Main Icon

باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 843

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِر ٍرَضِيِ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِذَا رَاٰى اَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًاوَلْيَسْتَعِذْ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًاوَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِيْ كَانَ عَلَيْهِ.

عن جابر رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:اذا راى احدكم الرؤيا يكرهها فليبصق عن يساره ثلاثاوليستعذ بالله من الشيطان ثلاثاوليتحول عن جنبه الذي كان عليه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی شخص نا پسندیدہ خواب دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین بارتُھوتُھوکرےاور تین بارشیطان سے پناہ مانگےاورجس کروٹ پر ہو اسےبدل دے۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ تینوں اَحادیث مبارکہ میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اچھا خواباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ہے اور بُرا خواب شیطان کی طرف سے لہٰذا جب بھی کوئی اچھا خواب دیکھے تو اس پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمدبیان کر ے اور اچھے خواب کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ اچھا خواب دوسروں کے سامنے بیان کرنے کی ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی ترغیب فرمائی لیکن یہ خواب اپنے پسندیدہ لوگوں کے سامنے بیان کرے ۔اچھا خواب کس سے بیان کرے؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”اچھا خواب صرف اسی سے بیان کرے جسے پسند کرتا ہو کیونکہ کسی ناپسند شخص سے بیان کرے گا تو اس کے ساتھ بغض یا حسد کے سبب بُری تعبیر کردے گایوں اُسی طرح خواب واقع ہوجائے گا جو اس کو نقصان وضَرَر دے گالیکن اگر محب سے بیان کرے گا تو وہ اس کی اچھی تعبیر کرے گا ۔ جو شخص پہلے تعبیر بیان کرتا ہے خواب اسی طرح واقع ہوتا ہے۔سیدِعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”خواب پہلے تعبیر کرنے والے کے مطابق ہوتا ہے۔“حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :خواب عالم سے یا اس سے بیان کرے جو اس کاخیرخواہ ہو۔“ بُرے خواب کے متعلق فرمایا گیا کہ’’بُراخواب شیطان کی طرف سےہے،جوشخص بُرا خواب دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تُھوتُھوکرےاورشیطان سے پناہ طلب کرے،یہ خواب اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔‘‘مرآۃ المناجیح میں ہے:”یہ عمل بہت مُجَرَّب(تجربہ شدہ)ہے کیسی ہی خطرناک خواب دیکھو یہ عمل کرلواِنْ شَآءَ اللّٰہاس کا ظہور کبھی نہ ہوگا، اچھی خواباللّٰہکی نعمت ہے اس کا چرچہ کرو( کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشاد فرماتا ہے :)﴿وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) ﴾(پ۳۰،الضحی:۱۱)(ترجمہ ٔکنز الایمان:اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔)اور بُری خواب بَلا(یعنی مصیبت) و امتحان ہے اس پر صبرکرو، کسی سے نہ کہو، رب سے عرض کرواِنْ شَآءَ اللّٰہدفع ہو جائے گی۔چونکہ حضور کے خطرناک خواب بھی رب کی طرف سے ہوتے تھے اس لیے حضور (صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) لوگوں سے ان کا ذِکر فرمادیتے پھر ان کا ظہور بھی ہوتا تھا جیسے حضور نے خواب میں تلوار ٹوٹتی دیکھی اس کا ظہور غزوۂ اُحُد کی تکالیف کی شکل میں نمودار ہوا، ہاتھوں پر بھاری کنگن دیکھے ان کا ظہور مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی سے ہوا لہٰذا حضورِانورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا یہ فرمان حضور کے اس عمل شریف کے خلاف نہیں۔ڈراؤنے خواب کے ضَرر سے بچنے کا طریقہ:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:یہ تینوں عمل(یعنی تین بار اپنی بائیں جانب تھوکنا ،تین بار شیطان سے پناہ مانگنا اور کروٹ بدلنا )شیطان کو ذلیل کرنے اور اپنے حال کو بدلنے کے لیے ہے،شیطان اکثر بائیں ہاتھ پر رہتا ہے ادھرتھوکنا گویا شیطان کے منہ پر تھوکنا ہے،یہ عمل بھی مجرب ہے،بُرے خواب میں یہ دیکھ کر یہ کرنا چاہیے اس سے خواب ختم ہوجاتا ہے۔عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:”ڈراؤنے خواب کے ضَرر سے بچنے کے چار طریقے ہیں :پہلا یہ کہ اس خواب کے شر سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ طلب کرے،دوسرا یہ کہ شیطان کے شر سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ طلب کرے اور تیسرا یہ کہ جب ڈر کر بیدار ہوتو بائیں جانب تین مرتبہ تھوکےاور چوتھا یہ کہ اس ڈراؤنے خواب کا ذکر کسی سے نہ کرے۔‘‘مدنی گلدستہ’’اِسلام‘‘کے5حروف کی نسبت سےاَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) نیک اور اچھے خواب
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے ہوتےہیں،ان پراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حمد بیان کرنی چاہیے ۔
(2) جب کوئی اچھا خواب دیکھے تو اسے کسی کے سامنے بیان ضرور کرے تاکہ اس کا ظہور ہوجائے مگر بیان ایسے کے سامنے کرے جو اس کا دوست و خیرخواہ اور عالِم ہو تاکہ وہ اچھی تعبیر دے کیونکہ خواب کی پہلی تعبیر پر ہی خواب کا ظہور ہوتا ہے۔
(3) بُرا خواب شیطان کی طرف سے ہے،اس کا ذکر کسی سے نہ کرے۔
(4) ڈراؤنے خواب کے ضرر سے بچنے کے لیے چار عمل ہیں:(1)اس خواب کے شر سے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ طلب کرے۔(2)شیطان کے شر سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگے۔(3)ڈر کر بیدار ہو تو اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تُھوتُھوکرے۔(4)اس ڈراؤنے خواب کا ذکر کسی سے نہ کرے۔(5) شیطان اکثر بائیں ہاتھ پر رہتا ہے ادھرتھوکنا گویا شیطان کے منہ پر تُھوکنا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں بُرے اور شیطانی خوابوں سے محفوظ فرمائے اور اچھے خواب دکھائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 843