Main Icon

باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1224

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:لَا يَتَقَدَّمَنَّ اَحَدُكُم رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ اَوْ يَوْمَيْنِ اِلَّا اَنْ يَّكُونَ رَجُلٌ كَانَ يَصُوْمُ صَوْمَهُ فَلْيَصُمْ ذٰلِكَ الْيَوْمَ.

عن ابی هريرة رضی اﷲ عنہ عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم قال:لا يتقدمن احدكم رمضان بصوم يوم او يومين الا ان يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے مگرجو اِس روزے کا عادی ہو وہ اِس دن روزہ رکھ سکتا ہے ۔ “

شرح حدیث

تفہیم البخاری میں ہے:”جس شخص کی عادت ہوکہ وہ جمعرات کومثلاًروزہ رکھا کرتا ہے اور اتفاق ایسا ہواکہ وہی دن شعبان کاآخری دن تھایا اس نے نذرمانی کہ وہ اس دن روزہ رکھے گا یا اس کے ذمہ قضاتھی اوروہ اس دن ادا کرنا چاہتا ہے یا اس دن کفارہ کا روزہ رکھتاہے جائز ہے اورروزہ رکھنے میں کراہت نہیں ۔البتہ رمضان کے روزہ کی نیت سے ایک دودن پہلے روزہ رکھنامکروہ ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1224