Main Icon

باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1196

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلَى اُمَّتِيْ اَوْ عَلَى النَّاسِ لَاَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه: ان رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم قال: لولا ان اشق على امتي او على الناس لامرتهم بالسواك مع كل صلاة.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اگر مجھے اپنی اُمَّت پر یا (فرمایا) لوگوں پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“

شرح حدیث

مسواک کرنا کب سنت ہے؟مذکورہ حدیثِ پاک میں مسواک کی اہمیت بیان کی گئی ہے۔”شریعت میں مسواک وہ لکڑی ہے جس سے دانت صاف کئے جاتے ہیں، سنت یہ ہے کہ یہ کسی پھول یا پھل دار د رخت کی نہ ہو، کڑوے درخت کی ہو، موٹائی چھنگلی کے برابر ہو، لمبائی بالشت سے زیادہ نہ ہو، دانتوں کی چوڑائی میں کی جائے نہ کہ لمبائی میں، بے دانت والا انسان اور عورتیں انگلی پھیر لیا کریں، مسواک اتنے مقام (ان مواقع) پر سنت ہے: وضو میں،قرآن شریف پڑھتے وقت، دانت پیلے ہونے پر، بھوک یا دیر تک خاموشی یا بے خوابی کی وجہ سے منہ سے بو آنے پر، احناف کے ہاں مسواک سنتِ وضو ہے نہ کہ سنت نماز لہٰذا باوضو آدمی نماز کے لیے مسواک نہ کرے ۔“وضو میں مسواک کی زیادہ تاکید ہے:حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت پرمشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا ”یعنی ان پر فرض کردیتا کہ ہرنماز کے لیے وضو کریں، اس سے معلوم ہوا کہ حضورباذنِ الٰہی احکام کے مالک ہیں جو چاہیں فرض کریں جو چاہیں حرام کہ فرماتے ہیں میں فرض کردیتا نیز ہمارے ہاں نماز سے مراد وضو ہے یعنی ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ خیال رہے کہ وضو میں مسواک کی زیادہ تاکید ہے ورنہ وضو کے علاوہ پانچ جگہ اوربھی مسواک سنت ہے جیسا کہ عرض کیا گیا۔ امام احمد کی روایت میں ہے کہ مسواک کی نماز بغیر مسواک کی ستر نمازوں سے افضل ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1196