- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
باب:اذان کی فضیلت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اگرلوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اذان کہنے اور پہلی صف میں نماز پڑھنے کا کتنا ثواب ہے پھر وہ قرعہ اندازی کئے بغیر اسے حاصل نہ کرسکتے تو ضرور قرعہ اندازی ہی کرتے اور اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ (نماز کے لئے) جلدی آنے میں کتنا ثواب ہے تواس کے لیے دوڑ کر آتے اور اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ عِشا اور صبح کی نماز میں کتنا ثواب ہے تو ضرور حاضر ہوتے چاہے گِھسَٹتے ہوئے ہی آنا پڑے۔“
عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْاَ وَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوْا اِلَّا اَنْ يَسْتَھِمُوْا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوْا عَلَیْہِ، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي التَّهْجِيْرِ لَاسْتَبَقُوْا اِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَاَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1033 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا امیرمعاویہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا :”اذان دینے والے قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ لمبی گردن والے ہوں گے۔ “
عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ :سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:الْمُؤَذِّنُونَ اَطْوَلُ النَّاسِ اَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1034 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرت عبداﷲبن عبد الرحمٰن بن ابو صعصعہرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ اُنہیں حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا:میں نے تمہیں دیکھا ہے کہ تم بکریوں اور جنگل کو پسند کرتے ہو لہٰذا جب تم اپنی بکریوں کے پاس ہو یا جنگل میں ہو اور نماز کے لئے اذان کہو تو اپنی آواز کو بلند کرکے اذان دینا کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان یا کوئی اور شے اذان سنے گی وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔حضرت ابو سعید خُدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات رسول اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے۔
عَنْ عَبْدِ اﷲ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ صَعْصَعَةَ اَنَّ اَبَا سَعِيْدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ: اِنِّي اَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَاِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ اَوْ بَادِيَـتِكَ فَاَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ فَاِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ اِنْسٌ وَلاَ شَيْءٌ اِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ اَبُو سَعِيْدٍ:سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1035 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیرکر بھاگتا ہے یہاں تک کہ اسے اذان کی آواز نہیں آتی اور جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو پھر بھاگ جاتا ہے۔پھر جب اقامت ختم ہوجاتی ہے تو پھر لوٹ آتا ہےاور بندے کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے اوراس کی بھولی ہوئی باتوں کے بارے میں کہتا ہے :فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر حتّٰی کہ آدمی کویاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی پڑھی۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِذَا نُودِيَ بِالصَّلاَةِ اَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتّٰى لَا يَسْمَعَ التَّاْذِيْنَ فَاِذَا قُضِىَ النِّدَاءُ اَقْبَلَ حَتّٰى اِذَا ثُوِّبَ لِلصَّلَاةِ اَدْبَرَ حَتّٰى اِذَا قُضِىَ التَّثْوِيْبُ اَقْبَلَ حَتّٰى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ يَقُولُ:اُذْكُرْ كَذَا وَاذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَذْكُرْ مِنْ قَبْلُ حَتّٰى يَظَلَّ الرَّجُلُ مَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1036 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا عبداﷲبن عَمرو بن عاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے انہوں نے نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سنا : ”جب تم مؤذن کی آواز سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جس نے مجھ پر ایک بار درود پڑھااﷲ عَزَّ وَجَلَّاُس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر میرے لیےاﷲ عَزَّ وَجَلَّسے مقامِ وسیلہ کا سوال کرو بے شک وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے ۔یہ مقاماﷲکے بندوں میں سے ایک ہی بندے کو ملے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں لہٰذا جس نے میرے لیے مقامِ وسیلہ کا سوال کیا اس کے لیے (میری) شفاعت حلال ہوگئی۔“
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّهُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: اِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا يَقُولُ ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ فَاِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى الله عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا ثُمَّ سَلُوا اللهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَاِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي اِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللهِ وَاَرْجُوْ اَنْ اَكُوْنَ اَنَا هُوَ فَمَنْ سَاَلَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1037 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :”جب تم اذان کی آواز سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے۔“
عَنْ اَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوْا مِثْلَ مَا يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1038 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”جس شخص نے اذان سن کر یہ کہا:اےاﷲ! اس دعوتِ کامل اور قائم ہونے والی نماز کے رب ! تو محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اُس مقامِ محمود پر فائز فرما جس کا تو نے اُن سے وعدہ فرمایا ہے۔ تَو قیامت کے دن اُس کے لیے میری شفاعت حلال ہوگئی۔“
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ القَائِمَةِ اٰتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودَنِ الَّذِي وَعَدْتَهُ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1039 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جس نے مؤذن کی آواز سُن کر یہ کہا: ”اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًایعنی میں گواہی دیتا ہوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور محمد (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اُس کے بندے اور رسول ہیں اور میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے ربّ ہونے، محمد(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے رسول ہونے اور اسلام کے دِین ہونے پر راضی ہوں۔“ تو اُس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔
عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ:مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُه.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1040 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اذان اور اقامت کے درمیان دُعا رَد نہیں ہوتی۔“
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الدُّعَاءُ لَا يُرَدُّ بَيْنَ الْاَذَانِ وَالْاِقَامَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1041 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا جریر بن عبداﷲبَجلیرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:ہم نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر تھے۔آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے چودھویں کےچاند کی طرف دیکھ کر ہم سے فرمایا:”تم یقیناًاپنے ربّ تعالیٰ کادیدارکرو گےجس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہوکہ اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت نہیں ہورہی ۔اگر تم سےہوسکے تو طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب سے قبل کی نماز میں ہر گز مغلوب نہ ہونا(یعنی فجر و عصر کی نمازہر گز ترک نہ کرنا)۔
عَنْ جَرِيْرٍ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:كُنَّا عِنْدَالنَّبِيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ اِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِفَقَالَ:اِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُوْنَ في رُؤْیَتِهِ فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ لَّا تُغْلَبُوْا عَلٰی صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا فَافْعَلُوا.وَفِيْ رِوَايَةٍ: فَنَظَرَ اِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ اَرْبَعَ عَشْرَةَ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1051 ، باب:اذان کی فضیلت کا بیان