Main Icon

باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1189

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم قَالَ:مَنْ قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ اِيْمَانًا وَ اِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:من قام ليلة القدر ايمانا و احتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے شب ِقدر میں قیام کیا اس کے پچھلے گنا ہ بخش دئیے جائیں گے۔“

شرح حدیث

شبِ قدر پانےکیلئے کتنا قیام ضروری ہے؟مذکورہ حدیثِ پاک میں شبِ قدر میں عبادت کرنے کی فضیلت بیان کی گئی کہ جو مسلمان اس رات ثواب کی نیت سے قیام کرے گا اس کے گزشتہ گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔ شبِ قدر کی اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے رات کا کتنا حصہ قیام کرنا ضروری ہے۔اس کے متعلقعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’نمازِ عشا جماعت کے ساتھ پڑھنے اور نمازِ فجر بھی جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا پُختہ ارادہ ہونے کی صورت میں یہ فضیلت حاصل ہو جائے گی۔‘‘یعنی جو شخص شب قدر میں عشا کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اور اس کی یہ پکی نیت ہو کہ نمازِ فجر بھی جماعت کے ساتھ ادا کرے گا تو اسے شب قدر کی فضیلت حاصل ہو جائے گی اور اس کے گزشتہ گناہ معاف کردئیے جائیں گے۔عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْبَارِیفرماتے ہیں:”جس نے شبِ قدر میں ایمان اوراﷲتعالیٰ کے یہاں ثواب کی نیت سے عبادت کی چاہے اسے معلوم ہو یا نہ ہو کہ یہ رات شبِ قدر ہے اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے یعنی اس کے صغیرہ گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور کبیرہ گناہ صغیرہ ہو جائیں گے اور اگر اس کے گناہ نہیں ہوں گے تو اس کے درجات بلند کیے جائیں گے۔“فرشتوں کا مسلمانوں کو سلام:عَلَّامَہ اَحْمَد بِنْ مُحَمَّد صَاوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: روایت ہے کہ شب ِ قدر میں سدرۃُ المنتہیٰ کے فرشتے اور حضرت جبرائیلعَلَیْہِ السَّلَامچار جھنڈوں کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور وہ ایک جھنڈا حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے روضۂ انور پر، ایک جھنڈا بیت المقدس کی چھت پر، ایک جھنڈا کعبہ معظمہ کی چھت پر اور ایک جھنڈا طورِ سینا پر لہراتے ہیں اور پھر یہ فرشتے سب مسلمانوں کے گھروں میں تشریف لے جا کر ہر مؤمن مرد و عورت کو سلام کرتے ہیں اور کہتے ہیں:سلام (سلاماﷲ عَزَّ وَجَلَّکا صفاتی نام ہے) تم پر سلامتی بھیجتا ہے مگر جن گھروں میں شرابی یا خنزیر کا گوشت کھانے والا یا (بلاوجہ شرعی) رشتہ کاٹنے والا رہتا ہو ان گھروں میں یہ فرشتے داخل نہیں ہوتے۔مدنی گلدستہ’’شب قدر‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5 مدنی پھول
(1) شبِ قدر میں عبادت کرنے والے کے گزشتہ گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔
(2) شبِ قدر کی فضیلت پانے کے لیے کم از کم اس رات عشا کی نماز جماعت سے ادا کرنا اور فجر کی نماز بھی جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا پختہ اِرادہ ہوناضروری ہے۔
(3) شبِ قدر کی فضیلت پانے کے لیے اِس بات کا علم ہونا ضروری نہیں کہ آج شبِ قدر ہے۔
(4) حضرت جبریل
عَلَیْہِ السَّلَامشبِ قدر میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے روضہ پر، بیت المقدس کی چھت پر، کعبہ معظمہ کی چھت پر اور طورِ سینا پر جھنڈا لہراتے ہیں۔
(5) شبِ قدر میں حضرت جبریل
عَلَیْہِ السَّلَاممسلمانوں کے گھر آتے ہیں اور ہر مؤمن مرد و عورت کو سلام کرتے ہیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں شبِ قدر میں خوب عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1189