Main Icon

باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1034

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ :سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:الْمُؤَذِّنُونَ اَطْوَلُ النَّاسِ اَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ .

عن معاوية رضي الله عنه :سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:المؤذنون اطول الناس اعناقا يوم القيامة .

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا امیرمعاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا :”اذان دینے والے قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے۔ “

شرح حدیث

مؤذنوں کی گردن لمبی ہونے سے مراد:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:مؤذنوں کی گردن لمبی ہونے سےمراد یہ ہے کہ قیامت کے دن انہیں لوگوں میں سب سے زیادہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت کی امید ہوگی اور جسے کسی چیز کی امید اور اشتیاق ہو وہ گردن اُٹھا کر اُسے دیکھتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ اُنہیں بہت زیادہ ثواب ملے گا جسے وہ گردن اُٹھا اُٹھا کر دیکھیں گے۔حضرت سَیِّدُنا نضر بن شمیلرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب لوگ اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے تو مؤذنوں کی گردنیں لمبی ہوں گی تاکہ اُنہیں یہ اذیت نہ پہنچے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ مؤذن قیامت کے دن سردار ہوں گے اور اہل عرب سرداروں کو لمبی گردن سے موصوف کرتے ہیں۔عَلَّامَہ حَافِظْ عَبْدُ الْمُؤْمِنْ بِنْ خَلَفْ دِمْیَاطِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”لمبی گردن سے مرا د ایک قول کے مطابق یہ ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عمل والے لو گ مؤذنین ہوں گے اور ایک قول یہ ہے کہ مؤذنین کی گردنیں حقیقۃً لمبی ہوں گی کیونکہ قیامت کے دن لوگ تعداد میں کثیراور پریشان حال ہوں گے کوئی پسینہ میں منہ تک ڈوبا ہوا ہو گا،کسی کا پسینہ کانوں کی لو تک پہنچتا ہوگا اور کسی کا پسینہ سر سے بلند ہوجائے گا جبکہ مؤذنین اس دن لوگوں میں سب سے لمبی گردنوں والے ہوں گے اور ان کے سر دیگر لوگوں سے بلند ہوں گےاوروہ جنت میں داخلہ کی اجازت کے منتظرہوں گے ۔ ایک احتمال یہ بھی ہے کہ ان کی گردنیں لمبی نہ ہوں گی بلکہ مکان کی اونچائی کی بناء پر ان کی گردنیں لمبی نظر آئیں گی کیونکہ مؤذنین قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر کھڑے ہوں گے جبکہ دیگر لوگ محشر کی زمین پر ہوں گے۔“عَلَّامَہ مُحَمَّد عَبْدُالرَّءُوْف مُنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَالِیفرماتے ہیں:لمبی گردنیہ کنایہ ہےاس سے کہ بروزِ قیامت مؤذنین شرمندہ نہ ہوں گے اس ليے کہ جو شرمندہ ہوتا ہے، اس کی گردن جھک جاتی ہے۔مُفَسِّرِ شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یعنی (مؤذن) گردن فراز اورسربلند ہوں گےیا سراٹھائے رب کی رحمت کے منتظریا بلند قامت ہوں گے کہ دور سے پہچان لئے جائیں گے۔یہ مطلب نہیں کہ اُن کے جسم چھوٹے اورصرف گردنیں لمبی ہوں گی کہ یہ بد زیبی ہے۔بعض مفسرین نے اِعناق کو ہمزہ کے زیر سے پڑھا ہے،بمعنی تیزرفتاری ولمبے قدم،یعنی مؤذن جنت کی طرف دوڑتے ہوئے لمبے قدم رکھتے ہوئے جائیں گے،دوسروں سے پہلے بہشت(جنت)میں داخل ہوں گے۔مدنی گلدستہ’’ اذان ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) رضائے الٰہی کے لیے اذان دینے والوں کی گردنیں قیامت کے دن لمبی ہوں گی۔
(2) مؤذن قیامت کے دن
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے بہت زیادہ ثواب ملنے کی امید کریں گے اور وہ اپنی گردن اٹھا اٹھا کراﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ملنے والے ثواب کو دیکھیں گے۔
(3) رضائے الٰہی کےلیے اذان دینے والے قیامت کے دن لوگوں کے سردار ہوں گے۔
(4) مؤذن حضرات جنت کی طرف سبقت کریں گے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں رضائے الٰہی کے لئے اذان دینے اور اُس کے اجر سے بہرہ مند ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
α صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1034