Main Icon

باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1202

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِّلرَّبِّ.

عن عائشةرضي الله عنها: ان النبي صلى الله عليه وسلم قال:السواك مطهرة للفم مرضاة للرب.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ”مسواک منہ کوصاف کرتی ہے اوراﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کا سبب ہے۔“

شرح حدیث

دین ودنیا کی بھلائی:مذکورہ حدیث پاک میں مسواک کرنے کی دینی اور دنیاوی فضیلت بیان کی گئی ہے ”اس (مسواک کرنے) میں دِین و دنیا کی بھلائی ہے، خیال رہے کہ یہ فضیلت اس مسلمان کو حاصل ہوگی جو عبادت کی نیت سے مسواک کرے، کفار کی مسواک اورمسلمانوں کی عادتًا مسواک اگرچہ منہ تو صاف کردے گی مگر رضائے الٰہی کا ذریعہ نہ بنے گی نیز اگرچہ مسواک میں دنیوی اور دینی بہت فوائد ہیں مگر یہاں صرف دو فائدے بیان ہوئے یا تو اس لئے کہ یہ بہت اہم ہیں یا اس لیے کہ باقی فوائد بھی ان دو میں داخل ہیں، منہ کی صفائی سے معدے کی قوت اور بے شمار بیماریوں سے نجات ہے اور جب رب راضی ہوگیا پھر کیا کمی رہ گئی۔“شیخ عبدالحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ”مسواک رب تعالیٰ کو راضی کرنے والی یا رب تعالیٰ کی پسندیدہ چیز ہے کیونکہ مسواک وضو اور منہ کی پاکیزگی کی تکمیل کا موجب ہے اور منہ مناجات، تلاوت قرآن پاک اور ذکر الٰہی کا آلہ اور ذریعہ ہے۔“مِسواک کرنے کا طریقہ:شیخ طریقت،امیر اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضویدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ20صفحات پر مشتمل رسالے”مسواک شریف کے فضائل“صفحہ 10پر مسواک کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”دانتوں کی چَوڑائی میں مِسواک کیجئے*جب بھی مِسواک کرنی ہو کم از کم تین بار کیجئے *ہر بار دھو لیجئے3مِسواک سیدھے ہاتھ میں اِس طرح لیجئے کہ چھنگلیا یعنی چھوٹی اُنگلی اس کے نیچے اور بیچ کی تین اُنگلیاں اُوپر اور انگوٹھا سِرے پر ہو،پہلے سیدھی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر اُلٹی طرف کے اوپر کے دانتوں پر پھر سیدھی طرف نیچے پھر اُلٹی طرف نیچے مِسواک کیجئے3مُٹھی باندھ کرمِسواک کرنے سے بواسیر ہوجانے کا اندیشہ ہے3مِسواک وضو کی سنَّتِ قبلیہ ہے(یعنی مسواک وضو سے پہلے کی سنّت ہے وُضو کے اندر کی سنّت نہیں لہٰذا وضو شروع کرنے سے قَبل مسواک کیجئے پھر تین تین بار دونوں ہاتھ دھوئیں اور طریقے کے مطابق وضو مکمّل کیجئے) البتّہ سنَّتِ مُؤَکَّدَہ اُ سی وقت ہے جبکہ منہ میں بدبو ہو۔“مِسواک کرنے کی25 بَرکتیں:حضرتِ علَّامہ سیِّد احمد طَحطاوی حنفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیحاشِیَۃُ الطَّحْطاوی“ میں مِسواک کے فوائد وفضائل یوں نقل فرماتے ہیں: ”مِسواک شریف کو لازِم کرلو، اِس سے غفلت نہ کرو۔ اِسے ہمیشہ کرتے رہو کیونکہ اِس میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی خوشنودی ہے *ہمیشہ مِسواک کرتے رہنے سے روزی میں آسانی اور برَکت رہتی ہے*دَردِ سر دُور ہوتا ہے *بلغم کو دُور کرتی ہے*نظر کو تیز کرتی ہے*مِعدے کودُرست رکھتی ہے*جسم کو توانائی بخشتی ہے*حافظہ( قُوتِ یادداشت) کو تیز کرتی ہے اور عقل کو بڑھاتی ہے*دل کو پاک کرتی ہے *نیکیوں میں اِضافہ ہوجاتا ہے*فرشتے خوش ہوتے ہیں*مِسواک شیطان کو ناراض کردیتی ہے*کھانا ہضم کرتی ہے*بچو ں کی پیدائش میں اضافہ ہوتا ہے*بڑھاپا دیر میں آتا ہے*بدن کواﷲ عَزَّ وَجَلَّکی اِطاعت کے لیے قوت دیتی ہے*پیٹھ کو مضبوط کرتی ہے *نزع میں آسانی اور کلمۂ شہادَت یاد دلاتی ہے*قِیامت میں نامَۂ اعمال سِیدھے ہاتھ میں دِلاتی ہے*پُل صراط سے بجلی کی طرح تیزی سے گزار دے گی* حاجات پوری ہونے میں اُس کی اِمداد کی جاتی ہے*قبر میں کشادگی کردی جاتی ہے*اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں *دنیا سے پاک صاف ہوکررخصت ہوتا ہے*سب سے بڑھ کر فائدہ یہ ہے کہ اس میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکی رِضا ہے۔ “مدنی گلدستہ’’مسواک‘‘کے5حروف کی نسبت سے مذکورہ احادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) مسواک وہ لکڑی ہے جس سے دانت صاف کئے جاتے ہیں،سنت یہ ہے کہ یہ کسی پھول یا پھل دار درخت کی نہ ہوبلکہ کڑوے درخت کی ہو۔
(2) مسواک اور وضو کا پانی سرہانے رکھ کر سونا سنت ہے اور یہ خدمت بیوی کے ذمہ ہے۔
(3) مسواک وضو سے پہلے کی سنّت ہے وُضو کے اندر کی سنّت نہیں لہٰذا وضو شروع کرنے سے قَبل مسواک کی جائے۔
(4) مسواک کے ستر فائدے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے مرتے وقت کلمہ نصیب ہوتا ہے۔
(5) مسواک کا سب سے بڑھ کر فائدہ یہ ہے کہ اس سے رضائے الٰہی نصیب ہوتی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں مسواک کی سنت پر پابندی سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1202