Main Icon

باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 839

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا اقْتَربَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِّنْ سِتَّةٍ وَّاَرْبَعيَنَ جُزْءًا مِّنَ النُّبُوَّةِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ:اَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا اَصْدَقُكُمْ حَدِيْثًا.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:اذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المؤمن تكذب ورؤيا المؤمن جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة. وفي رواية:اصدقكم رؤيا اصدقكم حديثا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب زمانہ قریب آ جائے گا تو مؤمن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا اور مؤمن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔“اورایک روایت میں ہے:”تم میں سے سب سے سچے خواب والے وہ لوگ ہیں جن کی باتیں سب سے زیادہ سچی ہیں ۔“

شرح حدیث

قُربِ زَمان کے اِحتمالات:حدیث پاک میں جو یہ فرمایا گیا کہ ”جب زمانہ قریب آ جائے گا تو مؤمن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا۔“یہاں قُربِ زمان سے کیا مُراد ہے اِس میں کئی اِحتمالات ہیں: (1)قریبِ قیامت۔ایک حدیث پاک میں یہ صراحت ہے کہ ”آخری زمانہ میں قریب نہیں مؤمن کا خواب جھوٹا ہو۔“(2)موت کے قریب کا زمانہ یعنی بڑھاپا (3) وہ وقت جن میں دِن رات برابر ہوتے ہیں کیونکہ ایسے وقت میں اِنسانی مِزاج بہت صحیح اور معتدل ہوتا ہےلہٰذا خوا ب زیادہ درست اور خلل سے زیادہ دور ہوگا۔(4)حضرت امام مہدیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے ظہور کا زمانہ جبکہ لوگوں میں عیش وعشرت بہت ہوگا۔سال گزرے گا مہینہ کی طرح،مہینہ ہفتہ کی طرح، ہفتہ ایک دن کی طرح ۔(5)وہ زمانہ جب لوگوں کی عُمریں گھٹ جائیں گی یا شروفساد کا زمانہ جب لوگ ایک دوسرے سے گتھ جائیں،قتل و خون کے لیے قریب ہوں گے۔اس کے اور بہت سے معنیٰ کیے گئے ہیں مثلاً یاجوج ماجوج کے خروج کا زمانہ۔علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیپہلے اِعتماد کو ترجیح دیتے ہیں اور امام جلال الدین سیوطیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیبھی اس کی تائید کرتے ہیں بلکہ اسےہی صواب(دُرست)قرار دیتے ہیں۔’’نبوت کا چھیالیسواں حصہ‘‘ کی وضاحت:عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّیْن اَحْمَد بِنْ مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”مؤمن کا سچا خواب نبوت کےچھیالیس اَجزاء میں سے ایک جز و ہے۔ یہ اِطلاق مجازی ہے، اِس سے مراد حقیقت نہیں کیونکہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کے بعد نبوت منقطع ہو گئی اور نبوت کا جزو نبوت نہیں ہوتا جیسا کہ نماز کا جزو نماز نہیں ہوتا (مثلاً قرآن کی تلاوت نماز کا جزوہے مگر قرآن کی تلاوت نماز نہیں ہے،اسی طرح سچا خواب نبوت کا جزوہے مگر سچا خواب دیکھنے والا نبی کا جزونہیں ۔)ہاں اگر نبی سچا خواب دیکھے تو وہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزوہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر نبی کے علاوہ کوئی اور شخص نیک خواب دیکھے تو وہ علمِ نبوت کا ایک حصہ ہے کیونکہ اگرچہ نبوت منقطع ہو چکی ہے لیکن اس کا علم باقی ہے۔امام مالکرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا گیا:کیا ہر کوئی خواب کی تعبیر بتا سکتا ہے؟فرمایا:”کیا نبوت کے ساتھ کھیلنا چاہتے ہو؟“پھر ارشاد فرمایا: ”خواب نبوت کا جزو ہے لہٰذا اس کے ساتھ نہ کھیلو۔“مراد یہ ہے کہ خواب امرغیب سے ہونے کی وجہ سے نبوت کے مشابہ ہے تو یہ مناسب نہیں کہ بغیر عِلم کے اس کی تعبیر بیان کی جائے۔
علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”(امام)کرمانی نے کہا:یہ نبیوں کے حق میں ہے دوسرے لوگوں کا خواب نبوت کا کوئی حصہ نہیں کیونکہ نبیوں کا خواب وحی ہوتا ہے ۔ان پر بیداری کی طرح خواب میں بھی وحی نازل ہوتی ہے ۔بعض نے کہا :خواب نبوت کے موافق آتا ہے یہ نہیں کہ یہ نبوت کا جزء ہے جو باقی رہ گیا ہے۔زُجاج نے کہا:اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَاممستقبل میں ہونے والے اُمور کی خبر دیتے ہیں اور خواب میں ہونے والی شے اس پر دلالت کرتی ہے۔خطابی نے اس کی تاویل میں نقل کیا کہ وحی کی ابتدا سے سیدِ عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات تک 23سال مدت ہے ان میں سے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں وحی نازل ہوتی رہی اور مکہ مکرمہ میں ابتدائی امر میں چھ ماہ تک خواب میں وحی نازل ہوتی رہی۔یہ نصف سال ہےاس طرح23سالوں کے نصف46ہوئے(یعنی 23 سالوں کے نصف سال کے اعتبار سے کل 46 حصے بنتے ہیں اور حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو ابتداءً چھ ماہ خواب کے ذریعے وحی کی گئی اس لحاظ سے یہ چھ ماہ یعنی نصف سال کل مدتِ وحی یعنی 23 سال کا چھیالیسواں حصہ بنا)تو خواب چھیالیسواں حصہ اِس اعتبار سے ہے۔ “
مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ 616 صفحات پرمشتمل کتاب ’’نیکی کی دعوت‘‘صفحہ 384 پر شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولاناابو بلال محمد الیاس عطاؔرقادری رضوی ضیائی
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہخواب سے حاصل ہونے والے علم کے بارے میں فرماتے ہیں:کیا خواب سے یقینی علم حاصِل ہو جاتا ہے؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اچھے خواب بے شک اچّھے ہوتے ہیں۔یاد رکھئے ! نبی کا خواب وَحی پر مشتمل ہوتا ہے جب کہ غیرِ نبی کے خواب کی یہ حیثیت نہیں اور اس کا خواب حُجَّت یعنی دلیل نہیں ہوتا۔مَثَلًا آپ نے خواب میں بارگاہِ رِسالت سے یہ بِشارت سُنی ہے کہ’’آپ جنّتی ہیں۔‘‘اِس سے قطعی جنّتی ہونامُراد نہیں لیا جائے گا کیوں کہ مُعامَلہ خواب کا ہے۔بے شکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جس نے خواب میں دیکھااُس نے حق دیکھا کہ شیطان آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی صورتِ مبارَکہ میں نہیں آ سکتا۔جو بات ارشاد فرمائی وہ بھی حق حق اور حق کے سوا کچھ نہیں۔تاہم خواب میں چُونکہ حواسمُضمَحِل(یعنی کمزور) ہوتے ہیں اِس لئے یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو کچھ فرمایا گیا وہ خواب دیکھنے والے نے حَرف بہ حَرف دُرُست سنا،سننے اور سمجھنے میں غلَط فَہمی کا ہر اِمکان موجود ہے،لہٰذا خواب میں دیئے ہوئے حکم پر عمل کرنے سے پہلے حکمِ شریعت کو دیکھنا ہوگا۔اگر خواب والی بات شریعت سے نہیں ٹکراتی تو بے شک اُس پر عمل کیاجا سکتا ہے تاہم خواب میں ملے ہوئے حکم پر عمل کرنا شرعًا واجِب نہیں اور اگر وہ بات ہی خلافِ شرع ہے تو عمل نہیں کیا جائے گا۔اِس بات کو اِس مثال سے سمجھئے :
میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، ولیٔ نِعمت،عظیمُ البَرَکت،عظیمُ المَرْتَبت،پروانۂِ شَمعِ رِسالت، مُجَدِّدِدِین ومِلَّت،حامیِٔ سنّت،ماحِیِٔ بِدعت،عالِمِ شَرِیْعَت،پیرِطریقت،باعثِ خَیْروبَرَکت،حضرتِ علّامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں:ایک شخص نے خواب دیکھا کہ جنابِ رسالتِ مَآبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم(مَعَاذَ اللّٰہ)اسے شراب نوشی کا حکم دے رہے ہیں۔سیِّدُنا امام جعفرِصادِقرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں معامَلہ پیش کیا گیا۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تجھے شراب پینے سے روکا ہے،تیرے سُننے میں اُلٹا آیا۔‘‘اور یہ بھی یاد رکھا جائے کہ اس مُعامَلے میں فاسِق ومُتّقی برابر ہیں۔چُنانچِہ نہ تومُتّقی کاخواب میں کسی حکم کا سننا،اس حکم کے صحیح ہونے کی دلیل ہے اور نہ ہی فاسق کا بیان یقینی طور پر جُھوٹا۔مدنی گلدستہ’’سچے خواب‘‘کے7حروف کی نسبت سے اَحادیث مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) نبی پاک
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفاتِ ظاہری کے بعدسے وحیِ نبوت ختم ہوچکی ہے مگر نبوت کا ایک حصہ سچی خوابوں کی صورت میں اب بھی باقی ہے۔
(2) رسولِ اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے معراج کی شب سارے عالَمِ غیب کو اپنی آنکھوں سے بیداری کی حالت میں دیکھا۔
(3) نبوت کا جزو نبوت نہیں ہوتا جیسا کہ تلاوتِ قرآن نماز کا جزوہے لیکن نماز نہیں ۔
(4) نبی سچا خواب دیکھے تو وہ نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزوہے اور اگر نبی کے علاوہ کوئی اورشخص نیک خواب دیکھے تو وہ علمِ نبوت کا ایک حصہ ہے۔
(5) وحی کی ابتدا سے سیدِ عالَم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات تک 23سال مدت ہے اِن میں سے تیرہ سال مکہ مکرمہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں وحی نازل ہوتی رہی۔
(6) غیر نبی کا خواب حجت نہیں اور نہ ہی اُس سے یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔
(7) غیر نبی کے لئے خواب میں ملنے والے حکم پر عمل کرنا شرعًا واجِب نہیں اور اگر وہ بات ہی خلافِ شرع ہے تو عمل نہیں کیا جائے گا۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اچھے اور سچے خواب دکھائے اور بُرے خوابوں سے بچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 839