Main Icon

باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1038

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوْا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.

عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:اذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”جب تم اذان کی آواز سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔“

شرح حدیث

اذان سے پہلے اوربعددرودشریف پڑھنا:مذکورہ دونوں حدیثوں میں اذان کا جواب دینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ جب اذان ہو تو جو کلمات مؤذن کہتا جائے تم بھی وہی کلمات دہراتے جاؤ۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اس سےمعلوم ہوا کہ اذان کے بعددرودشریف پڑھناسنت ہے،بعض مؤذن اذان سے پہلے ہی درود شریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں،ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔شامی نے فرمایا کہ اقامت کے وقت درود شریف پڑھناسنت ہے۔خیال رہے کہ اذان سے پہلےیا بعد بلند آواز سے درود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے،بلاوجہ اسے منع نہیں کہہ سکتے۔ خیال رہے کہ وسیلہ سبب اورتوسل کو کہتے ہیں،چونکہ اس جگہ پہنچنا رب سے قُرب خصوصی کا سبب ہےاس لیے وسیلہ فرمایا گیا۔حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا فرمانا کہ”امیدکرتا ہوں“ تواضع اورانکساری کے لئے ہے ورنہ وہ جگہ حضور کے لئے نامزدہوچکی ہے۔ہمارا حضور کے لیے وسیلہ کی دعاکرنا ایسا ہی ہے جیسے فقیر امیر کے دروازے پرصدا لگاتے وقت اس کی جان ومال کی دعائیں دیتاہے تاکہ بھیک ملے،ہم بھکاری ہیں،حضور داتا، اُنہیں دعائیں دینامانگنےکھانے کا ڈھنگ ہے۔اذان کا جواب دینے کا طریقہ:شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ”فیضانِ اذان“کے صفحہ نمبر7 پر اذان و اِقامت کا جواب دینے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:مؤذن صاحب کو چاہیے کہ اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہیں۔اﷲ اَکْبَر اﷲ اَکْبَردونوں مل کر (بغیر سکتہ کئے ایک ساتھ پڑھنے کے اعتبار سے) ایک کلمہ ہیں دونوں کے بعد سکتہ کرے (یعنی چپ ہوجائے) اور سکتہ کی مقدار یہ ہے کہ جواب دینے والا جواب دے لے، سکتہ کا ترک مکروہ ہے اور ایسی اذان کا اِعادہ مستحب ہے۔ جواب دینے والے کو چاہیے کہ جب مؤذن صاحباﷲ اَکْبَر اﷲ اَکْبَرکہہ کر سکتہ کریں یعنی خاموش ہوں اس وقتاﷲ اَکْبَر اﷲ اَکْبَرکہے۔ اسی طرح دیگر کلمات کا جواب دے۔ جب مؤذن پہلی باراَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲکہے (تو) یہ کہے:صَلَّی اﷲ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اﷲ(ترجمہ آپ پر درود ہو یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) جب دوبارہ کہے (تو) یہ کہے:قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اﷲ(ترجمہ: یارسولَاﷲآپ سے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے) اور ہر بار انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں سے لگا لے آخر میں کہے:اَللّٰہُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَر( اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!میری سننے اور دیکھنے کی قوت سے مجھے نفع عطا فرما۔)جو ایسا کرے سرکار مدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃاورحَیَّ عَلَی الْفَلَاحکے جواب میں (چاروں بار)لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲکہے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں کہے (یعنی مؤذن نے جو کہا وہ بھی کہے اورلَاحَوْلَبھی) بلکہ مزید یہ بھی ملالے:مَاشَآءَ اﷲ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَاءْ لَمْ یَکُنْ(ترجمہ: جواﷲنے چاہا ہوا، جو نہیں چاہا نہ ہوا)۔اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمکے جواب میں کہے:صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ وَ بِالْحَقِّ نَـطَـقْتَ(ترجمہ: تو سچا اور نیکوکار ہے اور تو نے حق کہا ہے۔) اقامت کا جواب مستحب ہے اس کا جواب بھی اسی طرح ہے فرق اتنا ہےقَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃکے جواب میں کہے:اَقَامَھَا اﷲ وَاَدَامَھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ(ترجمہ:اﷲاس کو قائم رکھے جب تک آسمان اور زمین ہیں۔)