِ عِلمِ دین (۷) سنّتوں کی تربیّت کی خاطِر مَدَنی قافِلے میں سفر (۸) عَلاقائی دَورہ برائے نیکی کی دعوت میں شرکت (۹) اُمورِ آخِرت اور (۱۰) حسبِ ضَرورت کسبِ حلال کےلیے بھاگ دوڑ پر قوّت حاصِل کروں گا (یہ نِیّتیں اُسی صورت میں مُفید ہوں گی جبکہ بھوک سے کم کھائے، خوب ڈٹ کر کھانے سے اُلٹا عبادت میں سُستی پیدا ہوتی، گناہوں کی طرف رُجحان بڑھتا اور پیٹ کی خرابیاں جَنَم لیتی ہیں ۔) (۱۱) زمین پر (۱۲) دستر خوان بچھانے کی سنّت ادا کرکے (۱۳) سنّت کے مطابِق بیٹھ کر (۱۴) کھانے سے قبلبسم اللہاور (۱۵) دیگردُعائیں پڑھ کر (۱۶) تین انگلیوں سے (۱۷) چھوٹے چھوٹے نوالے بناکر (۱۸) اچھی طرح چبا کر کھاؤں گا (۱۹) ہر دو ایک لقمہ پر یا وَاجِدُ پڑھوں گا (۲۰) جو دا نہ وغیرہ گر گیا اٹھا کر کھالوں گا (۲۱) روٹی کا ہر نوالہ سالن کے برتن کے اوپر کرکے توڑوں گا تا کہ روٹی کے ذرّات برتن ہی میں گریں (۲۲) ہڈّی اور گرم مصالحہ اچھی طرح صاف کرنے اور چاٹنے کے بعد پھینکوں گا (۲۳) بھوک سے کم کھاؤں گا (۲۴) آخِرمیں سنّت کی ادائیگی کی نیّت سے برتن اور (۲۵) تین بار انگلیاں چاٹوں گا (۲۶) کھانے کے برتن دھوکر پی کر ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کا حقدار بنوں گا۔ (۲۷) جب تک دستر خوان نہ اُٹھالیا جائے اُس وقت تک بِلا ضَرورت نہیں اُٹھوں گا (۲۸) کھانے کے بعد مسنون دعائیں پڑھوں گا (۲۹) خِلال کروں گا۔
¥
مِل کر کھانے کی مزید نیّتیں :(۳۰) دسترخوان پر اگر کوئی عالم یا بزرگ موجود ہوئے تو اُن سے پہلے کھانا شروع نہیں کروں گا (۳۱) مسلمانوں کے قُرب کی بَرَکتیں حاصِل کروں گا (۳۲) اُن کو بوٹی، کدّوشریف، کُھرچن اور پانی وغیرہ پیش کرکے اُن کا دل خوش کروں گا (۳۳) اُن کے سامنے مسکراکر صدقہ کا ثواب کماؤں گا (۳۴) کھانے کی نیّتیں اور (۳۵) سنّتیں بتاؤں گا (۳۶) موقع ملا تو کھانے سے قبل اور (۳۷) بعد کی دعائیں پڑھاؤں گا (۳۸) غذاکا عمدہ حصّہ مَثَلاً بوٹی وغیرہ حرص سے بچتے ہوئے دوسروں کی خاطر اِیثار کروں گا (۳۹) اُن کو خِلال کا تحفہ پیش کروں گا (۴۰) کھانے کے ہر ایک دو لقمہ پر ہو سکا تو اس نیّت کے ساتھ بلند آواز سےیَاوَاجِدُکہوں گا کہ دوسروں کو بھی یاد آجائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سنت کے مطابق کھانا کھانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
تیری سنتوں پہ چل کر میری روح جب نکل کر
چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ شکر کرو ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
ہر لقمے اور ہر گھونٹ پر حمد الٰہی بجا لانا شکر کا بہترین طریقہ ہے۔
(2) کھانے کے بعد شکرِ الٰہی بجا لانارزق میں اضافے کا سبب ہے ۔
(3) کھانا کھاتے ہوئے کھانے کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے میں بہت فوائد ہیں ۔سنت پر عمل کی برکت سے پیٹ بھرنے کے ساتھ ساتھ ثواب کا خزانہ بھی ہاتھ آئے گا۔
(4) کھانا کھاتے وقت محفل کے آداب ملحوظ رکھنے چاہئیں ، ایک ادب یہ بھی ہے کہ جب تک دوسرے ساتھی کھانا نہ کھا لیں بلند آواز سے حمد نہیں کرنی چاہیے۔
(5) بزرگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے کہ ان کی صحبت میں بہت ساری دُنیوی واُخروی بھلائیاں ملتی ہیں ، بہت سی سنتیں اور آداب سیکھنے کو ملتے ہیں ۔
(6) کھانے سے قبل اچھی اچھی نیتیں کرلیجئے،
اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّثواب کا خزانہ ہاتھ آئے گا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں زوالِ نعمت سےبچائےاورہرنعمت پراپنی حمدوثنابیان کرنےکی توفیق عطافرمائے، سنت کے مطابق کھانا کھانے کی توفیق عطا فرمائے، دنیا وآخرت کی بھلائیاں عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 140