Main Icon

باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1192

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:تَحَرَّوْا لَيْلَةَ القَدْرِ فِي الْوِتْـرِ مِنَ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ.

عن عائشة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:تحروا ليلة القدر في الوتـر من العشر الاواخر من رمضان.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“

شرح حدیث

شبِ قدر کو تلاش کرنا چاہیے:مذکورہ تینوں احادیثِ مبارکہ میں شبِ قدر کی تلاش کا ذکر ہے اور اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ شبِ قدر کو کن کن راتوں میں تلاش کیا جائے ۔پہلی حدیثِ پاک میں فرمایا کہ بعض صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو خواب میں شبِ قدر رمضان کی آخری سات راتوں میں دکھائی گئی۔”مطلب یہ ہے کہ کسی صحابی نے خواب دیکھا کہ وہ رمضان کی اکیسویں شب ہے، کسی نے دیکھا کہ تیٔسویں ہے، کسی نے پچیسویں اور کسی نے ستائیسویں یا انتیسویں کہا ہے یعنی آخری عشرہ کی طاق راتیں چونکہ ان میں اکثر راتیں آخری ہفتہ میں ہیں یعنی تیٔسویں سے انتیسویں تک اس لیے آخری ہفتہ ارشاد ہوا۔“ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اس خواب دیکھنے پر رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا خواب آخری سات راتوں کے مطابق ہوگیا ہے:”یعنی اے صحابہ تمہاری خوابیں شخصی تعیین میں تو مختلف ہیں مگر نوعی تعیین میں متفق ہیں کہ ہرشخص نے اسے رمضان کے آخری ہفتہ میں دیکھا“ تو جو شبِ قدر تلاش کرنا چاہے وہ آخری سات راتوں میں تلاش کرے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اس سے معلوم ہوا کہ مؤمن کا خواب معتبر ہے خصوصًا جبکہ نبی کی تصدیق بھی ہوجائے، دیکھو اذان خواب ہی میں صحابہ نےدیکھی تھی جو آج تک اسلام میں جاری ہے بلکہ اسلام کا شعار ہے، ایسے ہی یہ بھی ہے لہذا اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں میں اس کی تلاش کی جائے۔“شب قدر رمضان ہی میں ہے:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ شب قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں اور وہ بھی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ ”اس حدیث سے اتنامعلوم ہوا کہ شبِ قدر ہر سال ماہِ رمضان میں ہوتی ہے اورقرآنِ کریم بھی اس کی تائید فرمارہا ہے کیونکہ ایک جگہ ارشاد ہے:﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ﴾(پ۲، البقرۃ:۱۸۵)(ترجمۂ کنزالایمان:رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اترا)جس سے معلوم ہوا کہ نزولِ قرآن ماہِ رمضان میں ہے دوسری جگہ ارشاد ہے:﴿اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِۚۖ(۱)﴾(پ۳۰، القدر:۱)(ترجمۂ کنزالایمان:بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اتارا)جس سے معلوم ہوا کہ قرآن شب قدر میں نازل ہوا یہ دونوں آیتیں جب ہی جمع ہوسکتی ہیں جبکہ شبِ قدر رمضان میں ہو۔ خیال رہے کہ شبِ قدر کو رب تعالیٰ نے ہم سے چھپالیا تاکہ ہم اس کی تلاش میں بہت راتوں میں عبادات کریں۔تلاش کرنے سے مرادعبادتیں کرنا ہے، حق یہ ہے کہاﷲ تعالٰینے حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو شبِ قدر کا علم دیا مگر اس کے اظہار کی اجازت نہ دی، اسمِ اعظم کی طرح عوام سے اسے چھپا رکھا تاکہ اس کی تلاش رہے اور اچھی چیز کی تلاش بھی عبادت ہے لہذا یہ چھپانا ہمارے لیے بہتر ہے۔