Main Icon

باب:اذان کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1040

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ:مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا غُفِرَ لَهُ ذَنْبُه.

عن سعد بن ابي وقاص رضي الله عنه عن النبی صلى الله عليه وسلم انه قال:من قال حين يسمع المؤذن اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له وان محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا غفر له ذنبه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جس نے مؤذن کی آواز سُن کر یہ کہا: ”اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًایعنی میں گواہی دیتا ہوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور محمد (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اُس کے بندے اور رسول ہیں اور میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے ربّ ہونے، محمد(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے رسول ہونے اور اسلام کے دِین ہونے پر راضی ہوں۔“ تو اُس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔

شرح حدیث

مرآۃ المناجیح میں ہے:”ظاہریہ ہے کہ دعا اذان کے اَوَّل پڑھی جائے گی،جب مؤذن کی اذان کی آواز کان میں آئے کیونکہ درمیان میں یہ دعا پڑھنے سے جواب اذان میں خلل واقع ہوگا۔“شیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہ احتمال بھی ہےکہ مذکورہ کلمات اذان کی پہلی اور دوسری شہادت کے وقت یا اذان کے بعد کہےجائیں۔“بخشش کا وظیفہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیثِ پاک میں اذان کے بعد ان کلمات کے پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہےاور ان کلمات کی یہ فضیلت ہی کافی ہے کہ یہ گناہوں کی بخشش کا وظیفہ ہیں۔ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”یہاں گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جیساکہ احناف کا مذہب ہے۔“ہمیں چاہیے کہ اذان کا جواب دینے کے ساتھ مذکورہ کلمات بھی پڑھیں۔مدنی گلدستہ’’سنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) جس نے مؤذن کی آواز سُن کر یہ کہا: ”
اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًایعنی میں گواہی دیتا ہوں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اور محمد (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اُس کے بندے اور رسول ہیں اور میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے ربّ ہونے، محمد(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے رسول ہونے اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں۔“تو اُس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔
(2) مذکورہ حدیثِ پاک میں بیان کیے گئے کلمات اذان کےشروع میں پڑھنے چاہییں نیز یہ کلمات اذان کی پہلی اور دوسری شہادت کے وقت یا اذان کے بعد بھی پڑھےجاسکتے ہیں۔
(3) ہمیں چاہیے کہ حدیث میں بتائے گئے کلمات کو یاد کریں اور اذان کا جواب دینے کے ساتھ ان کلمات کو پڑھنے کا معمول بنائیں تاکہ ان کے ذریعے ہمارے گناہ بخش دئیے جائیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں اذان کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اذان کے بعد ہمیں ان کلمات کو پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمارے گناہوں کی بخشش کا سامان ہو۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1040