Main Icon

باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 838

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:لَمْ يَبْقَ مِنَ النُبُوَّةِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا:وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟قال:اَلرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:لم يبق من النبوة الا المبشرات قالوا:وما المبشرات؟قال:الرؤيا الصالحة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”نبوت سے صِرفمُبَشِّرَاترہ گئی ہیں۔“صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مُبَشِّرَاتکیا ہیں؟فرمایا:”اچھے خواب۔ “

شرح حدیث

نبوت کا ایک حصہ :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مومن کے اچھے خواب کی بہت اہمیت ہے جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیاکہ نبوت سے صرف مبشرات رہ گئی ہیں اورمبشرات اچھے خواب ہیں۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’ یعنی ہماری وفات پر وحی نبوت تا قیامت ختم ہوجائے گی مگر نبوت کا ایک حصہ یعنی ڈرانا اور بشارت باقی رہے گا۔ربّتعالیٰ خوابوں کے ذریعہ علومِ غیبیہ اگلے حالات پر اطلاع برابر جاری رکھے گا خوابیں غیبی خبریں دیتی رہیں گی،خوابیں بشارت بھی ہوتی ہیں ڈراتی بھی ہیں مگر تغلیبًا بشارت فرمایا۔صالحہ سے مراد یا سچی خوابیں یا اچھی خوشی کی خوابیں عمومًا خوشی کی خواب کو رؤیا کہتے ہیں اورڈراؤنی خواب کو حُلم مگر یہاں رؤیا سے عام خواب مراد ہے اچھی ہو یا ڈراؤنی۔خیال رہے کہ رؤیا بمعنیٰ خواب آتا ہے مگر جب اس کے بعد رؤیت کا کوئی مشتق آجاوے تو بیداری میں دیکھنے کے بھی معنیٰ دیتا ہے،ربّ فرماتاہے:وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ(پ۱۵،بنی اسرائیل:۶۰)ترجمہ ٔکنز الایمان:اور ہم نے نہ کیا وہ دکھاوا جو تمہیں دکھایا تھا مگر لوگوں کی آزمائش کو۔
حضورِ اَنور نے معراج کی شب سارے عالَمِ غیب کو اپنی آنکھوں سے بیداری میں دیکھا مگر اسے رب نے رؤیا فرمایا،چونکہ آگے آرہا ہے
اَرَیْنٰكَاس لیے وہاں آنکھ سے بیداری میں دیکھنا مراد ہوا۔معراجِ جسمانی کے منکر اسی لفظِ رؤیا سے جسمانی معراج کا انکار کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 838