Main Icon

باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1195

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ:قُلْتُ:يَا رَسُوْلَ اللَّهِ اَرَاَيْتَ اِنْ عَلِمْتُ اَيُّ لَيْلَةٍ لَيْلَةُ القَدْرِ مَا اَقُوْلُ فِيْهَا؟ قَالَ: قُولِيْ :اَللَّهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي.

عن عائشۃ قالت:قلت:يا رسول الله ارايت ان علمت اي ليلة ليلة القدر ما اقول فيها؟ قال: قولي :اللهم انك عفو تحب العفو فاعف عني.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ فلاں رات شب قدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟ ارشاد فرمایا: پڑھو:”اَللَّهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“یعنی اےاﷲ! تو معاف کرنے والا ہے، معافی کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرمادے۔

شرح حدیث

شبِ قدر کو چھپانا سنت ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں شب قدر کی دعا ذِکر کی گئی ہے، حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَانےعرض کیا:یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماگر میں جان لوں کہ فلاں رات شب قدر ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟”یعنی اگر کبھی میری آنکھوں سے حجاب اٹھ جائیں اور میں شجروحجر کو سجدہ کرتے، فرشتوں کو اترتے، شب قدر کا نور پھیلتے، روح فرشتہ کو زمین پر آتے دیکھوں جس سے معلوم کرلوں کہ یہی شب قدر ہے تو میں اس میں دعا کیا مانگوں، معلوم ہوا کہ بعض اولیاکبھی شب قدر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں مگر انہیں بھی چھپانے کا حکم ہے کہ شب قدر کو چھپانا سنت ہے“ حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاکے جواب میں آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: پڑھو ”اَللَّهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي“ یعنی اےاﷲتو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرمادے۔
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’یہ دعا مختصر ہے اور بہت جامع ہے کیونکہ جب رب تعالیٰ نے بندے کو معافی دے دی تو سب کچھ دے دیا، خیال رہے کہ گنہگار گناہوں سے معافی مانگتے ہیں اور نیک کار نیکی کرکے معافی کے خواست گار(طلبگار) ہوتے ہیں کہ خداوندا تیری بارگاہ کے لائق نیکی نہ ہوسکی تو معاف فرمانے والا ہے، معافی پسند کرتا ہے مجھے معافی دے دے،حضرت عائشہ صدیقہ(رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَا) رب تعالیٰ کے فضل سے گناہوں سے محفوظ ہیں پھر بھی معافی مانگنے کا حکم دیا گیا، گناہوں سے معافی نہیں بلکہ وہ معافی جو عرض کی گئی۔‘‘مدنی گلدستہ’’دعا‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہیے:”
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّيیعنی اےاﷲتو معاف کرنے والا ہے معافی کو پسند کرتا ہے پس مجھے معاف فرمادے۔‘‘
(2) بعض اولیاکو شبِ قدر معلوم ہوتی ہے مگر انہیں بھی چھپانے کا حکم ہے کہ شبِ قدر کو چھپانا سنت ہے۔
(3) گناہگار گناہوں سے معافی مانگتے ہیں اورصالحین نیکیاں کرکے معافی کے طلب گار ہوتے ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں آخری عشرہ میں کثرت سے یہ دعا پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1195