Main Icon

باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 844

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الْاَسْقَعِ وَاثِلَةَ بْنِ الْاَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِنَّ مِنْ اَعْظَمِ الْفَرَى اَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ اِلَى غَيْرِ اَبِيْهِ اَوْ يُرِيَ عَيْنَهُ مَالَمْ تَرَ اَوْ يَقُوْلَ عَلَى رَسُوْلِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَا لَمْ يَقُلْ.

عن ابي الاسقع واثلة بن الاسقع رضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:ان من اعظم الفرى ان يدعي الرجل الى غير ابيه او يري عينه مالم تر او يقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا واثلہ بن اَسقعرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف خود کو منسوب کرے یا آنکھوں کو وہ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے )یا رسولِ خداصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ایسی بات منسوب کرے جو اُنہوں نے نہیں فرمائی ۔ “

شرح حدیث

تین باتوں کی مذمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں تین باتوں کی مذمت بیان کی گئی ہےاور فرمایا گیا کہ یہ سب سے بڑے جھوٹ ہیں،وہ تین سب سے بڑے جھوٹ یہ ہیں:(1)آدمی اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرے۔دلیل الفالحین میں ہے:”آدمی کا اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنی نسبت کرنے کو سب سے بڑا جھوٹ اس لیے کہا گیا ہے(کہ ایسا شخصاللّٰہ عَزَّوَجَلَّپر بہتان باندھتا ہے ) گویا کہ وہ کہہ رہا ہے مجھےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے فلاں آدمی کے پانی سے پیدا کیا حالانکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اسے کسی اور کے پانی سے پیدا کیا۔ایسے شخص کے بارے میں ایک حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے کہ اس پر جنت حرام ہے چنانچہحضرت سیِّدُنا سعد بن ابی وقاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولِ اَکرمصلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:’’جس نے خود کو باپ کے علاوہ کی طرف منسوب کیاحالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اس کا باپ نہیں تو اس پر جنت حرام ہے۔‘‘(2)آنکھوں کو وہ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے )۔بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہردلعزیز بننے کے چکر میں یا کسی اور غرض ِ فاسد کے لئے جھوٹے خواب گھڑ کر سناتے ہیں۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں: یعنی وہ خواب کے بارے میں جھوٹ بولے اور کہے میں نے خواب میں یہ دیکھا جبکہ اس نے وہ نہیں دیکھا اور یہ بھی سب سے بڑا جھوٹ ہے کیونکہ خواب میں انسان جو دیکھتا ہے وہ سب فرشتہ اسے دکھاتا ہے اور یہ شخص فرشتے پر جھوٹ باندھ رہا ہے اور فرشتے پر جھوٹ باندھنااللّٰہ عَزَّوَجَلَّپر جھوٹ باندھنا ہے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدجھوٹے خواب سنانے والوں کی سزا:اپنی طرف سے جھوٹا خواب گھڑ کر لوگوں سے بیان کرنا حرام اور بہت بڑا گناہ ہے۔جھوٹے خواب گھڑ نے والوں کو بطورِ سزا جَو کے دو دانوں میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائے گی چنانچہ حضرت سَیِّدُنَاابنِ عباسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’جو جھوٹاخواب سنائے اسے جَو کے دودانوں میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائے گی اور وہ ہرگز گانٹھ نہیں لگا پائے گا۔‘‘
(3)نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف ایسی بات منسوب کرے جو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نہیں فرمائی ۔ ایسے شخص کے بارے میں ایک حدیث پاک میں فرمایا گیا ہےخاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:”مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی اور پر جھوٹ باندھنے جیسا نہیں، لہٰذا جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“بد ترین جھوٹ:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:”یہاں آنکھوں سے مراد خواب کی آنکھیں ہیں جن سے بندہ خواب میں سب کچھ دیکھتا ہے یعنی جھوٹی خواب گھڑ کر لوگوں کو سنائے،یہ جھوٹ دوسرے جھوٹوں سے بدتر اس لیے ہے کہ اس میں ربّ تعالیٰ پر اور نبوت کے چھیالیسویں جز پر جھوٹ باندھنا ہے۔‘‘جھوٹا خواب سنانے کا انجام:حضرت امام محمد بن سیرینرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہسے ایک آدَمی نے کہا:میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں پانی سے بھرا ہوا ایک شیشے کا پیالہ ہے، وہ پیالہ توٹوٹ گیا ہے ، مگر پانی جوں کا توں موجود ہے۔یہ سن کر آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈر، (اور جھوٹ نہ بول ) کیوں کہ تو نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا ۔ وہ آدَمی کہنے لگا :سُبْحَانَ اللّٰہ! میں ایک خواب سنا رہا ہوں اور آپ فرمارہے ہیں کہ تو نے کوئی خواب نہیں دیکھا ۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”بے شک یہ جھوٹ ہے اور میں اس جھوٹ کے نتیجے کا ذمہ دار نہیں ، اگر تو نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے تو تیری بیوی ایک بچہ جنے گی پھر مرجائے گی اور بچہ زندہ رہے گا۔ اس کے بعد وہ آدمی جب آپرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس سے چلا گیا تو پیچھے سے کہنے لگا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! میں نے تو ایسا کوئی خواب دیکھا ہی نہیں تھا۔یہ سن کر کسی نے کہا : لیکن امام محمد بن سیرینرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے خواب کی تعبیر بیان فرما دی ہے۔ یہ حکایت بیان کرنے والے بزرگ حضرت ہشامرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ جھوٹا خواب بیان کرنے والے جھوٹے آدمی کے ہاں ایک بچے کی ولادت ہوئی لیکن اس کی بیوی مر گئی اور بچہ زندہ رہا ۔مدنی گلدستہ’’غوث‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) خود کو باپ کے علاوہ کی طرف منسوب کرنا
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّپر بہتان باندھنا ہے اور ایسے شخص پر جنت حرام ہے۔
(2) جھوٹا خواب گھڑ کر لوگوں سے بیان کرنا حرام اور بہت بڑا گناہ ہے۔
(3) جھوٹا خواب گھڑ کر اس کی تعبیر نہ پوچھے کہ کہیں کوئی بُری تعبیر واقع نہ ہوجائے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں جھوٹا خواب بیان کرنے اور ہر طرح کے جھوٹ سے ہماری زبان کی حفاظت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 844