شب قدر کو پوشیدہ رکھنے کی حکمتیں:اِمَام فَخْرُ الدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْہَادِیفرماتے ہیں:اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے شبِ قدر کو چند وجوہ کی بنا پر پوشیدہ رکھا ہے: اوّل یہ کہ جس طرح دیگر اشیا کو پوشیدہ رکھا، مثلاًاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے اپنی رضا کو نیکیوں میں پوشیدہ رکھا تاکہ بندے ہر نیک کام میں رغبت کریں، اپنے غضب کو گناہوں میں پوشیدہ رکھا تاکہ بندے ہر گناہ سے بچتے رہیں، اپنے ولی کو لوگوں میں پوشیدہ رکھا تا کہ لوگ سب کی تعظیم کریں، قبولیت دعا کو دعاؤں میں پوشیدہ رکھا تا کہ لوگ ہر دعا میں مبالغہ کریں، اسم اعظم کو اسما میں پوشیدہ رکھا تاکہ لوگ سب اسما کی تعظیم کریں، صلاۃ وسطیٰ کو نماز میں پوشیدہ رکھا تاکہ بندے تمام نمازوں کی پابندی کریں، قبولیت توبہ کوپوشیدہ رکھا تا کہ بندہ توبہ کی تمام اقسام پر ہمیشگی اختیار کرے اور موت کا وقت پوشیدہ رکھا تاکہ بندہ ہر وقت موت سے ڈرتا رہے اسی طرح شب قدر کوبھی پوشیدہ رکھا تا کہ لوگ رمضان المبارک کی تمام راتوں کی تعظیم کریں۔ دوسرا یہ کہ گویااﷲعَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے کہ اگر میں شب قدر کو مُعَیَّن کر(کے تجھ پر ظاہر فرما) دیتا اور یہ کہ میں گناہ پر تیری جرأت بھی جانتا ہوں تواگرکبھی شہوت تجھے اس رات گناہ کی طرف لے آتی اور تو گناہ میں مبتلا ہوجاتا تو تیرا اس رات کو جاننے کے باوجود گناہ کرنا لاعلمی کے ساتھ گناہ کرنے سے بڑھ کر سخت ہوتا پس اس وجہ سے میں نے اسے پوشیدہ رکھا۔ تیسرا یہ کہ میں نے اس رات کو پوشیدہ اس لئے رکھا تاکہ بندہ اس کی طلب میں محنت کرے اور اس محنت کا ثواب بھی کمائے۔ چوتھا یہ کہ جب بندے کو شبِ قدر کا تعین حاصل نہ ہوگا تو وہ رمضان المبارک کی ہر رات میں عبادت کرنے کی کوشش کرے گا اس امید پر کہ ہوسکتا ہے یہی رات شبِ قدر ہو۔شبِ قدر کی علامات:حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ شبِ قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو لیکن شب قدر کون سی رات ہے یہ واضح طورپر نہیں بتایا گیا، اس رات کو پوشیدہ رکھنے میں ہزار ہا حِکمتیں ہیں، جن میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ مسلمان ہررات اسی رات کی جستجو (یعنی تلاش) میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں گزارنے کی کوشش کریں کہ نہ جانے کون سی رات شبِ قدر ہو۔ شبِ قدر کی کچھ علامات بھی احادیث میں بیان ہوئی ہیں:’’یہ مبارک شب کھلی ہوئی، روشن اور بِالکل صاف و شفاف ہوتی ہے، اس میں نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے نہ زیادہ سردی بلکہ یہ رات معتدل ہوتی ہے گویا کہ اس میں چاند کھلا ہوا ہوتا ہے، اس پوری رات میں شیاطین کو آسمان کے ستارے نہیں مارے جاتے، اس رات کے گزرنے کے بعد جو صبح آتی ہے اس میں سورج بغیر شعاع کے طلوع ہوتا ہے اور وہ ایسا ہوتا ہے گویا کہ چودھویں کا چاند۔‘‘شبِ قدر کی ایک علامت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس رات سمندر کا پانی میٹھا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ،سمندرکا پانی میٹھا ہوگیا:حضرت عثمان بن ابی العاصرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکے غلام (جو کشتی بانی کرتا تھا)نے عرض کی:ہر سال ایک رات ایسی آتی ہے جس میں سمندر کا پانی میٹھا ہوجاتا ہے، آپ نے غلام سے فرمایا: جب وہ رات آئے تو مجھے مطلع کرنا، جب رمضان کی ستائیسویں رات آئی تو غلام نے آپ سے عرض کی کہ آج سمندر کا پانی میٹھا ہوچکا ہے۔