Main Icon

باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1039

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ اٰتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودَنِ الَّذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

عن جابر رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:من قال حين يسمع النداء: اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة ات محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودن الذي وعدته حلت له شفاعتي يوم القيامة.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جس شخص نے اذان سن کر یہ کہا:اےاﷲ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب ! تو محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اُس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے اُن سے وعدہ فرمایا ہے۔ تَو قیامت کے دن اُس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی۔“

شرح حدیث

قبولیت کے دووقت:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:امام مہلبرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ اس حدیث میں نماز کے اوقات میں دعا کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے کیونکہ ان اوقات میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ دو وقت ایسے ہیں کہ ان میں دعا رَد نہیں ہوتی:(1) اذان کے وقت (2) راہِ خدا میں جہاد کی صف باندھنے کے وقت۔نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دعا کی قبولیت کے اوقات کی طرف راہنمائی فرمائی اور یہ کہ ان اوقات میں دعا مانگی جائے۔ جس نے نبیصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے وسیلہ اور مقامِ محمود کی دعا کی تو در حقیقت اُس نے اپنے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے دعا کی۔
¥اذان کوتام(کامل)کہنے کی وجوہات:
اس دعا میں اذان کو”اَلدَّعْوَةُ التَّامَّةِ‘‘(دعوت کامل) فرمایا گیا کیونکہ اذاناﷲ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اخلاص کی گواہی اور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نبوت پر ایمان لانے پر مشتمل ہے اور ان دو چیزوں (یعنیاﷲکی وحدانیت اور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت پر ایمان) سے بندہ کامل طور پر اسلام میں داخل ہوجاتا ہےاس لئے اسے دعوتِ کامل فرمایا۔( )عمدۃُالقاری میں ہے:دعوت سے مراد اذان کے وہ الفاظ ہیں جس کے ذریعے کسی شخص کواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کی طرف بلایا جاتا ہےاور دعوت سے مراد توحید کی دعوت بھی ہوسکتی ہے۔اذان کو تام اس لیے کہا گیا کیونکہ اس میں نہ تو کوئی تغیر ہوگا نہ کوئی تبدیلی بلکہ یہ قیامت تک اسی طرح باقی رہے گی۔ ایک قول یہ ہے کہ اسے تام اس لیے کہا گیا کیونکہ یہ وصفِ کمال کی مستحق ہے۔ علامہ ابن تینرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہکہتے ہیں: اذان کو تام اس لیے کہا کیونکہ اس میں کامل بات ہے اور وہ کامل بات ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ“ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ تام سے مراد کامل ہونا ہے اور اذان کا کمال یہ ہے کہ اس میں کبھی کوئی نَقص یا عیب داخل نہیں ہوگا جس طرح لوگوں کے کلام میں نقص آجاتا ہے۔اَلصَّلاَةُ القَائِمَةِ(قائم ہونے والی نماز) سے مراد ہمیشہ رہنے والی نماز ہے کیونکہ اس نماز کو کوئی ملت یا شریعت تبدیل یا منسوخ نہیں کرسکتی اور جب تک یہ زمین و آسمان رہیں گے تب تک یہ نماز قائم رہے گی۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمقامِ محمود اور مقامِ وسیلہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”خیال رہے کہ جنت میں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے خاص مقام کا نام”وسیلہ“ہے اورقیامت میں حضورکے مقام کانام”مقامِ محمود“ہے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمدولہا بنائے جائیں گے،سارے اولین و آخرین،کفار و مؤمنین،انبیا و مرسلین،بلکہ خود ربُّ العالمین حضور کی ایسی تعریفیں کریں گے جو آج ہمارے خیال و وہم سے وراءہیں،وہ مقام نہ معلوم کیسا عظیم الشان ہے جس کا رب نے قرآن شریف میں اعلان فرمایا اورہم لوگوں کو ہراذان کے بعد اس کی دعا مانگنے کا حکم دیا گیا،اسی مقام پرحضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّم”شفاعت کبریٰ“ فرمائیں گے اوریہیں سے حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے ہاتھ پر”دروازۂ شفاعت“کھلے گا۔“شفاعت حلال ہونے سے مراد:حدیثِ پاک میں ہے:” تَو قیامت کے دن اُس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی۔“ حلال ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شفاعت کا مستحق ہوگیا۔طحاوی شریف کی روایت میںحَلَّتْ لَهُکی جگہوَجَبَتْ لَہُہےیعنی”اُس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔“یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے شفاعت تو گناہ گاروں کے لئے ثابت ہے پھر نیک لوگوں کو شفاعت ملنے کا کیا مطلب ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ شفاعت کی بہت سی قسمیں ہیں مثلاً بعض لوگوں کو بغیر حساب کے جنت میں داخل کرانا اور کسی کے درجات بلند کرانا وغیرہ اور ہر شخص کو اس کے حال کے مطابق شفاعت ملے گی۔مدنی گلدستہ’’وسیلہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حدیث میں مذکور اذان کے بعدکی دعا پڑھنے والا نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے بہرہ مند ہوگا۔
(2) اذان کے وقت اور راہِ خدا میں جہاد کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔
(3) حضور
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے مقامِ وسیلہ کی دعا گویا کہ اپنے لیے اور تمام اُمَّتِ مُسْلِمَہ کے لیے دعا کرنا ہے۔
(4) اذان میں کوئی تغیر و تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ یہ قیامت تک اسی طرح قائم رہے گی۔
(5) جنت میں حضور
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خاص مقام کا نام”وسیلہ“ہے اورقیامت میں حضورکے مقام کانام ”مقامِ محمود“ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اذان کے بعد کی دعاپڑھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں قیامت کے دن نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1039