Main Icon

باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1033

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْاَ وَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوْا اِلَّا اَنْ يَسْتَھِمُوْا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوْا عَلَیْہِ، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي التَّهْجِيْرِ لَاسْتَبَقُوْا اِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَاَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.

عن ابی ہریرۃ رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لو يعلم الناس ما في النداء والصف الا ول ثم لم يجدوا الا ان يستھموا عليه لاستهموا علیہ، ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا اليه، ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لاتوهما ولو حبوا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اگرلوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کا کتنا ثواب ہے پھر وہ قرعہ اندازی کئے بغیر اسے حاصل نہ کرسکتے تو ضرور قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ (نماز کے لئے) جلدی آنے میں کتنا ثواب ہے تواس کے لیے دوڑ کر آتے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عِشا اور صبح کی نماز میں کتنا ثواب ہے تو ضرور حاضر ہوتے چاہے گِھسَٹتے ہوئے ہی آنا پڑے۔“

شرح حدیث

اذان دینے کاثواب:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں:علامہ ابو جعفر داودیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرمان ”اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں کیا ہے؟“ اس سے مراد یہ ہے کہ ان اعمال میں کتنا زیادہ ثواب ہے تو ضرور سب لوگ ان اعمال کو بجالانے میں جلدی کرتے۔امام طبری نے حضرت سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکا قرعہ ڈالنے کا ایک واقعہ ذکر فرمایا کہ جب قادسیہ فتح ہوگیا ،لوگوں نے دشمن کا پیچھا کیا۔ جب واپس لوٹے تو ظہر کا وقت ہوچکا تھا اور مؤذن شہید ہوچکے تھے تو لوگ اذان دینے کے لیے جھگڑنے لگے قریب تھا کہ آپس میں تلواریں چل جاتیں۔حضرت سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے لوگوں کے درمیان قرعہ اندازی کی جس کے نام کا قرعہ نکلا اس نے اذان دی۔اس حدیث سے پہلی صف میں نماز پڑھنے کی فضیلت بھی معلوم ہوئی کیونکہ جب امام جہر کے ساتھ قراءت کرتا ہے تو پہلی صف میں نماز پڑھنے والے کو قرآن اور تکبیرات وغیرہ سننےاور آمین کہنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ پہلی صف میں نماز پڑھنے سے مراد جلدی مسجد پہنچ جانا ہے کیونکہ جو نماز کے لیے جلدی پہنچ کر نماز کا انتظار کرتا ہےاگر چہ وہ پہلی صف میں نماز نہ پڑھے پھر بھی اُس شخص سے افضل ہے جو تاخیر سے نماز پڑھنے آئے اور پہلی صف میں نماز پڑھے کیونکہ نماز کا انتظار کرنے والا نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔عشا اور فجر کی فضیلت:مذکورہ حدیث میں عشا اور فجر کی فضیلت بھی بیان کی گئی ہےکہ اگر لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ عشا اور فجر کی نماز میں کتنا ثواب ہے تو وہ ضرور حاضر ہوتے چاہے گِھسَٹتے ہوئے۔ اس میں عشا کی نماز کو عَتَمَہ کہا (حالانکہ بعض روایات میں عشاکو عتمہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ) کیونکہ وہاں کچھ لوگ ایسے تھے جو عشا کو عتمہ کے نام سے ہی جانتے تھے اس لیے عتمہ کہا تاکہ وہ سمجھ جائیں۔ امام طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ساری نمازوں میں صرف عشااور فجر کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا کیونکہ ان دونوں نمازوں کا وقت نفس پر بہت بھاری ہے۔ عشا کا وقت آرام کرنے اور تھکن کو دور کرنے کا وقت ہے اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّنے بھی رات کو سکون حاصل کرنے کے لیے بنایا ہے اور رات کو عشاپڑھنے کے لیے جانے میں اندھیرے میں چلنے کی مشقت اور حشرات الارض کا خوف بھی رہتا ہے۔ فجر کی نماز کا وقت نیند کے غلبہ کا وقت ہوتا ہے۔اس وقت آرام دہ بستر چھوڑ کر وضو کرنا اور مسجد کی طرف جانے میں جتنی مشقت و تکلیف ہوتی ہے وہ کسی اور نماز میں نہیں ہوتی۔ اسی لیے حدیث میں ہے کہ منافقین پر سب سے بھاری نماز عشا اور فجر کی ہے۔“حضرت ابن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص کو فجر کی نماز میں موجود نہ پاتے تو ہم اس کے بارے میں اچھا گمان نہ رکھتے۔ حضرت عمر فاروقرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: مجھے ساری رات قیام کرنے سے زیادہ پسند یہ بات ہے کہ میں فجر کی نماز جماعت سے پڑھوں۔ حضرت عثمان غنیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: جو عشا کی نماز میں حاضر ہوا اُس نے آدھی رات قیام کیا اور جو فجر کی نماز میں حاضر ہوا گویا اُس نے پوری رات قیام کیا۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(اس حدیث سے)پتہ لگا کہفِی سَبِیْلِ اﷲاذان وتکبیرکہنا اورنمازکی صف اول میں،خصوصًا امام کے پیچھے کھڑا ہونا بہت بہتر ہے جس کی بزرگی بیان نہیں ہوسکتی۔مدنی گلدستہ’’پہلی صف‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
(2) مؤذن نہ ہو اور کئی لوگ جو فضیلت میں باہم برابر ہوں ان میں سے ہر ایک اذان دینے میں بضد ہو تو ان کے درمیان قرعہ ڈالا جائے۔
(3) بغیر کسی اجرت کے
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کے لیے اذان کہنا بہت افضل عمل ہے۔
(4) پہلی صف میں نماز پڑھنے والے کو بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
(5) عشا اور فجر کی نماز منافقین پر بھاری ہے لہٰذا ہمیں ان نمازوں کی سختی سے پابندی کرنی چاہیے۔
(6) جس نےعشا اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھی گویا اس نے پوری رات عبادت کی۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال میں سبقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1033