شب قدر ہمیں کیوں معلوم نہیں ہوتی؟حدیثِ پاک کی شرح میں شب قدر کی کئی علامات بیان ہوئیں، ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ ہماری عمر کے کافی سال گزرے ہر سال شب قدر آتی اور تشریف لے جاتی ہے مگر ہمیں آج تک اس کی علامات نظر نہیں آئیں؟ ا س کے جواب میں علمائے کرام فرماتے ہیں: ان باتوں کا تعلق کشف و کرامت سے ہے، انہیں عام آدمی نہیں دیکھ سکتا صرف وہی دیکھ سکتاہے جس کو بصیرت (یعنی قلبی نظر) کی نعمت حاصل ہو، ہر وقت معصیت کی نجاست میں لت پت رہنے والا گنہگار انسان ان نظاروں کوکیسے دیکھ سکتا ہے۔
آنکھ والا ترے جوبن کا تماشا دیکھے دِیدۂ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے
شب بیداری کس کے لیے جائز نہیں:فقیہِ اعظم حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شبِ قدر میں ایک شب کی عبادت ہزار مہینے کی عبادتوں سے بہتر ہے، یہ نصِ قرآنی سے ثابت ہے مگر یہ اسی وقت ہے کہ شب بیداری کی وجہ سے فرائض و واجبات کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو، بہت سے ریا کار جاہلوں کو میں نے دیکھاہے کہ وہ رات بھر جاگتے ہیں اور اول وقت فجر کی نماز پڑھ کر سو جاتے ہیں، فجر کی جماعت چھوڑ دیتے ہیں، کچھ کچھ ایسے بھی ہیں جو فجر کی نماز بھی نہیں پڑھتے اور قریب یہی حال ظہر کی نماز کا ہوتا ہے یا تو سوتے رہ جائیں گے ظہر کی نماز نہیں پڑھیں گے یا جماعت چھوڑ بیٹھیں گے یہ بہت بڑی محرومی ہے ایسے لوگوں کو شب بیداری جائز ہی نہیں ۔مدنی گلدستہ’’جاگنے کی رات ‘‘کے10حروف کی نسبت سے احادیث مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) بعض صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو رمضان کی آخری سات راتوں میں شب قدر دکھائی گئی۔
(2) شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
(3)
اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے بعض اہم ترین معاملات کو اپنی مشیت سے بندوں پر پوشیدہ رکھا ہے۔
(4) شبِ قدر کو پوشیدہ رکھنے کی ایک حکمت یہ ہے کہ مسلمان شبِ قدر کی تلاش میں ہر رات
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں گزاریں۔
(5)
اﷲتعالیٰ نے حضورِ انورصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شبِ قدر کا علم دیا مگر کچھ حکمتوں کے پیشِ نظر اس کے اظہار کی اجازت نہ دی۔
(6) شبِ قدرکھلی ہوئی، روشن اور بِالکل صاف و شفاف ہوتی ہے،اس میں نہ زیادہ گرمی ہوتی ہے نہ زیادہ سردی بلکہ یہ رات معتدل ہوتی ہے گویا کہ اس میں چاند کھلا ہوا ہوتا ہے۔
(7) شبِ قدر کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس رات سمندر کا پانی میٹھا ہوجا تا ہے۔
(8) شبِ قدر کو عام آدمی نہیں دیکھ سکتا، صرف وہ دیکھ سکتا ہے جس کو بصیرت کی نعمت حاصل ہو۔
(9) شبِ قدر میں ایک شب کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے۔
(10) جو لوگ شب بیداری کی وجہ سے فجر کی نماز چھوڑ دیتے ہیں ان کے لیے شب بیداری جائز نہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں شبِ قدر کی تلاش میں ہر رات عبادت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1192