Main Icon

باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1194

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَجْتَهِدُ فِيْ رَمَضَانَ مَالَا يَجْتَهِدُ فِيْ غَيْرِهِ،وَفِي الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْهُ،مَالَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ.

عن عائشۃ قالت: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجتهد في رمضان مالا يجتهد في غيره،وفي العشر الاواخر منه،مالا يجتهد في غيره.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجس قدر رمضان میں عبادت کے لیے کوشش فرماتے اتنی دوسرے مہینوں میں نہ فرماتے اور رمضان کے آخری دس دنوں میں (رمضان کے) دیگر ایام کے مقابلے میں زیادہ کوشش فرماتے تھے۔

شرح حدیث

عشا اور فجر جماعت سے پڑھنے کی فضیلت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں احادیثِ مبارکہ میں رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی عبادت کا ذکر ہےاور اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ عبادت فرماتے اور گھر والوں کو بھی عبادت کے لئے جگاتے۔ مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: یعنی اس عشرہ کی راتوں میں قریبًا تمام رات جاگتے تھے تلاوت قرآن، نوافل،ذِکرُاﷲمیں راتیں گزارتے تھے اور ازواجِ پاک کو بھی اس کا حکم دیتے تھے۔ حضورِ انور(صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے تمام رات بیداری و عبادت کبھی نہ کیں، خیال رہے کہ یہاں(حدیث پاک میں موجود لفظ)اَحْيَاسے مراد ہے عبادت کے لیے جاگنا اورلَیْلَۃاس کا ظرف ہے یعنی رات بھر عبادت کے لیے جاگتے،ہوسکتا ہے کہ (حدیث پاک میں موجود لفظ)لَيْلَۃمفعول بہ ہو (اس صورت میں یہ معنی ہوگا کہ) رات کے اوقات کو اپنی عبادت سے زندہ کردیتے یا زندہ رکھے، جو وقتﷲ کی یاد میں گزرے وہ زندہ ہے جو غفلت میں گزرے وہ مُردہ، جامع صغیر میں ہے کہ جو عشا کی نماز جماعت سے پڑھے اس نے گویا شبِ قدر میں عبادت کی، طبرانی نے بروایت حضرت ابو امامہ روایت کی کہ جو نمازِعشا جماعت سے پڑھے وہ گویا آدھی رات عبادت گزار رہا اور جو فجر بھی جماعت سے پڑھ لے تو گویا وہ تمام رات عابد رہا۔آخری عشرہ میں زیادہ عبادت کرنے کی وجہ :حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان کے آخری عشرہ میں بہت زیادہ عبادت کیا کرتے تھے۔ فقیہِ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:یعنی (آخری عشرہ میں) عبادت کے لئے کمر بستہ ہو جاتے، خوب جد و جہد کرتے، جماع وغیرہ سے پرہیز کرتے،اَحْيَاليلسے مراد راتوں کو جاگ کر عبادت میں گزارناہے اس سے یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ پوری رات مکمل عبادت میں بسر کرتے دو ایک یا معدود چند راتیں پوری کی پوری عبادت میں بسر کرنے میں کوئی حرج نہیں یا یہ مراد ہے کہ رات کے اکثر حصوں میں مشغولِ عبادت رہتے۔
مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:حضور انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمرمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بھی کرتے تھے اور عمومًا شب بیداری بھی یا تو اس لیے کہ اس عشرہ میں شبِ قدر ہے یا ا س لیے کہ مہمان جارہا ہے الوداع سامنے ہے جو اوقات مل جائیں غنیمت ہے یا اس لیے کہ مہینہ کا خاتمہ زیادہ عبادتوں پر ہو، بزرگوں کو دیکھا گیا ہے کہ بڑھاپے میں دنیا سے کنارہ کرکے عبادت زیادہ کرتے ہیں کہ اب چلتا وقت ہے جو ہوسکے کرلیں۔مدنی گلدستہ’’عبادت‘‘کے5حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامعام مہینوں کے مقابلے میں رمضان میں بہت زیادہ عبادت کرتے تھے۔
(2) رسول اکرم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان المبارک کے آخری عشرہ کی راتوں میں خود بھی جاگ کر عبادت کرتے اور اپنے گھروالوں کو بھی عبادت کے لیے جگاتے تھے۔
(3) جو وقت
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی یاد میں گزرے وہ زندہ ہے جو غفلت میں گزرے وہ مُردہ۔
(4) جس نے عشا کی نماز جماعت سے پڑھی گویا اس نے شب قدر میں عبادت کی۔
(5) نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآخری عشرہ میں زیادہ عبادت کرتے تھے یاتو اس لیے کہ اس میں شبِ قدر ہے یا اس لیے کہ مبارک مہینہ جارہا ہے جو اوقات مل جائیں غنیمت ہے یا اس لیے کہ مہینے کا خاتمہ زیادہ عبادتوں پر ہو۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں زیادہ سے زیادہ شب بیداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1194