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّداذان کے جواب کی فضیلت:مدینےکےتاجدار α صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک بارفرمایا:∞”اے عورَتو!جب تم بِلال کو اذان و اِقامت کہتے سنوتوجس طرح وہ کہتاہے تم بھی کہوکہ α اﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہارے لئے ہرکلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک ہزار دَرَجات بُلند فرمائے گا اورایک ہزارگناہ مٹائے گا۔خواتین نے یہ سُن کر عرض کی:یہ توعورَتوں کیلئے ہے مَردوں کیلئے کیاہے؟فرمایا:مَردوں کیلئے دُگنا ۔اذان کا جواب دینے والا جنّتی ہوگیا:فیضان اذان∞“صفحہ 6پر ہے:حضرت سیِّدُناابوہریرہ αرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک صاحِب جن کا بظاہِرکوئی بہت بڑا نیک عمل نہ تھا ،وہ فوت ہوگئے تو ∞رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صَحابَۂ کرام αعَلَيهِمُ الّرِضْوَانکی موجودگی میں (غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد) فرمایا:کیا تمہیں معلوم ہے کہ α اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے اسے جنّت میں داخِل کردیا ہے۔اس پرلوگαمُتَعَجِّبہوئے کیونکہ بظاہران کا کوئی بڑاعمل نہ تھا۔ چُنانچِہ ایک صَحابیα رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاُن کے گھرگئے اوران کی بیوہ αرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے پوچھا کہ اُن کا کوئی خاص عمل ہمیں بتائیے ،تواُنہوں نے جواب دیا : اورتوکوئی خاص بڑاعمل مجھے معلوم نہیں ،صِرف اتنا جانتی ہوں کہ دن ہویا رات ،جب بھی وہ اذان سنتے توجواب ضَروردیتے تھے۔)اذان کا جواب دینا واجب ہے:اذان کا جواب عملی بھی ہے اورقولی بھی،عملی جواب تو مسجدمیں حاضرہوجانا ہے،قولی جواب کلمات اذان کا دہراناہے۔علامہ ابنِ عابدین شامیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:قولی جواب واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور عملی جواب واجب ہے۔اذان کے جواب کے متعلق چند اَحکام:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:جنب بھی اَذان کا جواب دے۔ حیض و نفاس والی عورت اور خطبہ سننے والے اور نمازِ جنازہ پڑھنے والے اور جو جماع میں مشغول یا قضائے حاجت میں ہو، ان پر جواب نہیں۔جب اذان ہو تو اتنی دیر کے ليے سلام کلام اور جواب سلام، تمام اشغال موقوف کر دے یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت میں اذان کی آواز آئے، تو تلاوت موقوف کر دے اور اذان کو غور سے سُنے اور جواب دے۔ یوہیں اِقامت میں۔ جو اذان کے وَقت باتوں میں مشغول رہے اس پرمَعَاذَاﷲخاتمہ بُرا ہونے کا خوف ہے۔راستہ چل رہا تھا کہ اَذان کی آواز آئی تو اتنی دیر کھڑا ہو جائے سُنے اور جواب دے۔ اگر چند اَذانیں سُنے، تو اس پر پہلی ہی کا جواب ہے اور بہتر یہ کہ سب کا جواب دے۔اگر بوقتِ اَذان جواب نہ دیا، تو اگر زیادہ دیر نہ ہوئی ہو، اب دے لے۔خطبہ کی اَذان کا جواب زبان سے دینا، مقتدیوں کو جائز نہیں۔مدنی گلدستہ’’اذان سنو‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) جب اذان کی آواز آئے تو حکم ہے کہ اذان کا جواب دے۔
(2) اذان کے بعد درود شریف پڑھنا سنت ہے اگر کوئی اذان سے پہلے بھی پڑھے تو جائز ہے بلا وجہ اسے منع نہیں کہہ سکتے۔
(3) جو اذان کے بعد نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے وسیلہ کی دعا مانگے اسے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب ہوگی۔
(4) اذان کا قولی جواب مستحب اور عملی جواب واجب ہے۔
(5) جنبی بھی اذان کا جواب دے لیکن حیض ونفاس والی عورت اذان کا جواب نہ دے۔
(6) اگر کوئی تلاوت میں مشغول ہو اور اذان کی آواز آجائے تو تلاوت موقوف کر کے اذان کا جواب دے۔
(7) اذان کے وقت باتوں میں مشغول رہنے والے کے بُرے خاتمے کا اندیشہ ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں اذان کا احترام کرنے اوراس کا جواب دینے کی توفیق عطا فرمائے اور بُرے خاتمے سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1038