- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”نبوت سے صِرفمُبَشِّرَاترہ گئی ہیں۔“صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مُبَشِّرَاتکیا ہیں؟فرمایا:”اچھے خواب۔ “
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:لَمْ يَبْقَ مِنَ النُبُوَّةِ اِلَّا الْمُبَشِّرَاتُ قَالُوْا:وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ؟قال:اَلرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 838 ، باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جب زمانہ قریب آ جائے گا تو مؤمن کا خواب جھوٹا نہ ہوگا اور مؤمن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔“اورایک روایت میں ہے:”تم میں سے سب سے سچے خواب والے وہ لوگ ہیں جن کی باتیں سب سے زیادہ سچی ہیں ۔“
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا اقْتَربَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِّنْ سِتَّةٍ وَّاَرْبَعيَنَ جُزْءًا مِّنَ النُّبُوَّةِ. وَفِيْ رِوَايَةٍ:اَصْدَقُكُمْ رُؤْيَا اَصْدَقُكُمْ حَدِيْثًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 839 ، باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جس نے مجھے خواب میں دیکھا عنقریب وہ مجھے بیداری میں بھی دیکھےگا۔“یا فرمایا:” گو یا اس نے مجھے بیداری کی حالت میں دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا ۔“
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ رَاٰنِيْ فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانيِْ فِي الْيَقَظَةِ اَوْ كَاَنَّمَا رَاٰنِيْ فِي الْيَقَظَةِلَايَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِیْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 840 ، باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
حضرت سَیِّدُناابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے رحمتِ عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا :”تم میں سے جب کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو یہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ہے لہٰذا اس پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی تعریف بیان کرے اور اسے(دوسروں کے سامنے) بیان کرے ۔“ایک روایت میں ہےکہ ”اس اچھے خواب کو صرف اپنے پسندیدہ شخص کے سامنے بیان کرے اور جب نا پسندیدہ خواب دیکھے تو یہ شیطان کی طرف سے ہےاس کے شر سے پناہ مانگےاور کسی کے سامنے بیان نہ کرے تو وہ خواب اسے نقصان نہ دے گا۔“
عَنْ اَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْلُ:اِذَا رَاٰى اَحَدُكُمْ رُؤْيَا يُحِبُّهَا فَاِنَّمَا هِيَ مِنَ اللهِ تَعَالٰى فَلْيَحْمَدِ اللهَ عَلَيْهَاوَلْيُحَدِّثْ بِهَا.وَفِيْ رِوَايَةٍ:فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا اِلَّا مَنْ يُّحِبُّ وَاِذَا رَاٰى غَيَرَ ذٰلِكَ مِمَّا يَكْرَهُ فَاِنَّمَا هيَ مِنَ الشَّيْطَانِ فَليَسْتَعِذْ مِنْ شَرِّهَا وَلَا يَذْكُرْهَا لِاَحَدٍ فَاِنَّهَا لَا تَضُّرُّہُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 841 ، باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
حضرت سَیِّدُنَاابو قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”نیک خواب“اور ایک روایت میں ہے:”اچھا خواباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ہے اور بُراخواب شیطان کی طرف سےہے۔ جو شخص بُرا خواب دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین بارتُھوتُھوکرے اور شیطان سے پناہ طلب کرے ،یہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ۔
عَنْ اَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ النَّبِيُّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اَلرُّؤيَا الصَّالَحِةُ.وَفِي رِوَايَةٍ الرُّؤيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللهِ وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَمَنْ رَاٰى شَيْئًا يَكْرَ هُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ شِمَالِهِ ثَلاَثًاوَلْيَتَعَوَّذْ مِنَ الشَّيْطَانِ فَاِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 842 ، باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی شخص نا پسندیدہ خواب دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین بارتُھوتُھوکرےاور تین بارشیطان سے پناہ مانگےاورجس کروٹ پر ہو اسےبدل دے۔‘‘
عَنْ جَابِر ٍرَضِيِ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا رَاٰى اَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًاوَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًاوَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِيْ كَانَ عَلَيْهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 843 ، باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
حضرت سَیِّدُنا واثلہ بن اَسقعرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے یا آنکھوں کو وہ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے )یا رسولِ خداصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اُنہوں نے نہیں فرمائی ۔ “
عَنْ اَبِي الْاَسْقَعِ وَاثِلَةَ بْنِ الْاَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِنَّ مِنْ اَعْظَمِ الْفَرَى اَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ اِلَى غَيْرِ اَبِيْهِ اَوْ يُرِيَ عَيْنَهُ مَالَمْ تَرَ اَوْ يَقُوْلَ عَلَى رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَا لَمْ يَقُلْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 844 ، باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان