- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- حدیث نمبر 1038
باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1038
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوْا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.
عن ابي سعيد الخدري رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:اذا سمعتم النداء فقولوا مثل ما يقول المؤذن.
حدیث ترجمہ
حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”جب تم اذان کی آواز سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔“
شرح حدیث
اذان سے پہلے اوربعددرودشریف پڑھنا:مذکورہ دونوں حدیثوں میں اذان کا جواب دینے کی ترغیب دی گئی ہے کہ جب اذان ہو تو جو کلمات مؤذن کہتا جائے تم بھی وہی کلمات دہراتے جاؤ۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:اس سےمعلوم ہوا کہ اذان کے بعددرودشریف پڑھناسنت ہے،بعض مؤذن اذان سے پہلے ہی درود شریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں،ان کا ماخذ یہ ہی حدیث ہے۔شامی نے فرمایا کہ اقامت کے وقت درود شریف پڑھناسنت ہے۔خیال رہے کہ اذان سے پہلےیا بعد بلند آواز سے درود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے،بلاوجہ اسے منع نہیں کہہ سکتے۔ خیال رہے کہ وسیلہ سبب اورتوسل کو کہتے ہیں،چونکہ اس جگہ پہنچنا رب سے قُرب خصوصی کا سبب ہےاس لیے وسیلہ فرمایا گیا۔حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا فرمانا کہ”امیدکرتا ہوں“ تواضع اورانکساری کے لئے ہے ورنہ وہ جگہ حضور کے لئے نامزدہوچکی ہے۔ہمارا حضور کے لیے وسیلہ کی دعاکرنا ایسا ہی ہے جیسے فقیر امیر کے دروازے پرصدا لگاتے وقت اس کی جان ومال کی دعائیں دیتاہے تاکہ بھیک ملے،ہم بھکاری ہیں،حضور داتا، اُنہیں دعائیں دینامانگنےکھانے کا ڈھنگ ہے۔اذان کا جواب دینے کا طریقہ:شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنے رسالے ”فیضانِ اذان“کے صفحہ نمبر7 پر اذان و اِقامت کا جواب دینے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:مؤذن صاحب کو چاہیے کہ اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کر کہیں۔اﷲ اَکْبَر اﷲ اَکْبَردونوں مل کر (بغیر سکتہ کئے ایک ساتھ پڑھنے کے اعتبار سے) ایک کلمہ ہیں دونوں کے بعد سکتہ کرے (یعنی چپ ہوجائے) اور سکتہ کی مقدار یہ ہے کہ جواب دینے والا جواب دے لے، سکتہ کا ترک مکروہ ہے اور ایسی اذان کا اِعادہ مستحب ہے۔ جواب دینے والے کو چاہیے کہ جب مؤذن صاحباﷲ اَکْبَر اﷲ اَکْبَرکہہ کر سکتہ کریں یعنی خاموش ہوں اس وقتاﷲ اَکْبَر اﷲ اَکْبَرکہے۔ اسی طرح دیگر کلمات کا جواب دے۔ جب مؤذن پہلی باراَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اﷲکہے (تو) یہ کہے:صَلَّی اﷲ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اﷲ(ترجمہ آپ پر درود ہو یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) جب دوبارہ کہے (تو) یہ کہے:قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَارَسُوْلَ اﷲ(ترجمہ: یارسولَاﷲآپ سے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے) اور ہر بار انگوٹھوں کے ناخن آنکھوں سے لگا لے آخر میں کہے:اَللّٰہُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَر( اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّ!میری سننے اور دیکھنے کی قوت سے مجھے نفع عطا فرما۔)جو ایسا کرے سرکار مدینہصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماسے اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃاورحَیَّ عَلَی الْفَلَاحکے جواب میں (چاروں بار)لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاﷲکہے اور بہتر یہ ہے کہ دونوں کہے (یعنی مؤذن نے جو کہا وہ بھی کہے اورلَاحَوْلَبھی) بلکہ مزید یہ بھی ملالے:مَاشَآءَ اﷲ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَاءْ لَمْ یَکُنْ(ترجمہ: جواﷲنے چاہا ہوا، جو نہیں چاہا نہ ہوا)۔اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمکے جواب میں کہے:صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ وَ بِالْحَقِّ نَـطَـقْتَ(ترجمہ: تو سچا اور نیکوکار ہے اور تو نے حق کہا ہے۔) اقامت کا جواب مستحب ہے اس کا جواب بھی اسی طرح ہے فرق اتنا ہےقَدْ قَامَتِ الصَّلٰوۃکے جواب میں کہے:اَقَامَھَا اﷲ وَاَدَامَھَا مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ(ترجمہ:اﷲاس کو قائم رکھے جب تک آسمان اور زمین ہیں۔)صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّداذان کے جواب کی فضیلت:مدینےکےتاجدار α صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک بارفرمایا:∞”اے عورَتو!جب تم بِلال کو اذان و اِقامت کہتے سنوتوجس طرح وہ کہتاہے تم بھی کہوکہ α اﷲ عَزَّ وَجَلَّتمہارے لئے ہرکلمہ کے بدلے ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک ہزار دَرَجات بُلند فرمائے گا اورایک ہزارگناہ مٹائے گا۔خواتین نے یہ سُن کر عرض کی:یہ توعورَتوں کیلئے ہے مَردوں کیلئے کیاہے؟فرمایا:مَردوں کیلئے دُگنا ۔اذان کا جواب دینے والا جنّتی ہوگیا:”فیضان اذان∞“صفحہ 6پر ہے:حضرت سیِّدُناابوہریرہ αرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک صاحِب جن کا بظاہِرکوئی بہت بڑا نیک عمل نہ تھا ،وہ فوت ہوگئے تو ∞رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صَحابَۂ کرام αعَلَيهِمُ الّرِضْوَانکی موجودگی میں (غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد) فرمایا:کیا تمہیں معلوم ہے کہ α اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے اسے جنّت میں داخِل کردیا ہے۔اس پرلوگαمُتَعَجِّبہوئے کیونکہ بظاہران کا کوئی بڑاعمل نہ تھا۔ چُنانچِہ ایک صَحابیα رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُاُن کے گھرگئے اوران کی بیوہ αرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے پوچھا کہ اُن کا کوئی خاص عمل ہمیں بتائیے ،تواُنہوں نے جواب دیا : اورتوکوئی خاص بڑاعمل مجھے معلوم نہیں ،صِرف اتنا جانتی ہوں کہ دن ہویا رات ،جب بھی وہ اذان سنتے توجواب ضَروردیتے تھے۔)اذان کا جواب دینا واجب ہے:اذان کا جواب عملی بھی ہے اورقولی بھی،عملی جواب تو مسجدمیں حاضرہوجانا ہے،قولی جواب کلمات اذان کا دہراناہے۔علامہ ابنِ عابدین شامیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:قولی جواب واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور عملی جواب واجب ہے۔اذان کے جواب کے متعلق چند اَحکام:صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدرُالطَّرِیْقَہ، حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:جنب بھی اَذان کا جواب دے۔ حیض و نفاس والی عورت اور خطبہ سننے والے اور نمازِ جنازہ پڑھنے والے اور جو جماع میں مشغول یا قضائے حاجت میں ہو، ان پر جواب نہیں۔جب اذان ہو تو اتنی دیر کے ليے سلام کلام اور جواب سلام، تمام اشغال موقوف کر دے یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت میں اذان کی آواز آئے، تو تلاوت موقوف کر دے اور اذان کو غور سے سُنے اور جواب دے۔ یوہیں اِقامت میں۔ جو اذان کے وَقت باتوں میں مشغول رہے اس پرمَعَاذَاﷲخاتمہ بُرا ہونے کا خوف ہے۔راستہ چل رہا تھا کہ اَذان کی آواز آئی تو اتنی دیر کھڑا ہو جائے سُنے اور جواب دے۔ اگر چند اَذانیں سُنے، تو اس پر پہلی ہی کا جواب ہے اور بہتر یہ کہ سب کا جواب دے۔اگر بوقتِ اَذان جواب نہ دیا، تو اگر زیادہ دیر نہ ہوئی ہو، اب دے لے۔خطبہ کی اَذان کا جواب زبان سے دینا، مقتدیوں کو جائز نہیں۔مدنی گلدستہ’’اذان سنو‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) جب اذان کی آواز آئے تو حکم ہے کہ اذان کا جواب دے۔
(2) اذان کے بعد درود شریف پڑھنا سنت ہے اگر کوئی اذان سے پہلے بھی پڑھے تو جائز ہے بلا وجہ اسے منع نہیں کہہ سکتے۔
(3) جو اذان کے بعد نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے وسیلہ کی دعا مانگے اسے حضورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب ہوگی۔
(4) اذان کا قولی جواب مستحب اور عملی جواب واجب ہے۔
(5) جنبی بھی اذان کا جواب دے لیکن حیض ونفاس والی عورت اذان کا جواب نہ دے۔
(6) اگر کوئی تلاوت میں مشغول ہو اور اذان کی آواز آجائے تو تلاوت موقوف کر کے اذان کا جواب دے۔
(7) اذان کے وقت باتوں میں مشغول رہنے والے کے بُرے خاتمے کا اندیشہ ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں اذان کا احترام کرنے اوراس کا جواب دینے کی توفیق عطا فرمائے اور بُرے خاتمے سے ہماری حفاظت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1038