باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 7

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اگر مجھے اپنی اُمَّت پر یا (فرمایا) لوگوں پر مشقت کا خوف نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اَنَّ رَسُوْلَ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلَى اُمَّتِيْ اَوْ عَلَى النَّاسِ لَاَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1196 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب بھی نیند سے بیدار ہوتے تو دہن مبارک میں مسواک ملتے (یعنی مسواک سے منہ کو صاف فرماتے)۔“

عَنْ حُذَيْفَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ يَشُوْصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1197 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں: ”ہم رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے، رات میں جس وقتاﷲ عَزَّ وَجَلَّچاہتا آپ بیدار ہوتے، مسواک کرتے اور وضو کرکے نماز پڑھتے۔“

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُوْلِاللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُوْرَهُ فَيَبْعَثُهُ اللهُ مَا شَاءَ اَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوضَّاُ وَيُصَلِّي.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1198 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضورِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”میں نے تمہیں مسواک کی بہت زیادہ تاکید کی ہے۔“

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَكْثَرْتُ عَلَيْكُمْ فِی السِّوَاكِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1199 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا شُرَیح بن ہانیرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں نے اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَاسے پوچھاکہ جب حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمگھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلے کون سا کام کرتے؟ ارشاد فرمایا: ”مسواک۔“

عَنْ شُرَيْحِ بْنِِ هَانِىْءٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: بِاَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَاُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ: بِالسِّوَاكِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1200 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اَشعریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ”میں بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ مسواک کا کنارہ آپصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان اَقدس پر تھا۔“

عَنْ اَبِيْ مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيُ اللهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1201 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”مسواک منہ کوصاف کرتی ہے اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کا سبب ہے۔“

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِّلرَّبِّ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1202 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ حضور اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”فطرت پانچ باتیں ہیں یا (فرمایا) پانچ باتیں فطرت سے ہیں:(1)ختنہ کرنا (2)موئے زیر ناف مونڈنا (3)ناخن کاٹنا (4)بغلوں کے بال اُکھیڑنا (5)مونچھیں تراشنا۔“

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْفِطْرَةُ خَمْسٌ اَوْ خَمْسٌ مِّنَ الفِطْرَةِ:الْخِتَانُ وَالْاِسْتِحْدَادُ وَتَقْلِيْمُ الْاَظْفَارِ وَنَتْفُ الْاِبْطِ وَقَصُّ الشَّارِبِ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1203 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”دس کام فطرت سے ہیں: مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مِسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، اُنگلیوں کے جوڑ دھونا، بغل کے بال دور کرنا، موئے زیرناف مونڈنا، استنجا کرنا۔ راوی (اس حدیثِ پاک کے ایک راوی حضرت مصعبرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ) کہتے ہیں: میں دسواں کام بھول گیاشاید کلی کرنا ہو۔“اس حدیثِ پاک کے ایک راوی حضرت سیدنا وکیعرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:اِنْتِقَاصُ الْمَاءیعنی استنجاء کرنا۔

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:عَشْرٌ مِّنَ الْفِطْرَةِ:قَصُّ الشَّارِبِ وَ اِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ وَالسِّوَاكُ وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ وَقَصُّ الْاَظْفَارِ وَغَسْلُ الْبَـرَاجِمِ وَنَتْفُ الْاِبْطِ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ .قَالَ الرَّاوِي:وَنَسِيْتُ الْعَاشِرَةَ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ الْمَضْمَضَةَ. قَالَ وَکِیْعٌ وَھُوَ اَحَدُ رُوَاۃٍ: اِنْتِقَاصُ الْمَاءِ یَعْنِی الْاِسْتِنْجَاء.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1204 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان

”حضرت سَیِّدُنا عبداﷲبن عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”مونچھیں کٹواؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ۔“

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَحْفُوا الشَّوَارِبَ وَاعْفُوا اللِّحَى.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1205 ، باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان