Main Icon

باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1041

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْاَذَانِ وَالْاِقَامَةِ.

عن انس رضی اﷲ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:الدعاء لا يرد بين الاذان والاقامة.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اذان اور اقامت کے درمیان دُعا رَد نہیں ہوتی۔“

شرح حدیث

قبولیت کی گھڑی میں کونسی دعا مانگنی چاہیے؟مرقاۃ المفاتیح میں ہے:”اذان اور اقامت کے درمیان اس وقت کے شرف کی وجہ سے دُعا رَد نہیں ہوتی لہٰذا اس وقت میں دعا مانگو۔ایک روایت میں ہے کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےجب یہ سنا کہ اذان اور اقامت کے درمیان دُعا رَد نہیں ہوتی تو عرض کی:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم کیا دعا مانگیں؟ ارشادفرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دنیا و آخرت میں عافیت کا سوال کرو۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ظاہر یہ ہے کہ اس سے اذا ن وتکبیر کے درمیان کا سارا وقت مرادہے کہ اس میں جب بھی دعا مانگے قبول ہوگی۔ شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:” مگر بہتر یہ ہے کہ اذان سے متصل دعا مانگےتاکہ اُس حدیث سے بھی موافقت ہوجائے جس میں فرمایا گیا کہ اذان کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔“مدنی گلدستہ’’دعا‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) اذان اور اقامت کے درمیان مانگی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔
(2) قبولیت کی گھڑیوں میں دنیا و آخرت کی بھلائی اور عافیت کی دعا مانگنی چاہیے۔
(3) بہتر یہ ہے کہ اذان سے متصل یعنی فورا ًبعد دعا مانگے تاکہ اُس حدیث سے بھی موافقت ہوجائے جس میں فرمایا گیا کہ اذان کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں دنیا وآخرت میں عافیت عطا فرمائے۔
عطا کر عافیت تو نزع و قبر و حشر میں یارب ……… وسیلہ فاطمہ زہرا کا کر لطف وکرم مولیٰ
آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1041